بار بار جمائی آنا یا دن بھر تھکن محسوس کرنے کے باعث مسلسل کافی پر انحصار کرنا صرف عام تھکن نہیں بلکہ نیند کی کمی کی علامت بھی ہو سکتا ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق ایسی علامات اکثر اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ جسم کو مطلوبہ آرام نہیں مل رہا، جو وقت کے ساتھ سنگین طبی مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔ نیند کے عالمی ماہرین نے واضح کیا ہے کہ بار بار جمائی لینا دراصل ناکافی اور غیر معیاری نیند کی ایک اہم علامت ہے۔
تحقیقات کے مطابق بالغ افراد کے لیے روزانہ 7 سے 8 گھنٹے معیاری نیند ضروری ہے۔ اس سے کم نیند لینے سے ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، دل کے امراض، موٹاپا، ڈپریشن اور فالج جیسے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نیند کی کمی صرف فرد کی صحت تک محدود نہیں رہتی بلکہ روزمرہ زندگی پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ کام کے دوران توجہ کی کمی، غلط فیصلے اور گاڑی چلاتے ہوئے غنودگی حادثات کا سبب بن سکتی ہے۔
مزید یہ کہ مسلسل نیند کی کمی دماغی کارکردگی کو بھی متاثر کرتی ہے، جس کے باعث یادداشت، ردعمل اور توجہ میں کمی آ سکتی ہے۔ بعض اوقات دماغ مختصر لمحوں کے لیے "مائیکرو سلیپ” کی کیفیت میں چلا جاتا ہے جو خاص طور پر ڈرائیونگ کے دوران انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
نیند کے مسائل کی وجوہات میں ذہنی دباؤ، غیر صحت مند طرزِ زندگی، سونے سے پہلے کیفین یا دیگر مشروبات کا استعمال، جسمانی سرگرمی کی کمی اور بعض طبی بیماریاں شامل ہو سکتی ہیں۔
ماہرین صحت کا مشورہ ہے کہ اگر کسی شخص کو مسلسل دن میں غنودگی یا نیند کی کمی محسوس ہو تو اسے نظر انداز نہ کیا جائے بلکہ بروقت طبی معائنہ کروا کر اصل وجہ معلوم کی جائے تاکہ بروقت علاج ممکن ہو سکے۔
