وائٹ ہاؤس نے امریکی صدر اور پاکستانی فوجی سربراہ کے درمیان ٹیلی فونک بات چیت کی تصدیق کر دی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ یہ حساس سفارتی بات چیت ہے اور اس پر میڈیا کے ذریعے تبادلۂ خیال نہیں کیا جائے گا۔
ترجمان نے واضح کیا کہ بدلتے ہوئے حالات میں میٹنگز کے حوالے سے قیاس آرائیوں کو حتمی نہیں سمجھنا چاہیے جب تک وائٹ ہاؤس کی جانب سے باقاعدہ اعلان نہ ہو۔
امریکی میڈیا کے مطابق پاکستان کے ذریعے ایران کو 15 نکات پہنچائے جا چکے ہیں، اور اس دوران اعلیٰ سطحی رابطے بھی ہوئے ہیں۔ وزیرِ خارجہ نے ایرانی ہم منصب سے گفتگو میں امن، سلامتی اور استحکام کے لیے مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا۔ دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ اگر متعلقہ فریقین راضی ہوں تو پاکستان مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔
سابق اطلاعات میں یہ بھی سامنے آیا تھا کہ پاکستان ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے اور تعلقات کو معمول پر لانے میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، اور سینئر حکام مختلف فریقین کے درمیان رابطے کروا رہے ہیں۔
