بکرمی کیلینڈر

Spread the love

دیسی کیلینڈر کا آغاز 100 قبل مسیح میں ہوا۔ اس کیلنڈر کا اصل نام بکرمی کیلنڈر ہے۔ اس کیلینڈر کا آغاز ہندوستان کے ایک بادشاہ راجہ بکرم اجیت کے دور میں ہوا۔ راجا بکرم کے نام سے یہ بکرمی سال مشہور ہوا۔ اس شمسی تقویم میں سال وساکھ کے مہینے سے شروع ہوتا ہے۔

365 دنوں کے اس کیلینڈر کے 9 مہینے 30 دن کے ہوتے ہیں اور ایک مہینہ وساکھ 31 دن اور دو مہینے جیٹھ اور ہاڑ 32 دن کے ہوتے ہیں۔ بکرمی کیلنڈر کا آغاز ویساکھ یا بیساکھ کے مہینے سے ہوتا ہے اور چیت اس سال کا آخری مہینہ کہلاتا ہے۔ بچپن میں دیکھتے تھے کہ کیلینڈر پر انگریزی اور اردو مہینوں کے نام کے ساتھ دیسی /بکرمی مہینوں کے نام بھی لکھے ہوتے تھے۔ اردو اور انگریزی مہینوں کے نام تو ہر خانے کے ساتھ بدلتے تھے جب کہ دیسی مہینہ آدھا ایک انگریزی ماہ میں باقی آدھا دوسرا مہینے میں درج ہوتا۔ اب ان کی ترتیب جنوری کے مہینے کی تاریخ والے خانے سے کچھ یوں درج ہوتی تھیں:٭  پوہ/ماگھ

٭  ماگھ/پھاگن

٭  پھاگن/چیت

٭  چیت /بیساکھ

٭  بیساکھ/جیٹھ

٭  جیٹھ/ہاڑ

٭  ہاڑ /ساون

٭  ساون /بھادوں

٭  بھادوں / سوہ

٭  اسوہ /کاتک

٭  کاتک/مگھر

٭  مگھر /پوہ

یوں یہ پوہ کا مہینہ دسمبر کے آخری دو ہفتے سے شروع سے آخر انگریزی مہینے جنوری کے پہلے دو ہفتے میں آتا ہے۔ 

تب گھر میں دیوار پر لگے کیلینڈر کو آتے جاتے کھڑے ہوکر دیکھتے پڑھتے ہوئے دیسی مہینوں کی یہ ترتیب زبانی یاد ہوگئی جو ابھی بھی یاد ہے۔ یہ اوپر والی ترتیب میں نے بچپن کی یاد کی ہوئی یونہی یادداشت کے سہارے لکھی ہے۔ یہاں ایک بات واضح ہو کہ یہ مہینوں کے نام اصل میں بدلتے موسم کے مطابق ہوتے ہیں۔ بکرمی کیلینڈر میں ہر مہینے کا نام موسمی تبدیلی کا نام ہے جیسے ہاڑ سیلابوں کا، ساون بارشوں کا ، بھادوں تیز بارشوں کا وغیرہ۔۔ پنجابی گانا سُنا تو ہوگا:

’’چلے پُرے دی ہوا اْتوں پوہ دا مہینہ

   میرے متھے تے پسینہ۔۔۔۔

تو یہ بارہ مہینے نہیں بارہ موسموں کے ہی نام ہیں اور ایک بات جو ہمارے ملک کے ایک سابق وزیراعظم نے کہی تھی کہ پاکستان میں بارہ موسم پائے جاتے ہیں ، یہ مذاق نہیں کیا تھا انھوں نے ٹھیک کہا تھا کہ اللہ نے پاکستان کو بارہ موسم دیے ہیں۔ اب عام عوام کو تو یہی معلوم ہے کہ سردی گرمی بہار خزاں چار ہی موسم ہوتے ہیں۔ لیکن یہ بات بالکل ٹھیک ہے کہ پاکستان کو اللہ نے بارہ موسم دیے ہیں، اب یہ عام آدمی کی کم علمی کہہ لیں کہ اسے دیسی یا بکرمی کیلنڈر سے واقفیت نہیں۔ اس میں ہر مہینے میں موسم کی کیفیت اور حدت الگ الگ ہوتی ہے۔ ان دیسی بکرمی مہینوں کے نام اور ان کی انگریزی مہینوں میں موجودگی درج ذیل ہے:

پنجابی بکرمی دیسی مہینوں کے نام:

1۔پوہ Poh              اخیر وسط دسمبر تا اوّل وسط جنوری

2۔ماگھ Magh        اخیر وسط جنوری تا اوّل وسط فروری

3۔پھگن/پھاگن          اخیر وسط فروری تا اوّل وسط مارچ

4۔چیت Chet          اخیر وسط مارچ  تا اوّل وسط اپریل

5۔وساکھ /بیساکھ      Vesakh   اخیر وسط اپریل  تا اوّل وسط مئی

6۔ جیٹھ Jaith         اخیر وسط مئی  تا اوّل وسط جون

7۔ہاڑھ  Haarh       اخیر وسط جون  تا اوّل وسط جولائی

8۔ ساون  Sawan   اخیر وسط جولائی  تا اوّل وسط اگست

9۔ بھادوں Bhadon           اخیر وسط اگست  تا اوّل وسط ستمبر

10۔ اَسو  Assu       اخیر وسط ستمبر  تا اوّل وسط اکتوبر

11۔کتک  Katak    اخیر وسط ستمبر  تا اوّل وسط نومبر

12۔مگھر Magghar         اخیر وسط نومبر  تا اوّل وسط دسمبر

پنجابی جنتری وِچ دِن دی ونڈھ

گھڑی کے مطابق اک پہر تین گھنٹوں کا ہوتا ہے اور ایک دن میں آٹھ پہر ہوتے ہیں۔ پنجابی جنتری میں ایک دن کو آٹھ پہروں میں بانٹا جاتا ہے ان آٹھ پہروں کے نام اور ان پہروں کی تفصیل کچھ یوں ہے:

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے