یہ 6ستمبر 1965ء کا دن ہے۔ ابھی پو پھٹ رہی ہے۔ ماحول میں کچھ خنکی ہے ۔اچانک لاہور کے نزدیک واقع پاک بھارت سرحد پہ تعینات پاکستان رینجرز کے جوانوں کو اندھیرے میں چند سائے نظر آئے۔
وہ ابھی انھیں عقابی نظروں سے تول رہے تھے کہ اجنبی لوگوں کی جانب سے فائرنگ ہونے لگی۔جلد ہر جگہ یہ خبر پھیل گئی کہ بھارت نے پاکستان پر حملہ کر دیا ہے۔ حملہ آورا فواج کہیں زیادہ بڑی تھیں اور اُن کے پاس لاتعداد اسلحہ بھی تھا۔ مگر پاکستان کی مہارت و دلیری سے لیس افواج نے دشمن کو جنگ میں ایسا مزہ چکھایا کہ وہ اپنے زخم چاٹتا دم دبا کر واپس فرار ہو گیا۔اُس شکست سے بھارتی حکمران طبقے نے کوئی سبق نہیں سیکھا اور وقتاً فوقتاً بھارتی افواج اپنی طاقت کے زعم میں پاکستان پہ حملہ کرتی رہیں۔ افواج پاکستان نے بھی مگر ہر بار عدو کو ایسی عبرت ناک شکست دی کہ اگلے کئی برسوں تک اُسے سرزمین پاک اپنے قدموں سے ناپاک کرنے کی جرات نہ ہوئی۔ آخری بار دونوں پڑوسی مئی 2025ء کی لڑائی میں باہم ٹکرائے۔یہ تو ایسا زبردست ٹکراؤ تھا کہ نہ صرف مغرور ومتکبر بھارتی وزیراعظم کی سٹّی گم ہوئی بلکہ پاکستان بین الاقوامی سطح پر ایک طاقتور ملک بن کر ابھر آیا۔
جب 7 مئی 2025ء کی ابتدائی ساعت میں پاک فضائیہ کے J-10CE اور JF-17 جنگی طیارے ہنگامی طور پر روانہ ہوئے، تو چند ہی مبصرین کو اندازہ تھا کہ یہ معرکہ فضائی جنگوں کی عالمی تاریخ کے اہم ترین واقعات میں سے ایک بن جائے گا۔ چند گھنٹوں کے اندر بھارت اور پاکستان کی سرحد پر بصری حد سے پرے (بی وی آر) فضائی جنگ کا ایک ایسا مقابلہ شروع ہو گیا جو دہائیوں میں نہیں دیکھا گیا تھا اور جس کا ملبہ متعدد بین الاقوامی ذرائع نے بھارتی فضائیہ کے رافیل سمیت دیگر طیاروں کی صورت شناخت کیا جو پنجاب کے علاقے میں بکھرا ہوا تھا۔
اس تباہی کا ذمے دار ہتھیار چین ساختہ PL-15 فضا سے فضا میں مار کرتا میزائل تھا۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ صرف ایک طیارے کے گرائے جانے کی کہانی نہیں، یہ اس امر کا افتتاحی باب تھا کہ دنیا کس طرح پاکستانی افواج کی ذہانت و بہادری، چینی فوجی ٹیکنالوجی کی جدتوں، مغربی پلیٹ فارموں کی بالادستی کی حدود اور جنوبی ایشیا میں طاقت کے بدلتے توازن کو دیکھتی ہے۔یہ تنازع جو بھارت میں ’’آپریشن سندور‘‘ اور پاکستان میں ’’آپریشن بنیان المرصوص‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، 7 سے 10 مئی 2025ء تک چار دن جاری رہا۔ امریکہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی نے پھر معرکہ آرائی روک دی۔ یہ 22 اپریل 2025ء کو بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہوئے ایک دہشت گردانہ حملے کے بعد شروع ہوا جس میں 26 شہری ہلاک ہوئے تھے۔ ردِعمل میں بھارت نے پاکستانی کے زیرِ انتظام علاقے میں نو مقامات پر حملے کیے جنھیں اب بھی بھارتی اپوزیشن وزیراعظم مودی کا سیاسی ڈرامہ قرار دیتی ہے۔ یہ بہرحال ایک ایٹمی ریاست کی طرف سے دوسری ایٹمی ریاست کے علاقے کے خلاف فضائی طاقت کا محض دوسرا معلوم براہِ راست استعمال تھا…ایک ایسی درجہ بندی جو مئی2025ء کے اِس تصادم کو تاریخی طور پر غیر معمولی مقام دیتی ہے۔ یہ واقعہ اِس حقیقت سے مزید اہم ہو جاتا ہے کہ نتیجے میں فرانس ساختہ رافیل فائٹر جیٹ کا جنگ میں پہلا نقصان ہوا اور جس کے اثرات برصغیر کی حدود سے کہیں آگے تک پھیل گئے۔افواج ِ پاکستان نے مئی 2025ء میں جو کچھ پیش کیا وہ انفرادی چینی پلیٹ فارموں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مربوط ’’ملٹی ڈومین کلِ چین‘‘ (chain kill ) تھا، جس کی مکمل اہمیت کو عالمی ہتھیاروں کی منڈی نے بعد میں جا کر سمجھا۔7 مئی 2025ء کی فضائی جنگ کی درست ازسرنو تشکیل مشکل ہے کہ نہ تو بھارت اور نہ ہی پاکستان نے مکمل سرکاری تفصیل فراہم کی ہے۔
تاہم جس امر کا معقول اعتماد کے ساتھ تعین کیا جا سکتا ہے، وہ 2 اگست 2025ء کو شائع ہوئی رائٹرز کی رپورٹ اور متعدد آزاد تجزیے ہیں۔اُن سے ثابت ہے کہ پاکستان ایئر فورس کے طیاروں نے PL-15 میزائلوں کا استعمال کیا جنھوں نے بھارتی رافیل مار گرائے۔ بعد میں فرانسیسی انٹیلی جنس کے ایک سینئر ذریعے نے اس نقصان کا اعتراف کیا۔ عسکری ویب سائیٹ ،دی ایوی ایشنسٹ نے رائٹرز کی تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ PL-15 میزائل تقریباً 200 کلومیٹر کے فاصلے سے فائر کیا گیا تھا۔
اِس معرکے کی اہمیت جتنی میزائل میں ہے، اتنی ہی اُس کی ’’کلِ چین ‘‘ بھی رکھتی ہے۔ متعدد بین الاقوامی رپورٹوں کی رو سے پاکستانی حکام کے مطابق پاک فضائیہ نے گراؤنڈ ریڈاروں، ایئر بورن ارلی وارننگ اینڈ کنٹرول (اواکس) پلیٹ فارموں اور خلائی سیّاروں سے حاصل ہونے والے سینسر ان پٹس کو ایک ڈیٹا لنک کے ذریعے باہم مربوط کر دیا تھا۔
اس کی بدولتJ-10CE کے پائلٹس کو اپنے ریڈار’’ لوایمیشن موڈ‘‘ پر رکھتے ہوئے طویل فاصلے کے معرکے انجام دینے کی سہولت مل گئی۔ اِس امر نے بھارتی طیاروں کو اُن ریڈار وارننگ سگنلز سے محروم کر دیا جن پر وہ آنے والے میزائل کا پتا لگانے اور بچنے کے لیے عام طور پر انحصار کرتے ہیں۔ سوئس ملٹری ہسٹری انسٹی ٹیوٹ (CHPM) نے اپنے جنوری 2026ء کے جائزے میں نوٹ کیا کہ J-10CE اور JF-17 طیاروں کے پاس یہ اختیار موجود تھا کہ وہ اپنے ریڈار بند رکھیں اور پاکستانی فضائی حدود کے عقبی حصے میں اڑتے اور ’’صعب ائیر آئی‘‘ سے لیس طیاروں کے فراہم کردہ ہدف کا ڈیٹا استعمال کرتے ہوئے PL-15 میزائل فائر کردیں۔ باہمی اشتراک کے اِس ماڈل نے بھارتی دفاعی نظام کو آنے والے خطرے سے موثر طور پر بے خبر رکھا۔
