کینیڈا اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے دوطرفہ اقتصادی تعلقات، تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے جامع اقتصادی شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے تحت متحدہ عرب امارات کو کینیڈا کی 99 فیصد سے زائد موجودہ برآمدات پر محصولات میں کمی یا ان کا خاتمہ کیا جائے گا۔شِنہوا کے مطابق یہ معاہدہ کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی اور ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان کی اوٹاوا میں ملاقات کے موقع پر طے پایا۔ معاہدے کے لیے مذاکرات ریکارڈ 47 دن میں مکمل کیے گئے، جو دونوں ممالک کے لیے کسی آزاد تجارتی معاہدے پر مذاکرات کی مختصر ترین مدت ہے۔کینیڈین وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق معاہدے پر مکمل عملدرآمد کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے زیادہ مستحکم اور قابلِ پیش گوئی ماحول پیدا ہوگا، جبکہ غیر محصولات رکاوٹوں میں بھی کمی لائی جائے گی۔ اس سے صنعتی، زرعی، جنگلات، ماہی گیری، سمندری خوراک، ماحولیاتی اور انجینئرنگ سمیت مختلف شعبوں میں کینیڈین اشیا اور خدمات کی منڈیوں تک رسائی بڑھے گی۔ معاہدہ 2027 میں نافذ ہونے کی توقع ہے۔بیان کے مطابق ابوظہبی کے ولی عہد کا کینیڈا کا یہ پہلا دورہ دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات میں اہم پیش رفت ہے۔ اس دورے سے کینیڈا میں 70 ارب کینیڈین ڈالر (50 ارب امریکی ڈالر) کی سرمایہ کاری کے لیے متحدہ عرب امارات کے عزم کو آگے بڑھانے میں بھی مدد ملے گی۔ اس سرمایہ کاری کا اعلان نومبر 2025 میں مارک کارنی کے دورہ ابوظہبی کے موقع پر کیا گیا تھا۔دونوں ممالک نے تجارتی اور توانائی کے شعبوں میں تعاون سے متعلق متعدد انتظامات کے علاوہ دفاعی تعاون اور سفارتی تربیت کے حوالے سے دو مفاہمتی یادداشتوں پر بھی دستخط کیے۔ اس موقع پر حوالگیِ ملزمان کے معاہدے اور باہمی قانونی معاونت کے معاہدے کے لیے مذاکرات شروع کرنے کا اعلان بھی کیا گیا.
کینیڈا اور متحدہ عرب امارات کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ طے، اقتصادی تعاون کے فروغ پر اتفاق
