ماہرین صحت کے مطابق چیا سیڈز (تخمِ داؤدی) غذائیت سے بھرپور بیج ہیں جن میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز، فائبر، پروٹین، وٹامنز اور معدنیات موجود ہوتے ہیں۔ یہ ہاضمہ بہتر بنانے، جسم میں سوزش کم کرنے اور وزن قابو میں رکھنے میں مدد دیتے ہیں، مگر ہر شخص کے لیے یہ یکساں موزوں نہیں ہیں۔
طبی ماہرین نے پانچ ایسے افراد کی نشاندہی کی ہے جنہیں چیا سیڈز استعمال کرنے میں احتیاط کرنی چاہیے یا مکمل پرہیز کرنا چاہیے:
- غذائی نالی کی تنگی یا نگلنے میں مشکل والے افراد: چیا سیڈز پانی میں بھگانے پر کئی گنا پھول جاتے ہیں، خشک حالت میں استعمال کرنے سے غذائی نالی میں پھنسنے کا خطرہ ہو سکتا ہے، اس لیے ہمیشہ پہلے بھگو کر استعمال کریں۔
- آئی بی ایس (آنتوں کے سینڈروم) کے مریض: اچانک زیادہ فائبر لینے سے پیٹ پھولنا، گیس اور درد بڑھ سکتا ہے۔
- خون پتلا کرنے والی ادویات استعمال کرنے والے افراد: چیا سیڈز میں موجود اومیگا تھری خون پتلا کرنے کی خصوصیت رکھتا ہے، لہٰذا ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے۔
- شدید ہاضمے کے مسائل والے مریض: جیسا کہ گیسٹرو پیریسس یا دیگر موٹیلٹی ڈس آرڈرز، جہاں جیلی نما فائبر ہاضمے کو مزید مشکل بنا سکتا ہے۔
- الرجی والے افراد: جو لوگ بیجوں سے الرجی رکھتے ہیں، انہیں چیا سیڈز استعمال کرنے سے پہلے احتیاط کرنی چاہیے۔
ماہرین غذائیات کا مشورہ ہے کہ چیا سیڈز زیادہ تر لوگوں کے لیے محفوظ اور فائدہ مند ہیں، مگر انہیں صحیح طریقے اور مناسب مقدار میں استعمال کرنا ضروری ہے۔
چیا سیڈز استعمال کرنے کا درست طریقہ:
- آغاز ایک کھانے کے چمچ سے کریں۔
- استعمال سے قبل بیجوں کو پانی، دہی یا اسموتھی میں بھگوئیں۔
- آہستہ آہستہ مقدار بڑھا کر دو کھانے کے چمچ تک لے جائیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی کو صحت کے مسائل ہوں تو روزمرہ غذا میں چیا سیڈز شامل کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں۔
