ایک ایسا خلا جو شاید کبھی پُر نہ ہو سکے۔ الطاف حسن قریشی کی وفات نے علمی، ادبی اور صحافتی حلقوں کو گہرے دکھ میں مبتلا کر دیا ہے۔ 16 مئی کی شام ان کی رحلت کی خبر سامنے آئی جس کے ساتھ ہی اردو صحافت کے ایک درخشاں عہد کے اختتام کا اعلان بھی گویا ہو گیا۔ وہ 96 برس کی بھرپور زندگی گزارنے کے بعد اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئے۔
الطاف حسن قریشی اردو زبان کے ممتاز دانشور، جادو بیاں نثر نگار اور صحافت میں ایک معتبر حوالہ تھے۔ انہوں نے تقریباً چھ دہائیوں تک فکری صحافت کو نہ صرف فروغ دیا بلکہ اسے ایک مضبوط اور باوقار روایت میں ڈھالا۔ ان کی رحلت سے اردو ادب اور صحافت کی دنیا ایک ایسے چراغ سے محروم ہو گئی ہے جس کی روشنی سے کئی نسلیں فیضیاب ہوئیں۔
وہ ایک ایسی شخصیت تھے جنہوں نے صحافت کو محض خبر نگاری نہیں بلکہ ایک فکری مشن کے طور پر اپنایا۔ ان کی تحریروں میں گہرائی، توازن اور شائستگی نمایاں تھی، جبکہ اختلافِ رائے کے باوجود ان کے اسلوب میں ہمیشہ وقار برقرار رہتا تھا۔
الطاف حسن قریشی کے ادارتی سفر کی سب سے بڑی پہچان ’’اردو ڈائجسٹ‘‘ ہے، جو صرف ایک جریدہ نہیں بلکہ ایک فکری درسگاہ کے طور پر جانا جاتا رہا۔ اس پلیٹ فارم نے نہ صرف معیاری ادب اور تحقیق کو فروغ دیا بلکہ مختلف طبقات کے قارئین کو فکری طور پر قریب لانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
ان کی صحافتی زندگی کا نمایاں پہلو اصول پسندی اور نظریاتی استقامت تھا۔ مختلف ادوارِ حکومت میں انہوں نے اپنے قلم کو اصولوں کے تابع رکھا اور کبھی ذاتی یا وقتی مفادات کو ترجیح نہیں دی۔
وہ ایک کم گو، نرم مزاج اور منکسر المزاج انسان تھے، مگر ان کی تحریر میں غیر معمولی طاقت اور اثر پایا جاتا تھا۔ انٹرویوز اور تحریری کام میں ان کی یادداشت اور گرفت اس قدر مضبوط تھی کہ ان کے کام کو ایک حوالہ سمجھا جاتا رہا۔
الطاف حسن قریشی نے نہ صرف صحافت کو وقار بخشا بلکہ کئی نوجوان لکھاریوں کی رہنمائی بھی کی۔ ان کی تربیت اور حوصلہ افزائی سے متعدد نئے نام ابھرے جنہوں نے بعد میں صحافتی دنیا میں اپنی شناخت قائم کی۔
ان کی وفات کے ساتھ ایک پورا صحافتی عہد اپنے اختتام کو پہنچا، تاہم ان کی تحریری میراث، فکری ورثہ اور صحافتی خدمات آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہیں گی۔
