پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ خطے میں قیام امنِ پر وزیرِ اعظم، صدرِ مملکت، فیلڈ مارشل اور مسلح افواج کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔
قومی اسمبلی اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ امریکا ایران مفاہمتی یادداشت پر دستخط تاریخی پیشرفت ہے، ایسے عناصر موجود ہیں جو امن کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان جنگ کی قیمتوں کو اچھی طرح جانتا ہے، ہم نے دہشت گردی کا مقابلہ کیا ہے، پاکستان نے ہمیشہ امن کا مطالبہ کیا، جب امن ہوتا ہے تو ملک ترقی کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی طرف سے آپریشن سندور ٹو کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، مغربی سرحدوں پر دشمن گھات لگائے بیٹھا ہے، حکومت کے ساتھ طے کیا ہے کہ قومی دفاع کے لیے اپنا حصہ دیں گے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ وفاق کو معاشی مشکلات ہیں تو صوبوں کو بھی معاشی مشکلات ہیں، 18 ویں ترمیم کے باوجود کسی صوبے کو اپنا شیئر نہیں دیا گیا۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ صوبائی حکومتوں نے بار بار قربانی دی اور آج بھی دے رہے ہیں، حکومت کے ساتھ مل کر مختلف مسائل کا آئینی حل نکالا، خیبر پختون خوا نے بھی اپنے سیاسی مسائل کو ایک طرف رکھ کر فیصلہ کیا، کے پی حکومت نے قومی مفاد میں حصہ ڈالنے کا فیصلہ کیا، پی ٹی آئی کے فیصلے کو اس فلور پر ویلکم کرتا ہوں، اگر اسی انداز میں قومی مفاد کے لیے کام کرتے رہے تو ہر مشکل کا مقابلہ کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کام کرتا ہے، دنیا اس بات کو مانتی ہے، دنیا کہہ رہی ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ بہترین منصوبہ ہے، غربت کا مقابلہ کرنا ہے تو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم نہیں بڑھانا چاہیے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام نے لاکھوں گھرانوں کی مدد کی ہے، حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ بی آئی ایس پی میں اضافہ ہو گا، وزیرِ اعظم نے پراپیگنڈے کے باوجود بی آئی ایس پی کو آگے بڑھانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس پروگرام نے سیلاب اور کورونا میں بہترین کام کیا، جس طرح بی آئی ایس پی کو ٹارگٹ کیا گیا یہ افسوسناک اور شرمناک ہے۔
