مذہبی آزادی، انسانی حقوق اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے عزم کا اعادہ
رپورٹ: محبوب علی شیخ
کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں کمیونٹی رہنماؤں عامر خان اور ساجد خان کی جانب سے امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (USCIRF) کے چیئرمین ڈاکٹر آصف محمود کے اعزاز میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں کینیڈا کے مختلف سیاسی، سماجی، مذہبی اور بین المذاہب حلقوں سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
تقریب میں پاکستانی نژاد کینیڈین اراکین پارلیمنٹ اقرا خالد، سلمیٰ زاہد اور رانا اسلم، کینیڈین ایم پی پیز شیرف سباوی اور دیپک آنند، برامپٹن کے میئر پیٹرک براؤن، ظفر چوہدری، مرزا نسیم بیگ سمیت مختلف مذاہب اور بین المذاہب تنظیموں کے رہنماؤں، کمیونٹی نمائندوں اور سابق میئر بونی کرومبیسمیت دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔
تقریب کے دوران مقررین نے ڈاکٹر آصف محمود کی بین الاقوامی سطح پر مذہبی آزادی، انسانی حقوق اور کمزور و محروم طبقات کے تحفظ کے لیے خدمات کو سراہا۔
کینیڈین اراکین پارلیمنٹ اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں نے ڈاکٹر آصف محمود کو ایک معتبر فکری اور سماجی رہنما قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بطور چیئرمین USCIRF دنیا بھر میں مذہبی آزادی کے فروغ، مذہبی اقلیتوں کے تحفظ اور انسانی حقوق سے متعلق اہم مسائل کو اجاگر کرنے میں مؤثر کردار ادا کیا ہے۔
مقررین کا کہنا تھا کہ دنیا کے مختلف خطوں میں مذہبی عدم برداشت، اقلیتوں کے حقوق، آزادیِ مذہب اور انسانی وقار سے متعلق چیلنجز آج بھی موجود ہیں، جن کے حل کے لیے عالمی برادری، حکومتوں، سیاسی قیادت اور مذہبی رہنماؤں کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔
شرکاء نے اس امر پر بھی زور دیا کہ مذہبی آزادی کسی ایک مذہب یا کمیونٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک بنیادی انسانی حق ہے، اور اس کے تحفظ کے لیے بین المذاہب مکالمے، برداشت اور باہمی احترام کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے USCIRF کے چیئرمین ڈاکٹر آصف محمودنے دنیا کے مختلف ممالک میں مذہبی عدم برداشت اور مذہبی آزادی کو درپیش چیلنجز پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے خصوصاً نائجیریا، بھارت، پاکستان اور دیگر ممالک میں مذہبی عدم برداشت اور مذہبی آزادی سے متعلق مسائل پر تشویش کا اظہار کیا۔
ڈاکٹر آصف محمود نے اس بات پر زور دیا کہ مذہبی آزادی، انسانی حقوق اور انسانی وقار کے تحفظ کے لیے مسلسل اور مؤثر آواز بلند کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق مذہبی بنیادوں پر امتیازی سلوک، تشدد اور عدم برداشت نہ صرف متاثرہ افراد بلکہ معاشروں کے امن، استحکام اور ترقی کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج ہیں۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مذہبی آزادی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر مکالمے اور آگاہی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، جبکہ کمزور اور محروم طبقات کے حقوق کے تحفظ کے لیے حکومتوں، سول سوسائٹی، مذہبی قیادت اور کمیونٹی تنظیموں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (USCIRF) کے چیئرمین ڈاکٹر آصف محمود نے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطین، غزہ اور مغربی کنارے کی صورتحال انتہائی تشویشناک اور پریشان کن ہے، جس پر سنجیدگی سے بات کرنے اور فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ہم اس مسئلے کے حل کے لیے پہلی مرتبہ ایک انتہائی منفرد اور اہم اقدام متعارف کرا رہے ہیں، انہوں نے بھارت کی موجودہ صورتحال پر کہا کہ بھارت میں کشمیریوں ، کرسچن ، سکھوں اور مسلمانوں کے ساتھ جاری مظالم قابل تشویش ہے ، پاکستان میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے ساتھ عدت کیس سیاسی بنیادوں پر انتقام کا نشانہ ہے انکی صحت کے حوالے سے دی جانے والی سہولیات بھی سوالیہ نشان ہیں
تقریب کے شرکاء نے ڈاکٹر آصف محمود کے ساتھ مذہبی آزادی، بین المذاہب ہم آہنگی، انسانی حقوق اور عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے عدم برداشت کے رجحانات سمیت مختلف اہم امور پر تبادلہ خیال بھی کیا۔
تقریب کے اختتام پر میزبانوں عامر خان اور ساجد خان نے تمام معزز مہمانوں اور کمیونٹی رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ کینیڈا میں مختلف مذاہب اور کمیونٹیز کے درمیان باہمی احترام، رواداری اور ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ایسے مثبت مکالمے جاری رکھے جائیں گے۔
یہ تقریب ٹورنٹو کی کثیرالثقافتی اور کثیرالمذاہب شناخت کی بھی بھرپور عکاسی کرتی نظر آئی، جہاں مختلف مذاہب اور کمیونٹیز سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے مذہبی آزادی، انسانی حقوق اور باہمی احترام کے مشترکہ اصولوں کی حمایت کا اظہار کیا
