پاکستان میں موسم بدلنے کی خبر محکمۂ موسمیات سے پہلے سیاست دیتی ہے۔ ستمبر کے آخری دنوں میں اسلام آباد کی سڑکوں پر کنٹینر دکھائی دینے لگتے ہیں اور شہری سفر سے پہلے خبروں کا حال پوچھتے ہیں۔
اب بھی ایک طرف احتجاج کی تاریخیں دی جا رہی ہیں، دوسری طرف انہیں روکنے کے انتظامات ہو رہے ہیں۔ اس مقابلے میں جس شخص کی رائے شاذ ہی پوچھی جاتی ہے، وہ عام پاکستانی ہے۔ اسے حکومت گرانے یا بچانے نہیں جانا؛ اسے کام پر پہنچنا، بچے کو اسکول چھوڑنا اور وقت پر گھر لوٹنا ہے۔
تحریکِ انصاف نے عمران خان کی رہائی اور آئین کی بالادستی کے مطالبات کے لیے 27 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کا اعلان کیا ہے۔ کسان اتحاد نے بھی اپنے مطالبات کے ساتھ احتجاج کی کال دی ہے۔ جماعتِ اسلامی پیٹرولیم لیوی کے خلاف نکلی، مگر وزیراعظم سے بات چیت کے لیے اپنا اسلام آباد مارچ مؤخر کر دیا۔ اس کی قیادت کا کہنا ہے کہ مطالبات پورے نہ ہوئے تو اکتوبر کے پہلے ہفتے میں مارچ آگے بڑھے گا۔ اسی لیے یہ معاملہ ایک دن یا ایک جماعت تک محدود نہیں؛ ستمبر کی سیاسی کشیدگی اکتوبر کے دروازے تک پہنچ چکی ہے۔ان احتجاجوں کے مطالبات الگ ہیں، مگر پیچھے ایک مشترک بے چینی ہے: شہری محسوس کرتے ہیں کہ ان کی مشکلات فیصلہ سازوں کی ترجیحات میں بہت پیچھے ہیں۔ پیٹرول مہنگا ہو تو بس کا کرایہ، کھیت سے منڈی تک ترسیل اور دکان تک پہنچنے والی چیز کی قیمت بھی بڑھتی ہے۔ کسان اخراجات اور آمدنی کا حساب مانگتا ہے؛ ملازم مہینے کے آخر تک تنخواہ پہنچانے کی فکر کرتا ہے۔ حکومت کے لیے یہ اعداد و شمار ہو سکتے ہیں، گھر چلانے والے کے لیے روزانہ کا امتحان۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ احتجاج پُرامن رہے اور دارالحکومت کی زندگی مفلوج نہ ہو۔ اس میں وزن ہے؛ کسی جماعت کو شہریوں کی آمد و رفت روکنے کا حق نہیں دیا جا سکتا۔ لیکن حکومت کو اپنے اقدامات کا اثر بھی دیکھنا ہوگا۔ اگر مارچ سے پہلے ہی شاہراہیں بند ہونے لگیں تو نقصان کس کے کھاتے میں لکھا جائے گا؟ 24 ستمبر کی رپورٹ کے مطابق ایم ون اور ایم چودہ موٹرویز کے حصوں اور اٹک کے نزدیک جی ٹی روڈ پر ٹریفک روک دی گئی۔ شہری کے لیے اس وقت رکاوٹ کا سبب سیاسی نعرہ نہیں، راستے پر موجود بندش ہے۔
اسلام آباد میں ہزاروں اہلکاروں اور کنٹینروں کی تیاری کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ حفاظتی انتظام حکومت کا اختیار ہے، مگر اس کی حدود واضح ہونی چاہییں۔ کون سے راستے کھلے ہیں؟ مریضوں اور ضروری سامان کی گاڑیاں کیسے گزریں گی؟ بندش کتنی دیر رہے گی اور اس کی اطلاع کب ملے گی؟ انتظامیہ ان سوالوں کا جواب نہ دے تو سکیورٹی کا منصوبہ خود عوامی پریشانی پیدا کر سکتا ہے۔ کامیابی کا معیار صرف قافلے کو روکنا نہیں؛ شہر کی زندگی محفوظ رکھنا بھی ہے۔
