اے آئی انسانی تہذیب کا کوڈ ’’ہیک ‘‘کر رہی ہے

Spread the love

مصنوعی ذہانت المعروف بہ اے آئی تقریباً ہر شے کی طرح فوائد اور نقصانات رکھتی ہے۔ماہرین کے نزدیک یہ نئی ٹکنالوجی مادی لحاظ سے تو انسانیت کو فائدے پہنچا رہی ہے، مگر روحانی طور پر اُس کے لیے نقصان دہ ہے۔ اے آئی کو شرانگیز طاقت سمجھنے والوں میں یووال نوح ہراری (Yuval Noah)بھی شامل ہے۔ یووال اسرائیلی دانشور و محقق ہے۔موصوف کی چودہ کتب شائع ہو چکیں جنھیں دنیا بھر میں مقبولیت ملی۔ آزادی ِ ارادہ ، شعور، ذہانت، خوشی، مصائب اور انسانی ارتقا میں قصہ گوئی کا کردار اِن کتب کا موضوع ہیں۔

حالیہ 30 جون کو یووال ہراری نے عالمی شہرت یافتہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں ’’انسانی اقدار‘‘کے موضوع پر ایک لیکچر دیا۔اس موقع پر ہراری نے مصنوعی ذہانت کے انقلابی اثرات کا جائزہ لیتے یہ مؤقف پیش کیا کہ اِسے محض آلہ نہیں بلکہ ایک ایسے عامل (ایجنٹ) کے طور پر دیکھیے جو سیکھنے، تخلیق کرنے اور فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ہراری کی نظر میں اے آئی انسان کی زبان، بیوروکریسی، اور اعتماد سازی کے نظاموں پر عبور حاصل کر کے انسانی تہذیب کا کوڈ اپنے قبضے میں لینے یا ’’ہیک‘‘ کرنے کو تیار ہے جو تاریخی طور پر صرف انسانوں کا خاصہ رہے ہیں۔ وہ بنی نوع انسان کو ایک ایسے مستقبل کے گہرے اثرات پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے جہاں مصنوعی ذہانت ذاتی قربت سے لے کر عالمی حکمرانی تک ہر چیز پر اثر انداز ہوگی۔قارئین ایکسپریس کے لیے اِس فکرانگیز لیکچر کا جوہرپیش خدمت ہے۔ اے آئی کی سب سے اہم بات یہ کہ یہ ہمارے ہاتھوں میں کوئی اوزار یا آلہ نہیں بلکہ ہاتھ رکھنے والا ایک ایجنٹ ہے۔سوال یہ ہے کہ ایک ایجنٹ کسی آلے سے کس طرح مختلف ہے؟ ایجنٹس کی کئی امتیازی خصوصیات ہیں۔ایجنٹ بننے کے لیے شعور کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جس چیز کی ضرورت ہے وہ ہے خود سے فیصلے کرنے کی صلاحیت، خود سے نئی چیزیں اور نئے خیالات ایجاد کرنے کی قوت ۔ ایک ایجنٹ کو از خود وہ چیزیں سیکھنے کے قابل ہونا چاہیے جو اس کے تخلیق کار نہیں جانتے۔ پھر ایجنٹ کو خود اُن طریقوں سے تبدیل ہونے کے قابل ہونا چاہیے جس کا تخلیق کاروں نے تخمینہ بھی نہ لگایا ہو۔

مثال کے طور پر ایٹم بم اپنی زبردست طاقت کے باوجود کوئی ایجنٹ نہیں۔ یہ خود سے سیکھ اور تبدیل نہیں ہو سکتا۔ یہ ازخود فیصلہ نہیں کر سکتا کہ کس شہر پر بمباری کرنی ہے۔ یہ ہائیڈروجن بم جیسی کوئی نئی چیز ایجاد نہیں کر سکتا۔ اسی طرح کافی بنانے والی خودکار مشین کوئی ایجنٹ نہیں حالانکہ وہ کچھ کام خود بخود کرتی ہے۔ آپ ایک بٹن دباتے ہیں اور مشین ایک کپ کافی بنا دیتی ہے۔ یہ کافی مشین صرف پہلے سے طے شدہ طریقہ کار کی پیروی کرتی ہے، یہ تبدیل نہیں ہوتی۔ یہ کوئی نئی چیز نہیں سیکھتی۔ یہ کچھ نیا تخلیق نہیں کرتی۔

لیکن فرض کریں ،جب آپ کافی مشین کے پاس جاتے ہیں تووہ کوئی بھی بٹن دبانے سے پہلے ہی اعلان کرتی اور آپ کو بتاتی ہے’’میں پچھلے چند ہفتوں سے آپ پر نظر رکھے ہوئے ہوں۔ آپ اور دوسرے لوگوں کے بارے میں جو کچھ میں نے سیکھا ، اس کی بنیاد پر اور آپ کے چہرے کے تاثرات اور دن کا وقت مدنظر رکھتے ہوئے میں پیشگوئی کرتی ہوں کہ آپ اسپرسو پسند کریں گے۔ اس لیے میں نے آپ کے لیے پہلے ہی ایک کپ بنا دیا ہے۔‘‘

اب یہ ایک اے آئی کافی مشین ہے۔ اس نے خود سے کچھ سیکھا اور خود سے فیصلہ کیا۔ اور یہ واقعی ایک اے آئی ہے اگر اگلے دن یہ اعلان کرے، ’’میں نے اب ’بیسٹ پریسو‘ نامی ایک نیا مشروب ایجاد کیا ہے جو میرے خیال میں آپ کو اسپرسو سے زیادہ پسند آئے گا۔ یہ لیجیے، اسے آزما کر دیکھیں۔‘‘ اب یہ واقعی ایک اے آئی ہے۔ یہ ان طریقوں سے تبدیل ہوئی جن کا اُس کے تخلیق کاروں نے تخمینہ نہیں لگایا تھا اور اس نے بالکل نئی چیز ایجاد کر دی۔جہاں تک میں جانتا ہوں، اس وقت کافی بنانے کی کوئی اے آئی مشین موجود نہیں ۔ شاید اینتھروپک (Anthropic) کے ہیڈ کوارٹر یا گوگل والوں کے ہاں اس کے چند پروٹوٹائپس موجود ہوں، لیکن وہ ابھی تک مارکیٹ میں نہیں آئی۔

لیکن کچھ محدود شعبوں میں جیسے گو (Go) یا شطرنج کھیلنے میں اے آئی کی مہارت اور تخلیقی صلاحیت انسانی صلاحیتوں سے بہت آگے نکل چکی ۔ اب شطرنج کے اے آئی ماسٹر یہ فیصلہ خود کر سکتے ہیں کہ کون سی چالیں چلنی ہیں۔ وہ بالکل نئی حکمت عملی خود ایجاد کرتے ہیں کہ شطرنج کیسے کھیلی جائے اور جو ہزاروں سال سے شطرنج کھیلنے والے کسی انسانی ماسٹر کے ذہن میں کبھی نہیں آئی۔ اور ایسا کرتے ہوئے وہ اُن طریقوں سے سیکھتے اور تبدیل ہوتے ہیں جن کی اُن کے انسانی تخلیق کاروں نے لازماً پیشگوئی نہیں کی تھی۔ آج یقیناً کوئی انسان جدید ترین اے آئی شطرنج ماسٹر کو ہرانے کا کوئی امکان نہیں رکھتا۔
اب جو لوگ اے آئی انقلاب کی اہمیت غیر اہم سمجھتے ہیں، وہ درج بالا مثالیں یہ کہہ کر رد کر دیتے ہیں کہ شطرنج کا بورڈ ایک بہت ہی محدود اور مصنوعی ماحول ہے جو انسانوں نے بنایا ۔ اُن کا کہنا ہے ، اے آئی کی دسترس ہمیشہ ایسے محدود اور مصنوعی ماحول تک ہی محدود رہے گی۔مطلب یہ کہ وہ حقیقی قوت نہیں اور انسانیت کے لیے کوئی سنگین چیلنج پیش نہیں کرتی۔ ہاں اے آئی شطرنج کے بورڈ پر قبضہ کر سکتی ہے، لیکن یہ کبھی کرہ ارض پر قبضہ نہیں کرے گی۔اور واقعی، اگر آپ ایک تجربہ کریں … اگر آپ بہترین اے آئی شطرنج ماسٹر کو لیں اور اُسے جنگل کے بیچوں بیچ لا کر چھوڑ دیں تو آپ کے خیال میں کیا ہوگا؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے