مارکھم میں شوکت خانم اسپتال کے لیے ریکارڈ ساڑھے 6 لاکھ کینیڈین ڈالر جمع، 500 افراد کی شرکت!

Spread the love

حمزہ علی عباسی، میئر فرینک اسکارپیٹی اور وفاقی وزیر ٹم ہاجسن کی شرکت؛ مرحوم خالد عثمان کی سماجی خدمات کو خراجِ عقیدت، ڈاکٹر عابدہ عثمان کے عزم کو بھرپور سراہا گیا

رپورٹ : محبوب علی شیخ 

کینیڈا کے شہر مارکھم میں شوکت خانم میموریل کینسر اسپتال کے لیے منعقدہ سالانہ فنڈ ریزنگ ڈنر میں تقریباً 6 لاکھ 50 ہزار کینیڈین ڈالر کے عطیات جمع کیے گئے۔ کینسر ایجوکیشن ریسرچ فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام اس تقریب میں تقریباً 500 افراد نے شرکت کی، جبکہ پاکستانی کمیونٹی کی معروف کاروباری شخصیات، سماجی رہنماؤں اور اہم سرکاری شخصیات نے کینسر کے مریضوں کے علاج کے لیے عطیات جمع کرنے کی مہم میں بھرپور حصہ لیا۔

تقریب میں پاکستان کے معروف اداکار حمزہ علی عباسی، مارکھم کے میئر فرینک اسکارپیٹی، وفاقی وزیر ٹم ہاجسن، رکنِ پارلیمنٹ سلمیٰ زاہد، عزیز راکلا، کیم صدیقی، زارا رانا، ڈاکٹر ارشد محمود، سلیم چوہدری اور ڈاکٹر عالیہ بٹ سمیت متعدد اہم شخصیات شریک ہوئیں۔

فنڈ ریزنگ ڈنر کا ایک اہم اور جذباتی پہلو سابق کونسلر مرحوم خالد عثمان کی کمیونٹی خدمات کو یاد کرنا تھا۔ شرکا نے انہیں ایک مخلص سماجی رہنما، انسانیت کا خیرخواہ اور شوکت خانم اسپتال کے لیے مسلسل سرگرم رہنے والی شخصیت کے طور پر خراجِ عقیدت پیش کیا۔

خالد عثمان کی کمیونٹی سے گہری وابستگی اور فلاحی سرگرمیوں میں ان کے کردار کا ذکر تقریب کے دوران نمایاں رہا۔ ان کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے شرکا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ انسانیت کی خدمت اور فلاحی منصوبوں کی حمایت کا یہ سفر جاری رہنا چاہیے۔

اس موقع پر ان کی اہلیہ ڈاکٹر عابدہ عثمان کے عزم، حوصلے اور ثابت قدمی کو بھی بھرپور سراہا گیا۔ شرکا نے ان کی کوششوں کو اس فلاحی مشن کے تسلسل کے لیے اہم قرار دیا۔ تقریب کے منتظمین میں ڈاکٹر عابدہ عثمان، ڈاکٹر آصف، ڈاکٹر یاسر حیدر اور جاوید خان سمیت دیگر افراد شامل تھے۔

حمزہ علی عباسی نے شوکت خانم اسپتال کے مشن کو سراہا

تقریب کے مہمانِ خصوصی معروف پاکستانی اداکار حمزہ علی عباسی نے اپنے خطاب میں شوکت خانم میموریل کینسر اسپتال کے قیام کے تصور اور اس کے پیچھے عمران خان کی جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کینسر کے مریضوں کے علاج اور اس اہم فلاحی مشن کے لیے کینیڈا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی مسلسل حمایت اور جذبۂ خدمت کو سراہا۔

شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ کینسر جیسے موذی مرض کے خلاف جدوجہد میں عطیات، عوامی آگاہی اور اجتماعی تعاون بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق، کمیونٹی کی جانب سے اس نوعیت کی کوششیں مریضوں اور ان کے خاندانوں کے لیے امید کا پیغام ہیں۔

مارکھم کے میئر فرینک اسکارپیٹی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مرحوم خالد عثمان کی کمیونٹی کے لیے خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ وفاقی وزیر ٹم ہاجسن نے بھی تقریب سے خطاب کیا، جبکہ رکنِ پارلیمنٹ سلمیٰ زاہد اور دیگر اہم شخصیات کی شرکت نے اس فلاحی اجتماع کو مزید اہمیت دی۔

تقریب میں مختلف کونسلرز، سماجی رہنماؤں اور آئندہ بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر کمیونٹی کے مختلف طبقات نے کینسر کے مریضوں کے علاج کے لیے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

تقریب کی نظامت حنا عثمان نے خوش اسلوبی سے انجام دی۔ شرکا اور منتظمین کی مشترکہ کوششوں سے تقریباً 6 لاکھ 50 ہزار کینیڈین ڈالر جمع ہونا اس سالانہ فنڈ ریزنگ مہم کی اہم کامیابی قرار پایا۔

کمیونٹی کی متعدد معروف کاروباری شخصیات عزیز راکلا ، ڈاکٹر عالیہ بٹ ، ڈاکٹر ارشد محمود ، سلیم چوہدری ، ضرار رانا ، کیم صدیقی ، سجاد ابراہیم ، ڈاکٹر حیدر سمیت دیگر نے خطیر عطیات دے کر اس کارِ خیر میں حصہ لیا۔ تقریب کے ذریعے نہ صرف شوکت خانم اسپتال کے لیے مالی معاونت جمع کی گئی بلکہ کینیڈا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے باہمی اتحاد، سماجی ذمہ داری اور فلاحی جذبے کا بھی اظہار ہوا۔

مارکھم میں منعقد ہونے والا یہ فنڈ ریزنگ ڈنر عطیات جمع کرنے کے ساتھ ساتھ مرحوم خالد عثمان کی خدمات کو یاد کرنے اور ڈاکٹر عابدہ عثمان کے عزم کو سراہنے کا ایک یادگار موقع بھی ثابت ہوا۔ منتظمین اور شرکا نے امید ظاہر کی کہ کینیڈا کی پاکستانی کمیونٹی آئندہ بھی شوکت خانم اسپتال سمیت دیگر فلاحی منصوبوں کی حمایت جاری رکھے گی تاکہ کینسر کے مریضوں کو علاج اور بہتر مستقبل کی امید فراہم کی جا سکے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے