نیتن یاہو کے حریف آئزن کوٹ کی کامیابی سے ایران جنگ کا رخ کیسے بدل سکتا ہے؟

Spread the love

اسرائیل میں انتخابات کے بعد وزیر اعظم نیتن یاہو اور ان کے حریف آئزن کوٹ نے کامیابی کے دعوے کیے ہیں، جبکہ انتخابات کے ابتدائی نتائج میں کسی بھی اتحاد کو واضح اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دی۔ 

بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق دونوں رہنماؤں کے ایران جنگ سے نمٹنے کے طریقۂ کار میں نمایاں اختلافات ہیں، جس کے باعث انتخابی نتائج اسرائیل کی آئندہ حکمتِ عملی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

نیتن یاہو اور آئزن کوٹ کی ایران پالیسی میں کیا فرق ہے؟

نیتن یاہو ایران میں حکومت کی تبدیلی کو خطے میں دیرپا امن کے لیے ضروری قرار دیتے رہے ہیں۔ 

انتخابی مہم کے دوران بھی انہوں نے ایران کے ایٹمی پروگرام کو ختم کرنے اور امریکا کے ساتھ مل کر فوجی کارروائی کرنے کے مؤقف پر زور دیا۔

دوسری جانب سابق اسرائیلی آرمی چیف اور اپوزیشن رہنما آئزن کوٹ کا کہنا ہے کہ ایران میں حکومت کی تبدیلی ایک قابلِ حصول مقصد نہیں۔ 

وہ نیتن یاہو کی جنگی حکمتِ عملی کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے سفارت کاری اور معاشی دباؤ کے ذریعے تنازع پر قابو پانے کی حمایت کرتے ہیں۔ تاہم وہ ایران کے ایٹمی پروگرام کو نشانہ بنانے کے لیے محدود فوجی کارروائیوں کی حمایت بھی کرتے ہیں۔

کیا آئزن کوٹ کی کامیابی ایران جنگ روک سکتی ہے؟

اگر آئزن کوٹ اور ان کے اتحادی حکومت بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ایران کے معاملے میں اسرائیل کی حکمتِ عملی میں تبدیلی آسکتی ہے اور ان کی پالیسی کے تحت مکمل جنگ کے بجائے معاشی دباؤ، سفارتی کوششوں اور محدود فوجی کارروائیوں پر زیادہ توجہ دی جاسکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے