اب 12 اکتوبر یوم سیاہ نہیں رہا؟

Spread the love

پاکستان کی تاریخ گواہ ہے جب سول ملٹری تعلقات میں دراڑ پڑ جائے تو مرمت سے کام نہیں چلایا جاسکتا۔کارگل آپریشن کے بعد آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کے دل میں جو گرہ پڑ چکی تھی ،وزیراعظم نوازشریف نے اسے رفع کرنے کی ہرممکن کوشش کی۔پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل فصیح بخاری جو سروسز چیفس میں سب سے سینئر تھے اور میرٹ کے پیش نظر انہیں جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی بنایا جانا چاہئے تھے مگریہ منصب جنرل پرویزمشرف کے حوالے کردیا گیا۔نوازشریف سعودی عرب گئے تو پرویز مشرف اور انکی اہلیہ صہبا کو ساتھ لے گئے وہاں کچھ باتیں طے ہوئیں ۔صرف یہی نہیں بلکہ نوازشریف نے اپنے وفاقی وزیر میجرریٹائرڈ راجہ نادرپرویز کو ناراض کرکے ان کے کزن کورکمانڈر کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل طارق پرویز کی فوج سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ کی سمری پر دستخط کردیئے مگر ہونی کو نہ ٹال سکے۔8اکتوبر کو ایک خبر شائع ہوئی جس نے پاکستان کے سیاسی منظر نامے کو بدل کر رکھ دیا ۔اس خبر میں عسکری ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ کورکمانڈر کوئٹہ جنرل طارق پرویز کو آرمی چیف سے اجازت لئے بغیر وزیراعظم سے ملاقات کرنے پر ہٹایا گیا ہے ۔حالانکہ یہ فیصلہ اس لئے کیا گیا کہ پرویز مشرف نے شہباز شریف اور چوہدری نثار کے ذریعے یہ پیغام دیا تھا کہ اگر جنرل ٹی پی کو ہٹادیں تو سب معاملات ٹھیک ہو جائیں گے۔

وزیراعظم کے حکم پر سیکریٹری دفاع چوہدری افتخار علی خان نے پہلے سی جی ایس لیفٹیننٹ جنرل عزیز سے رابطہ کیا اور پھر ڈی جی آئی ایس پی آر بریگیڈیئر راشد قریشی سےبات کی اور اس خبر کی تردید کرنے کو کہا مگر ان دونوں نے یہ عذر پیش کیا کہ آرمی چیف سری لنکا میں ہیں اور ان کی اجازت کے بغیر کوئی بیان جاری نہیں کیا جا سکتا۔یہی وہ فیصلہ کن موڑ تھا جب وزیراعظم نوازشریف نے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کو ہٹانے کا فیصلہ کرلیا۔نوازشریف نے اپنے اسٹاف میں سے سب سے پہلے ملٹری سیکریٹری بریگیڈیئر جاوید اقبال کو اعتماد میں لیا۔ اتوار 10اکتوبر کا دن تھا بریگیڈیئر جاوید اقبال جاتی اُمرا پہنچے تو وزیراعظم چہل قدمی کرتے ہوئے انہیں لان میں لے گئے ۔وزیراعظم نے ملٹری سیکریٹری سے ان کا موبائل فون لے لیا ،ذاتی معتمد شکیل کو آواز دی ،اپنا اور ملٹری سیکریٹری کا فون اس کے حوالے کیا تاکہ جو بات وہ کہنے جا رہے ہیں ،وہ لیک نہ ہو سکے۔بریگیڈیئر جاوید اقبال نے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ایسی صورت میں کمانڈرٹین کور لیفٹیننٹ جنرل محمود احمد جوابی وار ضرور کرے گا مگر نوازشریف اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹنے کوتیار نہ تھے۔11اکتوبرکو وزیراعظم نوازشریف نے ابوظہبی جانے کا فیصلہ کرلیا۔اس دورے کا مقصد بظاہر شیخ زید بن سلطان کی عیادت کرنا تھا ۔اب تک صرف چار لوگوں کو یہ بات معلوم تھی کہ پرویز مشرف کو برطرف کرکے جنرل ضیاء الدین خواجہ کو سپہ سالار بنانے کا فیصلہ کیا جا چکا ہے اور وزیراعظم انہیں ہی ابوظہبی لیکر گئے۔ان میںڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ضیاء الدین خواجہ ،وزیراعظم کے ملٹری سیکریٹری بریگیڈئر جاوید اقبال ،نوازشریف کےفرزند حسین نوازاور اسپیچ رائٹر نذیر ناجی شامل تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے