امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ہفتے کو کانگریس میں دی گئی ایک بریفنگ میں انکشاف کیا کہ ایران کے خلاف جنگ کے ابتدائی چھ دنوں میں امریکہ کو کم از کم 11.3 ارب ڈالر خرچ کرنا پڑے۔یہ تخمینہ منگل کو امریکی سینیٹرز کو دی گئی بند کمرہ بریفنگ کے دوران پیش کیا گیا، تاہم اس میں جنگ سے متعلق تمام اخراجات شامل نہیں تھے اور یہ صرف ابتدائی اندازہ ہے۔کانگریس کے متعدد معاونین کے مطابق توقع ہے کہ وائٹ ہاؤس جلد ہی جنگ کے لیے اضافی فنڈز کی باضابطہ درخواست جمع کرائے گا، جس کی مقدار 50 بلین ڈالر یا اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔امریکی انتظامیہ نے ابھی تک جنگ کی مجموعی لاگت یا ممکنہ دورانیے کے بارے میں کوئی واضح عوامی اندازہ نہیں دیا۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز ریاست کینٹکی کے دورے کے دوران کہا کہ “ہم نے جنگ جیت لی ہے، لیکن اسے ختم ہونے تک امریکہ میدان میں رہے گا۔”کانگریس کے ارکان تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ یہ تنازع امریکی فوجی ذخائر کو کمزور کر سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک کی دفاعی صنعت پہلے ہی طلب پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔
ایران جنگ کے پہلے 6 روز میں امریکا نے 11 ارب ڈالرز پھونک دیے
