مراکش نے کینیڈا، بیلجیم نے امریکہ اور انگلینڈ نے میکسیکو کو شکست دے کر تینوں میزبان ممالک کا سفر ایک ہی مرحلے پر ختم کر دیا
خصوصی رپورٹ: محبوب علی شیخ
فیفا ورلڈ کپ 2026 کی میزبانی کرنے والے تینوں ممالک کینیڈا، امریکہ اور میکسیکو کے لیے ٹورنامنٹ کا سفر راؤنڈ آف 16 پر ہی اختتام پذیر ہو گیا۔ تینوں میزبان ٹیمیں اپنے شائقین کی بھرپور حمایت کے باوجود کوارٹر فائنل تک رسائی حاصل نہ کر سکیں، جس نے ورلڈ کپ کی تاریخ کا ایک منفرد منظر پیش کیا۔
کینیڈا، جس نے گروپ مرحلے اور راؤنڈ آف 32 میں شاندار کارکردگی سے امیدیں روشن کی تھیں، راؤنڈ آف 16 میں مراکش کے ہاتھوں 3-0 سے شکست کھا گیا۔ مراکش نے دفاع اور حملے دونوں شعبوں میں عمدہ کھیل پیش کرتے ہوئے میزبان ٹیم کو کوئی موقع نہ دیا۔
دوسری جانب امریکہ کو یورپی طاقت بیلجیم کے خلاف سخت امتحان کا سامنا کرنا پڑا۔ بیلجیم نے جارحانہ انداز اپناتے ہوئے 4-1 سے کامیابی حاصل کی اور امریکی شائقین کے کوارٹر فائنل کے خواب ادھورے چھوڑ دیے۔
ادھر میکسیکو نے انگلینڈ کے خلاف بھرپور مزاحمت کی، لیکن دلچسپ مقابلے کے بعد انگلینڈ نے 3-2 سے کامیابی حاصل کرتے ہوئے میزبان ٹیم کو ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا۔
یوں فیفا ورلڈ کپ 2026 کی میزبانی کرنے والے تینوں ممالک ایک ہی مرحلے پر ناک آؤٹ ہو گئے، جو اس عالمی ایونٹ کے بڑے اپ سیٹس میں شمار کیا جا رہا ہے۔
اگرچہ تینوں ٹیمیں کوارٹر فائنل تک نہ پہنچ سکیں، تاہم ان کے شائقین کی بھرپور حمایت، شاندار ماحول اور کامیاب میزبانی نے فیفا ورلڈ کپ 2026 کو یادگار بنا دیا۔ اب ٹورنامنٹ میں ٹائٹل کی دوڑ مزید دلچسپ ہو چکی ہے، جہاں دنیا کی مضبوط ترین ٹیمیں عالمی اعزاز کے لیے آمنے سامنے ہیں۔
اگرچہ فیفا ورلڈ کپ 2026 کے میدان میں کینیڈا، امریکہ اور میکسیکو کی قومی ٹیمیں راؤنڈ آف 16 سے آگے نہ بڑھ سکیں، لیکن میزبانی کے اعتبار سے تینوں ممالک نے دنیا بھر میں اپنی بہترین صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا۔
تینوں میزبان ممالک نے جدید اسٹیڈیمز، شاندار ٹرانسپورٹ سسٹم، بہترین سیکیورٹی، رضاکاروں کی مثالی خدمات اور لاکھوں شائقین کے لیے غیر معمولی انتظامات کے ذریعے فیفا ورلڈ کپ کو ایک یادگار عالمی ایونٹ بنا دیا۔ دنیا کے مختلف براعظموں سے آنے والے فٹبال شائقین نے کینیڈا، امریکہ اور میکسیکو کی مہمان نوازی، دوستانہ ماحول اور بہترین انتظامات کو بھرپور انداز میں سراہا، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی تینوں ممالک کی میزبانی کو وسیع پیمانے پر پذیرائی ملی۔
خاص طور پر یورپ، جنوبی امریکہ، ایشیا، افریقہ اور مشرق وسطیٰ سے لاکھوں شائقین نے ورلڈ کپ کے دوران تینوں میزبان ممالک کا سفر کیا، جس سے سیاحت، ہوٹل انڈسٹری، ریسٹورنٹس، مقامی کاروبار، ٹرانسپورٹ اور تفریحی شعبوں کو غیر معمولی معاشی فائدہ پہنچا۔
فیفا ورلڈ کپ 2026 نے مالی لحاظ سے بھی نئے سنگ میل قائم کیے۔ ٹکٹوں کی فروخت، سیاحت، اسپانسرشپ، براڈکاسٹنگ رائٹس، مرچنڈائز اور مقامی کاروباری سرگرمیوں سے ہونے والی آمدنی نے ورلڈ کپ کی تاریخ کے کئی سابقہ ریکارڈز کو پیچھے چھوڑ دیا، جبکہ متعدد شہروں میں سیاحوں کی آمد نے مقامی معیشت کو نمایاں فروغ دیا۔
صرف معاشی میدان ہی نہیں بلکہ کھیل کے میدان میں بھی یہ ورلڈ کپ ریکارڈز کا ٹورنامنٹ ثابت ہو رہا ہے۔ اب تک کئی تاریخی ریکارڈ قائم اور متعدد پرانے ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں، جبکہ سنسنی خیز مقابلوں، ڈرامائی کم بیکس اور غیر متوقع نتائج نے شائقین کو مسلسل حیران کیا ہے۔
یوں اگرچہ کینیڈا، امریکہ اور میکسیکو کی ٹیمیں ٹائٹل کی دوڑ سے باہر ہو چکی ہیں، لیکن تینوں ممالک نے اپنی شاندار میزبانی، عالمی معیار کے انتظامات اور لاکھوں شائقین کے لیے ناقابلِ فراموش تجربہ فراہم کر کے فیفا ورلڈ کپ 2026 کی کامیابی میں ایک تاریخی کردار ادا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے فٹبال حلقوں میں اس ورلڈ کپ کو نہ صرف کھیل کے اعتبار سے بلکہ میزبانی، معاشی کامیابی اور عالمی یکجہتی کے حوالے سے بھی ایک تاریخی ایونٹ قرار دیا جا رہا ہے۔
