اس جنگ کے دوران امریکہ کو محدود جانی نقصان اٹھانا پڑا جبکہ دوسری جانب ایران کو بھاری انسانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا، تاہم اس کے باوجود بعض تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ اپنے بنیادی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔
رپورٹس کے مطابق اس کارروائی کا ایک اہم مقصد ایران میں سیاسی تبدیلی یا رجیم چینج تھا، جو مکمل طور پر ناکام رہا بلکہ اس کے برعکس وہاں مزید سخت گیر قیادت مضبوط ہوتی دکھائی دی۔ اسی طرح ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنا یا افزودہ یورینیم پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا بھی ممکن نہ ہو سکا۔
ماہرین کے مطابق اس جنگ نے نہ صرف خطے کی سیاسی صورتحال کو پیچیدہ بنایا بلکہ عالمی معیشت پر بھی اثرات مرتب کیے۔ آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے خدشات نے تیل کی ترسیل اور عالمی منڈیوں میں شدید بے چینی پیدا کی، جس کے باعث مختلف عالمی طاقتوں پر جنگ بندی کے لیے دباؤ بڑھا۔
تجزیوں کے مطابق امریکہ کو اس تنازع میں اپنے علاقائی اتحادیوں کے دباؤ اور عالمی ردعمل کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ اسرائیل کے حوالے سے بڑھتی ہوئی عالمی تنقید اور امریکہ میں داخلی سیاسی اختلافات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔
اسی طرح واشنگٹن کے لیے ایک بڑا چیلنج یہ بھی رہا کہ ماضی میں ایران سے کیے گئے معاہدے کو ختم کرنے کے بعد اب کسی نئے اور بہتر معاہدے تک پہنچنا آسان نہیں رہا، جبکہ داخلی سطح پر بھی جنگی اخراجات اور پالیسی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب ایران نے جنگ کے بعد کی صورتحال میں سیاسی اور سفارتی محاذ پر اپنی پوزیشن برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔ اگرچہ ملک کو اقتصادی پابندیوں اور اندرونی دباؤ کا سامنا ہے، تاہم وہ مذاکرات میں بعض اہم شرائط پر سخت موقف اپنائے ہوئے ہے۔
خطے میں موجود خلیجی ممالک کے لیے بھی یہ صورتحال تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے، جہاں توانائی کی ترسیل اور سیکیورٹی توازن مسلسل دباؤ میں ہے۔
مجموعی طور پر یہ تنازع ایک ایسے تعطل کی شکل اختیار کر چکا ہے جس میں کسی بھی فریق کے لیے مکمل فتح یا واضح شکست کا دعویٰ کرنا آسان نہیں رہا، جبکہ خطے میں غیر یقینی صورتحال بدستور برقرار ہے۔
