ٹرمپ کتنے قابل اعتبار؟

Spread the love

آج کی دنیا تضادات اور بدلتے ہوئے عالمی مفادات سے بھری ہوئی ہے، اور پاکستان و امریکہ کے تعلقات بھی انہی پیچیدہ حالات کا حصہ دکھائی دیتے ہیں۔

ماضی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے دور میں پاکستان پر سخت تنقید کی تھی، تاہم دوسرے دورِ صدارت میں وہ پاکستان اور اس کی قیادت کے بارے میں بارہا مثبت بیانات دیتے رہے ہیں۔ اسی تناظر میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات بظاہر بہتر دکھائی دیتے ہیں، مگر زمینی حقائق اس قدر سادہ نہیں۔

گزشتہ چند برسوں میں پاکستان نے ٹرمپ کو متعدد بار نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا، جس کے بعد خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اور فوجی کارروائیوں کے واقعات بھی سامنے آتے رہے۔ بعد ازاں پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور سیزفائر کی کوششوں میں ثالثی کا کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں اسلام آباد میں اعلیٰ سطحی مذاکرات کا انعقاد بھی ہوا۔ تاہم ان مذاکرات کا سلسلہ مختلف وجوہات کے باعث مکمل معاہدے تک نہ پہنچ سکا اور عمل آگے بڑھنے سے پہلے ہی تعطل کا شکار ہو گیا۔

اسی دوران خطے میں کشیدگی، خصوصاً آبنائے ہرمز کے معاملے اور عالمی توانائی و معاشی اثرات کے باعث صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی۔ بعد ازاں مذاکراتی کوششوں کے دوران بعض سفارتی اختلافات اور بیانات نے پیش رفت کو متاثر کیا۔

دوسری جانب امریکہ کی جانب سے بعض سیاسی و سفارتی مطالبات بھی سامنے آئے، جن میں اسرائیل سے متعلق مؤقف پر مختلف مسلم ممالک پر دباؤ کی بات کی گئی۔ تاہم پاکستان اور سعودی عرب نے واضح کیا کہ فلسطینی مسئلے کے حل اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔

پاکستان نے اپنے مؤقف میں یہ بھی واضح کیا کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی فیصلوں میں آزاد ہے اور کسی دباؤ میں آکر کوئی مؤقف اختیار نہیں کرے گا۔ اسی طرح اس نے خطے میں امن اور مذاکرات کے عمل کو ترجیح دینے پر زور دیا۔

مجموعی طور پر موجودہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی سیاست میں اتحاد، اختلاف اور مفادات مسلسل تبدیل ہو رہے ہیں، اور پاکستان کو اس پیچیدہ ماحول میں نہایت محتاط اور متوازن سفارتی حکمت عملی اختیار کرنا ہو گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے