خیبر پختونخوا پاکستان تحریک انصاف کا وہ صوبہ رہا ہے جس نے نہ صرف اس جماعت کو بھرپور عوامی مینڈیٹ دیا بلکہ سیاسی طاقت اور اعتماد کا مرکز بھی بنایا۔ 2013ء میں ”تبدیلی“ کے نعرے کو سب سے پہلے اسی صوبے کے عوام نے قبول کیا۔ نوجوانوں نے اسے امید کی کرن سمجھا، متوسط طبقے نے کرپشن کے خاتمے کی توقع رکھی، جبکہ پسماندہ علاقوں کے عوام نے ترقی اور محرومیوں کے ازالے کی امید باندھی۔
تاہم ایک دہائی گزرنے کے باوجود سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا خیبر پختونخوا میں وہ حقیقی تبدیلی آ سکی جس کا وعدہ کیا گیا تھا، یا یہ صوبہ بدستور سیاسی تجربات، انتظامی کمزوریوں اور سیکیورٹی چیلنجز کا شکار رہا؟
حالیہ صورتحال میں پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں، جہاں پچاس سے زائد اراکین اسمبلی کی جانب سے مبینہ طور پر وزیر اعلیٰ کے خلاف گروپ بندی کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ یہ پیش رفت محض سیاسی اختلاف نہیں بلکہ جماعت کے اندر بڑھتے ہوئے اعتماد کے بحران کی عکاسی کرتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب صوبہ دہشت گردی، مالی مشکلات اور انتظامی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔
خیبر پختونخوا کو پی ٹی آئی نے اپنی سیاسی تجربہ گاہ کے طور پر پیش کیا، جہاں پولیس اصلاحات، صحت کارڈ، احتساب اور شجرکاری جیسے منصوبے شروع کیے گئے۔ ابتدائی طور پر ان اقدامات کو پذیرائی ملی، تاہم وقت کے ساتھ کئی منصوبے مالی اور انتظامی مسائل کا شکار ہو گئے۔ اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کی صورتحال میں نمایاں بہتری نہ آ سکی جبکہ دیہی علاقوں میں بنیادی سہولیات اب بھی ناکافی ہیں۔
سب سے بڑا چیلنج امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال ہے۔ بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت، باجوڑ، شمالی وزیرستان اور پشاور سمیت مختلف علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں سیکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں کی جانیں خطرے میں ہیں۔ اس صورتحال میں عوامی تحفظ کے لیے مؤثر اور جامع حکمت عملی کی کمی نمایاں نظر آتی ہے۔
دوسری جانب سیاسی سطح پر حکومت پر یہ تنقید بھی کی جا رہی ہے کہ وہ انتظامی امور کے بجائے سیاسی محاذ آرائی اور بیانات پر زیادہ توجہ دے رہی ہے۔ اندرونی اختلافات اور گروپ بندی نے پارٹی ڈھانچے کو مزید کمزور کیا ہے، جس سے حکومتی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے۔
عوامی سطح پر بنیادی مسائل جوں کے توں ہیں۔ سڑکوں کی خستہ حالی، پینے کے صاف پانی کی کمی، اسپتالوں میں ادویات کی قلت اور تعلیمی اداروں کی ناقص صورتحال بدستور برقرار ہے۔ نوجوانوں میں بے روزگاری اور مایوسی میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ ترقیاتی منصوبے سست روی کا شکار ہیں۔
مجموعی طور پر خیبر پختونخوا اس وقت ایک نازک مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں ایک طرف سیکیورٹی چیلنجز ہیں اور دوسری طرف سیاسی عدم استحکام۔ ایسے حالات میں صوبے کو جذباتی نعروں کے بجائے مضبوط حکمرانی، عملی اصلاحات اور سیاسی استحکام کی ضرورت ہے، ورنہ یہی صوبہ مستقبل میں سیاسی جماعت کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔
