امریکی ٹیکنالوجی کمپنی نے مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں کے تدارک کے لیے ایک نیا منصوبہ پیش کیا ہے جس کے تحت دو سال میں مجموعی طور پر 32 ملین لیبارٹری میں تیار کردہ نر مچھر مختلف علاقوں میں چھوڑنے کی تجویز دی گئی ہے۔
یہ منصوبہ کمپنی کے سائنسی پروگرام “ڈی بَگ” کے تحت تیار کیا گیا ہے جس کا مقصد بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بننے والے مچھروں کی آبادی کو کنٹرول کرنا ہے۔
منصوبے کے مطابق ان نر مچھروں کو ایک مخصوص بیکٹیریا “وولباکیا پیپیئنٹس” سے متاثر کیا جائے گا، جس کے نتیجے میں ان کے ذریعے پیدا ہونے والے انڈے نشوونما نہیں پا سکیں گے، اور یوں وقت کے ساتھ مچھروں کی تعداد میں نمایاں کمی آئے گی۔
ماہرین کے مطابق صرف مادہ مچھر انسانوں کو کاٹتی ہیں، اس لیے لیبارٹری میں تیار کردہ نر مچھر انسانی صحت کے لیے کسی اضافی خطرے کا باعث نہیں ہوں گے۔
گوگل نے اس منصوبے کے لیے امریکی ماحولیاتی ادارے سے تجرباتی اجازت نامہ حاصل کرنے کی درخواست بھی دی ہے۔
منصوبے کے تحت پہلے سال 16 ملین اور دوسرے سال مزید 16 ملین نر مچھر فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں چھوڑے جانے کی تجویز ہے۔
یہ تکنیک، جس میں جراثیم سے پاک یا کنٹرولڈ حشرات کے ذریعے آبادی میں کمی لائی جاتی ہے، اس سے قبل بھی مختلف زرعی نقصانات اور بیماری پھیلانے والے کیڑوں کے خلاف استعمال کی جا چکی ہے۔
