برصغیر میں دودھ پتی چائے محض ایک مشروب نہیں بلکہ روزمرہ زندگی، ثقافتی روایت اور مہمان نوازی کا اہم حصہ سمجھی جاتی ہے، تاہم ماہرینِ صحت اس کے غیر ضروری اور حد سے زیادہ استعمال پر احتیاط کا مشورہ دیتے ہیں۔
ماہرِ غذائیت کے مطابق چائے کے صحت پر اثرات اس بات پر منحصر ہیں کہ اسے کس طریقے سے تیار کیا جاتا ہے، اس میں کون سے اجزا شامل کیے جاتے ہیں اور کون سی چائے کی پتی استعمال ہوتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اعتدال کے ساتھ چائے کا استعمال جسم کو تازگی اور وقتی توانائی فراہم کر سکتا ہے، تاہم دن میں تین سے چار کپ سے زیادہ چائے پینا مناسب نہیں سمجھا جاتا۔ زیادہ دودھ، زائد چینی اور انتہائی کڑک چائے مختلف صحت کے مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق دودھ پتی میں چینی کی زیادہ مقدار خون میں شوگر کی سطح بڑھا سکتی ہے، جبکہ زیادہ دیر تک ابالی گئی چائے بعض افراد میں بدہضمی، گیس اور معدے کی حساسیت جیسے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔
صحت کے ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ نسبتاً ہلکی چائے، بلیک ٹی یا گرین ٹی کا انتخاب زیادہ بہتر ہے۔ ادرک، الائچی، دار چینی، لونگ اور سونف جیسے قدرتی اجزا نہ صرف ذائقہ بڑھاتے ہیں بلکہ نظامِ ہاضمہ کے لیے بھی فائدہ مند ہیں۔
مزید کہا گیا ہے کہ سونے سے چند گھنٹے قبل چائے یا دیگر کیفین والے مشروبات سے پرہیز کرنا چاہیے، کیونکہ یہ نیند کے نظام کو متاثر کر سکتے ہیں۔ خاص طور پر رات کے کھانے کے فوراً بعد دودھ پتی کے استعمال سے اجتناب بہتر سمجھا جاتا ہے۔
ماہرین نے چائے کے ساتھ سگریٹ نوشی کے امتزاج کو بھی نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عادت جسم میں پانی کی کمی اور صحت کے مجموعی نظام پر منفی اثرات ڈال سکتی ہے۔
ان کے مطابق گرین ٹی اور میچا اگر سادہ اور معتدل انداز میں استعمال کیے جائیں تو فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں، تاہم ان میں دودھ، کریم یا زیادہ چینی شامل کرنے سے ان کے ممکنہ فوائد کم ہو جاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چائے کو مکمل طور پر ترک کرنے کی ضرورت نہیں، لیکن اعتدال، سادہ طریقہ استعمال اور مناسب مقدار میں پانی پینا صحت مند طرزِ زندگی کے لیے ضروری ہے۔
