بریسٹ کینسر میں مبتلا خواتین اب کیموتھراپی کے بغیر بھی صحتیاب ہوسکیں گی: تحقیق

Spread the love

چھاتی کے سرطان (بریسٹ کینسر) میں مبتلا ہزاروں خواتین کے لیے ایک نئی طبی پیش رفت سامنے آئی ہے جس کے تحت ایک جدید جین ٹیسٹ کی مدد سے بعض مریض کیموتھراپی کے سخت اور تکلیف دہ عمل سے بچ کر بھی صحت یاب ہو سکتے ہیں۔

یہ نیا ٹیسٹ، جسے “پرو سگنا” کہا جاتا ہے، سرجری کے بعد حاصل کیے گئے ٹیومر کے نمونے کا تجزیہ کر کے یہ معلوم کرتا ہے کہ کینسر کے پھیلاؤ سے متعلق جینز کتنے فعال اور خطرناک ہیں۔

یونیورسٹی کالج لندن کی نگرانی میں ہونے والی تحقیق کے مطابق جن مریضوں کا ٹیسٹ اسکور کم خطرے والا آیا، انہوں نے کیموتھراپی کے بغیر صرف سرجری اور طویل مدتی ہارمون تھراپی سے علاج حاصل کیا۔

تحقیق کے نتائج کے مطابق کیموتھراپی نہ کروانے والی خواتین میں پانچ سال بعد بیماری سے محفوظ رہنے کی شرح 93.6 فیصد رہی، جبکہ کیموتھراپی لینے والی خواتین میں یہ شرح 94.8 فیصد ریکارڈ کی گئی، یعنی دونوں گروپوں کے نتائج میں معمولی فرق دیکھا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے