وزیرِ اعظم کارنی کی توجہ عوامی ریلیف پر: 1 کروڑ 20 لاکھ کینیڈین شہریوں کیلئے بڑی مالی امداد

Spread the love

نئے “گروسریز اینڈ ایسینشلز بینیفٹ” کے ذریعے لاکھوں کینیڈینز کو مہنگائی سے ریلیف

رپورٹ : محبوب علی شیخ
وائس آف کینیڈینز
ٹورنٹو، کینیڈا

ٹورنٹو: بڑھتی ہوئی مہنگائی اور زندگی گزارنے کے اخراجات میں مسلسل اضافے کے باعث کینیڈین شہریوں پر پڑنے والے مالی دباؤ کو کم کرنے کیلئے وفاقی لبرل حکومت نے ایک بڑی مالی امدادی اسکیم کا آغاز کیا ہے، جس کے تحت تقریباً 1 کروڑ 20 لاکھ اہل کینیڈین شہریوں کو مالی ریلیف فراہم کیا جائے گا۔

وزیرِ اعظم مارک کارنی کی جانب سے متعارف کرائے گئے نئے “کینیڈا گروسریز اینڈ ایسینشلز بینیفٹ” کے تحت آج سے ملک بھر میں اہل افراد کے بینک اکاؤنٹس میں خصوصی اضافی ادائیگیاں جمع کرائی جا رہی ہیں۔ اس پروگرام کا مقصد خوراک اور روزمرہ ضروریاتِ زندگی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے بوجھ کو کم کرنا ہے۔

یہ بینیفٹ وفاقی حکومت کی جانب سے رواں سال مہنگائی سے نمٹنے کیلئے متعارف کرائی جانے والی اہم ترین امدادی اسکیموں میں سے ایک ہے، جس کا بنیادی ہدف کم اور متوسط آمدنی والے وہ خاندان ہیں جو مہنگی اشیائے خوردونوش، رہائشی اخراجات، یوٹیلیٹی بلز اور دیگر ضروری اخراجات کے باعث مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

نیا بینیفٹ روایتی GST کریڈٹ کی جگہ لے گا

کئی دہائیوں سے اہل کینیڈین شہریوں کو GST/HST کریڈٹ پروگرام کے ذریعے سہ ماہی مالی امداد فراہم کی جاتی رہی ہے۔ وفاقی حکومت نے اب اس پروگرام کو وسعت اور جدید شکل دیتے ہوئے کینیڈا گروسریز اینڈ ایسینشلز بینیفٹ متعارف کرایا ہے، جو زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کا سامنا کرنے والے خاندانوں کیلئے زیادہ مؤثر معاونت فراہم کرے گا۔

سرکاری حکام کے مطابق اس نئے پروگرام کا مقصد صرف فوری مالی مدد فراہم کرنا نہیں بلکہ مہنگائی کے اثرات کے دوران کینیڈین خاندانوں کی طویل المدتی خریداری صلاحیت کو بھی مضبوط بنانا ہے۔

اہل شہریوں کیلئے خودکار ادائیگیاں

وفاقی حکام کے مطابق وہ کینیڈین شہری جو اپنے 2024 کے انکم ٹیکس ریٹرن کی بنیاد پر اہلیت رکھتے ہیں، انہیں کسی علیحدہ درخواست کے بغیر خودکار طور پر یہ ادائیگیاں موصول ہوں گی۔

رقوم کی ادائیگی درج ذیل طریقوں سے کی جا رہی ہے:

  • رجسٹرڈ بینک اکاؤنٹس میں براہِ راست رقم کی منتقلی (Direct Deposit)؛ یا
  • ایسے افراد کو بذریعہ ڈاک چیک ارسال کیے جا رہے ہیں جو ڈائریکٹ ڈپازٹ پروگرام میں شامل نہیں ہیں۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ اہل افراد کو ادائیگی حاصل کرنے کیلئے کسی اضافی فارم یا درخواست جمع کرانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

خاندان کے حجم اور آمدنی کے مطابق ادائیگیاں

ہر خاندان کو ملنے والی رقم اس کی آمدنی اور خاندانی ساخت کے مطابق مختلف ہوگی۔

حکومت کی جانب سے دی گئی مثالوں کے مطابق:

  • بغیر بچوں والا ایک اکیلا بالغ فرد 267 ڈالر تک حاصل کر سکتا ہے۔
  • دو بچوں والے میاں بیوی 533 ڈالر تک وصول کر سکتے ہیں۔

یہ خصوصی ادائیگی پروگرام کے تحت دستیاب سالانہ امدادی رقم میں 50 فیصد اضافے کے مساوی ہے۔

طویل المدتی مالی ریلیف منصوبے کا اعلان

فوری مالی امداد کے علاوہ وفاقی حکومت نے آنے والے برسوں کیلئے ایک جامع مالی ریلیف حکمتِ عملی بھی پیش کی ہے۔

جولائی 2026 سے سہ ماہی بینیفٹ ادائیگیوں میں 25 فیصد اضافہ کیا جائے گا، جبکہ آئندہ پانچ سالوں تک مزید سالانہ اضافے بھی متوقع ہیں۔

حکومتی حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد مہنگائی اور بلند رہائشی اخراجات کا سامنا کرنے والے کینیڈین خاندانوں کو زیادہ مالی استحکام اور بہتر خریداری طاقت فراہم کرنا ہے۔

کارنی حکومت کی اولین ترجیح: عوامی ریلیف

وزیرِ اعظم مارک کارنی متعدد مواقع پر اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ عوامی ریلیف اور زندگی کو زیادہ قابلِ برداشت بنانا ان کی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

وفاقی حکام کے مطابق خوراک، رہائش، ٹرانسپورٹ اور یوٹیلیٹی اخراجات میں اضافے نے ملک بھر کے خاندانوں کے بجٹ پر نمایاں دباؤ ڈالا ہے۔ نیا بینیفٹ پروگرام انہی چیلنجز کا سامنا کرنے والے افراد اور خاندانوں کو بامعنی مدد فراہم کرنے کیلئے متعارف کرایا گیا ہے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق:

“ہمارا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ جب کینیڈین شہریوں کو سب سے زیادہ ضرورت ہو تو انہیں عملی اور مؤثر مالی معاونت فراہم کی جائے۔”

ماہرین نے اقدام کا خیرمقدم کیا

غربت کے خاتمے، غذائی تحفظ اور کمیونٹی سپورٹ کے شعبوں میں کام کرنے والی متعدد تنظیموں نے حکومت کے اس نئے اقدام کا خیرمقدم کیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ کوئی ایک پروگرام مہنگائی کے تمام مسائل حل نہیں کر سکتا، تاہم یہ اضافی مالی امداد لاکھوں کینیڈین شہریوں کو خوراک، ادویات، ٹرانسپورٹ اور گھریلو اخراجات پورے کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

سماجی کارکنوں کے مطابق یہ اقدام خاص طور پر ان کمزور خاندانوں کیلئے اہم ثابت ہوگا جو بڑھتی ہوئی مہنگائی کے دوران مشکل مالی فیصلے کرنے پر مجبور ہیں۔

معاشی چیلنجز بدستور برقرار

دنیا کے دیگر ممالک کی طرح کینیڈا بھی گزشتہ چند برسوں کے دوران عالمی مہنگائی، سپلائی چین میں رکاوٹوں، رہائشی بحران اور بلند شرحِ سود کے باعث معاشی دباؤ کا شکار رہا ہے۔

ایسے حالات میں وفاقی حکومت کی یہ نئی مالی امدادی اسکیم لاکھوں کینیڈین شہریوں کیلئے ایک اہم سہارا سمجھی جا رہی ہے، جو بڑھتے ہوئے اخراجات کے باوجود اپنی مالی استحکام برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

جیسے ہی یہ ادائیگیاں ملک بھر کے بینک اکاؤنٹس میں پہنچنا شروع ہوں گی، توقع کی جا رہی ہے کہ لاکھوں کینیڈین شہری اس اضافی مالی مدد کا خیرمقدم کریں گے اور موجودہ غیر یقینی معاشی حالات میں اسے ایک اہم ریلیف کے طور پر دی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے