قانون کا مقصد نوجوانوں کو آن لائن نقصانات، ذہنی دباؤ، سائبر بُلنگ، نامناسب مواد اور ڈیجیٹل لت سے محفوظ بنانا ہے۔
رپورٹ – محبوب علی شیخ
کینیڈا کی وفاقی حکومت 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پابندی پر مبنی ایک اہم آن لائن سیفٹی بل پارلیمنٹ میں پیش کرنے جا رہی ہے۔ اس قانون کا مقصد نوجوانوں کو آن لائن نقصانات، سائبر بُلنگ، ذہنی دباؤ اور غیر محفوظ مواد سے بچانا ہے۔
کینیڈا کی وفاقی حکومت اس ہفتے ایک ایسا جامع آن لائن سیفٹی بل پارلیمنٹ میں پیش کرنے جا رہی ہے جس کے تحت 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس مجوزہ قانون کا مقصد نوجوانوں کو آن لائن نقصانات، ذہنی دباؤ، سائبر بُلنگ، نامناسب مواد اور ڈیجیٹل لت سے محفوظ بنانا ہے۔
گزشتہ کئی برسوں سے کینیڈا بھر کے ماہرینِ نفسیات، والدین، صحت کے ادارے اور تعلیمی بورڈز اس بات پر تشویش ظاہر کرتے رہے ہیں کہ نوجوانوں میں اسکرین ٹائم مسلسل بڑھ رہا ہے۔ خاص طور پر اونٹاریو کے اسکول بورڈز اور صحت کے ادارے خبردار کرتے رہے ہیں کہ غیر محدود سوشل میڈیا استعمال نوجوانوں کی ذہنی صحت، نیند، تعلیمی کارکردگی اور سماجی رویوں پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
مجوزہ قانون صرف سوشل میڈیا تک محدود نہیں رہے گا بلکہ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی چیٹ بوٹس کے لیے بھی واضح قانونی فریم ورک متعارف کرایا جائے گا۔ اگرچہ AI چیٹ بوٹس پر مکمل پابندی عائد نہیں کی جا رہی، تاہم ان کے آپریٹرز پر بچوں کی حفاظت، شفافیت اور نقصان دہ مواد کی روک تھام کی ذمہ داریاں عائد ہوں گی۔
کینیڈا اس معاملے میں اکیلا نہیں۔ آسٹریلیا پہلے ہی 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی نافذ کر چکا ہے جبکہ فرانس، ڈنمارک، یونان، اسپین، برطانیہ اور دیگر ممالک بھی اسی نوعیت کے قوانین پر کام کر رہے ہیں۔ دنیا بھر میں حکومتیں بچوں کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ٹیکنالوجی کمپنیوں پر زیادہ ذمہ داریاں ڈال رہی ہیں۔
قانون کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اگر کوئی سوشل میڈیا پلیٹ فارم یہ ثابت کر دے کہ اس کی سروس کم عمر صارفین کو مؤثر طور پر محفوظ رکھ سکتی ہے تو وہ حکومتی استثنیٰ (Exemption) کے لیے درخواست دے سکے گا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت مکمل پابندی کے بجائے حفاظت اور احتساب کے درمیان توازن پیدا کرنا چاہتی ہے۔
اگر یہ قانون منظور ہو جاتا ہے تو ٹورنٹو سمیت پورے کینیڈا میں ہزاروں خاندانوں کو اپنے بچوں کے آن لائن استعمال کے طریقہ کار میں تبدیلی لانا پڑے گی۔ والدین کو نئی ذمہ داریاں ملیں گی جبکہ اسکولوں کو بھی ڈیجیٹل تعلیم اور آن لائن سیفٹی کے حوالے سے اپنے پروگرام مزید مضبوط بنانا پڑ سکتے ہیں۔
مختلف ذرائع اور سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ کینیڈین عوام کی ایک بڑی تعداد نوجوانوں کے لیے سوشل میڈیا پابندی یا سخت ضابطوں کی حمایت کرتی ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ مکمل پابندی کے بجائے والدین کی نگرانی، ڈیجیٹل تعلیم اور بہتر پلیٹ فارم ڈیزائن زیادہ مؤثر حل ثابت ہو سکتے ہیں۔
یہ پیش رفت اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ آن لائن نقصانات سے متعلق ایک سابقہ قانون سازی کی کوشش 2025 میں پارلیمنٹ میں مکمل نہ ہو سکی تھی۔ اب وفاقی حکومت نئے انداز اور زیادہ وسیع اختیارات کے ساتھ دوبارہ میدان میں اتری ہے۔
قانون میں AI چیٹ بوٹس کے لیے بھی نئی ذمہ داریاں شامل ہوں گی جبکہ محفوظ پلیٹ فارمز کو حکومتی استثنیٰ حاصل کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ اگر منظور ہو گیا تو یہ قانون کینیڈا کی ڈیجیٹل پالیسی میں ایک تاریخی تبدیلی ثابت ہو سکتا ہے۔
