سینکڑوں پروازیں، مگر لائسنس نہیں، کینیڈا میں “پروجیکٹ اکارس” نے فضائی صنعت کو ہلا کر رکھ دیا ۔
رپورٹ – محبوب علی شیخ
کینیڈا کے سابق پائلٹ پر جعلی لائسنس پر جہاز اڑانے کے سنگین الزامات کسی فلم کی کہانی سے کم نہیں ہے یہ بات پیل پولیس کے افسر نے دوران پریس کانفرس کہی ۔ منگل کے روز کینیڈا کی فضائی صنعت میں ایک ایسا انکشاف سامنے آیا ہے جس نے نہ صرف لاکھوں مسافروں بلکہ ہوابازی کے شعبے کے ماہرین کو بھی حیران کر دیا ہے۔ پیل پولیس کے مطابق ایئر کینیڈا کے ایک سابق کپتان پائلٹ پر الزام ہے کہ انہوں نے تقریباً 27 سالہ کیریئر کے دوران جعلی یا جعلی طور پر پیش کیے گئے لائسنس کی بنیاد پر سیکڑوں پروازیں اڑائیں اور ہزاروں نہیں بلکہ دسیوں ہزار مسافروں کو منزل تک پہنچایا۔ پیل پولیس کے ڈپٹی چیف نک میلونووچ نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ اس کیس کی تفصیلات “کسی فلمی اسکرپٹ” سے کم نہیں لگتیں۔
پولیس کے مطابق 59 سالہ جیوفری وال (Geoffrey Wall) نامی پائلٹ 1998 میں ایئر کینیڈا میں فرسٹ آفیسر کے طور پر شامل ہوئے تھے اور 2009 میں کپتان (Captain) کے عہدے پر ترقی پائی۔ تفتیش کاروں کا الزام ہے کہ انہوں نے 2009 سے 2025 تک تقریباً 900 ملکی اور بین الاقوامی پروازیں ایسی اہلیت کے بغیر اڑائیں جو قانوناً ضروری تھی۔ اس دوران انہوں نے لاکھوں ڈالر تنخواہ اور مراعات کی صورت میں حاصل کیے۔
مارچ 2025 میں ٹورنٹو پیئرسن انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ٹرمینل ون پر ایک معمول کے آپریشنل جائزے کے دوران ان کے پیش کردہ لائسنس کی دستاویزات میں مشکوک تضادات سامنے آئے۔
ٹرانسپورٹ کینیڈا نے ریگولیٹری تحقیقات شروع کیں جن کے بعد جنوری 2026 میں پیل پولیس نے باقاعدہ فوجداری تفتیش کا آغاز کیا۔ تفتیش کے مطابق ملزم کے پاس کمرشل پائلٹ لائسنس تو موجود تھا، لیکن وہ Airline Transport Pilot Licence (ATPL) حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے۔
یہ وہ اعلیٰ ترین لائسنس ہے جو کینیڈا میں بڑی مسافر بردار پروازوں کے کپتانوں کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم بوئنگ 767، 777 اور 787 جیسے بڑے طیارے اڑا رہے تھے، حالانکہ قانوناً انہیں یہ ذمہ داری سنبھالنے کی اجازت نہیں تھی۔
پیل پولیس نے سابق پائلٹ پر متعدد سنگین الزامات عائد کیے ہیں جن میں
پانچ ہزار ڈالر سے زائد فراڈ
جعلی دستاویزات کا استعمال
جعلی سرکاری نشان رکھنے کا جرم
پولیس کو گمراہ کرنے کی کوشش
شامل ہیں۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے جعلی دستاویزات کو چھپانے کے لیے ایک جھوٹی پولیس رپورٹ بھی درج کروائی تھی۔ ان کی اگلی عدالتی پیشی 29 جون کو برامپٹن میں مقرر ہے۔
ایئر کینیڈا نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مسافروں کی حفاظت متاثر نہیں ہوئی کیونکہ متعلقہ پائلٹ ہر چھ ماہ بعد لازمی تربیت اور ہر سال ٹرانسپورٹ کینیڈا کے منظور شدہ چیک پائلٹ کے ساتھ فلائٹ ٹیسٹ کامیابی سے مکمل کرتے رہے۔ کمپنی کے مطابق وہ تکنیکی طور پر ایک تربیت یافتہ اور تجربہ کار کمرشل پائلٹ تھے۔
پیل پولیس کے ڈپٹی چیف نے اس صورتحال کو ایک دلچسپ مثال سے واضح کیا۔ان کے مطابق یہ بالکل ایسے ہے جیسے ایک فیملی ڈاکٹر دماغی سرجری کرنا شروع کر دے۔ انہوں نے کہا کہ لائسنسنگ اور ضابطے کسی وجہ سے موجود ہوتے ہیں اور جب کوئی شخص اپنی اہلیت کے بارے میں غلط بیانی کرتا ہے تو یہ بذات خود عوامی سلامتی کا مسئلہ بن جاتا ہے۔
پیل پولیس سروس بورڈ کے چیئرمین نینڈو ایانیکا نے کہا کہ پیشہ ورانہ اسناد اور اہلیت عوامی اعتماد کی بنیاد ہوتی ہیں۔اگر الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ معاملہ نہ صرف ایک فرد بلکہ پورے نظام کی ساکھ پر سوالات کھڑے کرتا ہے۔
یہ کیس اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ جدید معاشروں میں صرف مہارت کافی نہیں بلکہ قانونی اور اخلاقی اہلیت بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ کسی بھی پیشے میں عوام کا اعتماد برقرار رکھنے کے لیے شفافیت، دیانت داری اور درست اسناد بنیادی ستون سمجھے جاتے ہیں۔
کینیڈا میں ایئر کینیڈا کے ایک سابق کپتان پائلٹ پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے مطلوبہ اعلیٰ درجے کے فضائی لائسنس کے بغیر تقریباً 900 ملکی و بین الاقوامی پروازیں اڑائیں۔ پیل پولیس کے مطابق ملزم نے جعلی دستاویزات کے ذریعے اپنی اہلیت ظاہر کی جبکہ تحقیقات 2025 میں ٹرانسپورٹ کینیڈا کے معائنے کے بعد شروع ہوئیں۔
ایئر کینیڈا کا کہنا ہے کہ مسافروں کی حفاظت متاثر نہیں ہوئی کیونکہ متعلقہ پائلٹ تمام لازمی تربیتی مراحل کامیابی سے مکمل کرتے رہے تھے۔ تاہم پولیس کا مؤقف ہے کہ لائسنسنگ قوانین عوامی تحفظ کے لیے بنائے جاتے ہیں اور ان کی خلاف ورزی سنگین معاملہ ہے ۔
