ممتاز قانون دان اور سابق سپریم کورٹ جج لوئیز آربر نے باضابطہ طور پر کینیڈا کی 31ویں گورنر جنرل کے طور پر اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا

Spread the love

رپورٹ : محبوب علی شیخ 

کینیڈا میں ایک اہم آئینی اور قومی تقریب کے دوران ممتاز قانون دان اور سابق سپریم کورٹ جج لوئیز آربر نے باضابطہ طور پر ملک کی 31ویں گورنر جنرل کے طور پر اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔ اس تقریب کا انعقاد اوٹاوا میں سینیٹ چیمبر میں کیا گیا جہاں اعلیٰ حکومتی شخصیات، کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی ، سابق وزرائے اعظم، عدالتی حکام اور فوجی نمائندے بھی موجود تھے۔ 

گورنر جنرل آف کینیڈا  لوئیز آربر اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی رہنما اور عالمی انصاف کے میدان میں ایک نمایاں شخصیت سمجھی جاتی ہیں۔

گورنر جنرل لوئیز آربر کا شمار دنیا کی ممتاز قانونی شخصیات میں ہوتا ہے۔ وہ نہ صرف کینیڈا کی سپریم کورٹ میں خدمات انجام دے چکی ہیں بلکہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق اور بین الاقوامی انصاف کے متعدد اہم اداروں میں بھی نمایاں کردار ادا کر چکی ہیں۔ سابق یوگوسلاویہ اور روانڈا کے جنگی جرائم کے مقدمات میں بطور چیف پراسیکیوٹر ان کی خدمات عالمی سطح پر تسلیم کی جاتی ہیں۔

گورنر جنرل کینیڈا میں بادشاہ کنگ چارلس سوم کے نمائندے ہوتے ہیں۔ اگرچہ یہ منصب زیادہ تر علامتی اور آئینی نوعیت کا ہے، تاہم پارلیمنٹ کے افتتاح، قوانین کی توثیق، حکومتوں کے حلف اور بعض غیر معمولی آئینی معاملات میں گورنر جنرل کا کردار انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ لوئیز آربر کی تقرری صرف ایک رسمی تبدیلی نہیں بلکہ یہ اس بات کی علامت بھی ہے کہ کینیڈا عالمی انصاف، قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کے اصولوں کو اپنی قومی شناخت کا حصہ سمجھتا ہے۔ ان کی تقرری کو دنیا بھر میں ایک مثبت اور باوقار انتخاب قرار دیا جا رہا ہے۔ 

گورنر جنرل آف کینیڈا لوئیز آربر نے اپنی پہلی سرکاری تقریر میں

مصنوعی ذہانت (AI) کے دور میں غلط معلومات اور حقیقت کے درمیان فرق مٹنے کے خطرات پر توجہ دلائی۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے فوائد کے ساتھ ساتھ معلومات کی درستگی اور جمہوری اقدار کا تحفظ بھی ضروری ہے۔

گورنر جنرل لوئیز آربر نے مریم سائمن کی جگہ یہ عہدہ سنبھالا ہے، جو کینیڈا کی پہلی مقامی (Indigenous) گورنر جنرل تھیں۔ مریم سائمن کے دور کو مقامی آبادیوں کے حقوق، ماحولیاتی مسائل اور قومی مفاہمت کی کوششوں کے حوالے سے یاد رکھا جائے گا۔

کینیڈا جیسے جمہوری ملک میں اس نوعیت کی تقاریب عوام کو اپنے آئینی اداروں، قومی روایات اور عوامی خدمت کے اصولوں پر غور کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ لوئیز آربر کی تقرری اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ مضبوط ادارے کسی بھی ملک کی پائیدار ترقی کی بنیاد ہوتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے