امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سالگرہ اور ایران امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کی تکمیل کے امکانات

Spread the love

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا میں امن قائم کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں اسی لیے شاید اسرائیل کو اتحادی ہونے کے باوجود امن مذاکرات سے دور رکھا جارہا ہے جبکہ پاکستان تاریخی معاہدے میں ثالثی کر رہا ہے

کینیڈا | رپورٹ: محبوب علی شیخ

امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے حتمی امکانات روشن ہوگئے ہیں باوثوق ذرائع کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ایک اہم یادداشتی معاہدہ (MoU) طے پانے کے قریب پہنچ گیا ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان معاہدے کے مندرجات کو لے کر تاحال واضح اختلافات نظر آ رہے ہیں۔ ہفتوں سے اس امن عمل میں ثالث کا کردار ادا کرنے والے پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان امن معاہدے کا حتمی متن تیار ہو چکا ہے۔

پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے ایک بیان میں تصدیق کی کہ پاکستان اب اگلے مراحل کو حتمی شکل دینے کے لیے دونوں فریقین کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔


مغربی اور ایرانی ذرائع سے لیک ہونے والی معاہدے کی مبینہ شرائط بظاہر ایران کے حق میں جاتی دکھائی دے رہی ہیں، جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان رپورٹس کو غلط قرار دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر لکھا کہ ایران نے جو شرائط میڈیا کو لیک کی ہیں، ان کا تحریری طور پر طے پانے والی اصل شرائط سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے ایرانی حکام کو “غیر شریف لوگ” بھی قرار دیا۔ تاہم، اس کے فوراً بعد ٹرمپ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی اس پوسٹ کو ری پوسٹ بھی کیا جس میں ایرانی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ جنگ بندی کا معاہدہ اب تک کے سب سے قریبی ترین مرحلے میں ہے اور فائنل ہونے تک قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے۔


رائٹرز کے مطابق، لیک ہونے والے متن کے تحت ایران کی جانب سے فروری کے حملوں کے بعد بند کی جانے والی “اسٹریٹ آف ہرمز” (Strait of Hormuz) کو دوبارہ کھولنے کے بدلے میں امریکہ ایران کے اربوں ڈالر کے منجمد اثاثے فوری بحال کرے گا اور اس کے تیل کی برآمدات پر سے پابندیاں ہٹائے گا۔ ایران کے میزائل پروگرام پر پابندیوں کے دیرینہ مطالبات کو فی الحال پسِ پشت ڈال دیا گیا ہے اور ایران کو جنگی نقصانات کے معاوضے (War Reparations) پر بھی بات چیت ہوگی۔

دوسری جانب امریکی انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ یہ ایک ‘کارکردگی پر مبنی’ معاہدہ ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح کیا کہ ایران کو صرف دستخط کرنے پر کوئی نقد رقم نہیں مل رہی، بلکہ معاشی فوائد تبھی منتقل ہوں گے جب ایران اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گا۔ امریکی حکام کے مطابق ایران کا یورینیم ذخیرہ تباہ اور جوہری پروگرام ختم کیا جائے گا۔


اس جنگ میں امریکہ کے ساتھ اتحادی ہونے کے باوجود اسرائیل کو ان مذاکرات سے دور رکھا گیا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے صاف کہا ہے کہ ان کا ملک اس معاہدے کا حصہ نہیں بنے گا۔ نیتن یاہو اور صدر ٹرمپ کے درمیان حالیہ دنوں میں اس بات پر شدید اختلافات رہے ہیں کہ امریکہ اسرائیل پر لبنان میں عسکری کارروائیاں روکنے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے تاکہ واشنگٹن تہران کے ساتھ ڈیل کر سکے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا میں امن قائم کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں اسی لیے شاید اسرائیل کو اتحادی ہونے کے باوجود امن مذاکرات سے دور رکھا جارہا ہے جبکہ پاکستان تاریخی معاہدے میں ثالثی کر رہا ہے اور یہ بھی متوقع ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے