بچوں کے دماغی ارتقاء پر سب سے طاقتور اثر ان کے خاندان کی معاشی حالت اور وہ ماحول ڈال سکتا ہے جہاں وہ پروان چڑھتے ہیں۔
کینیڈا | رپورٹ: محبوب علی شیخ
امریکہ میں ہونے والی ایک بڑی سائنسی تحقیق کے مطابق بچوں کے دماغی ارتقاء پر سب سے زیادہ اثر ان کے خاندان کی معاشی حالت اور رہائشی ماحول کا پڑتا ہے۔ تقریباً بارہ ہزار بچوں پر کی گئی اس تحقیق میں معلوم ہوا کہ غربت، وسائل کی کمی، ذہنی دباؤ اور نیند کے مسائل دماغی نشوونما پر نمایاں اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
واشنگٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن کی تازہ تحقیق کے مطابق بچوں کے دماغی ارتقاء پر سب سے طاقتور اثر ان کے خاندان کی معاشی حالت اور وہ ماحول ڈال سکتا ہے جہاں وہ پروان چڑھتے ہیں۔
محققین نے تقریباً 12 ہزار بچوں کے دماغی اسکینز کا تجزیہ کیا جن کی عمریں 9 اور 10 سال کے درمیان تھیں۔ اس تحقیق میں بچوں کی زندگی کے 649 مختلف عوامل کا جائزہ لیا گیا جن میں نیند، دوستی اور سماجی تعلقات، والدین کے ساتھ تعلقات ، اسکرین ٹائم، جسمانی صحت ، ذہنی صحت ، خاندانی آمدنی ، گھر کی ملکیت ، محلے کی غربت کی شرح اور وسائل تک رسائی شامل تھے۔
نتائج نے ظاہر کیا کہ معاشی و سماجی عوامل (Socioeconomic Factors) دماغی ساخت اور دماغی کارکردگی سے سب سے مضبوط تعلق رکھتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق دماغی کارکردگی میں پائے جانے والے فرق کا تقریباً 16 فیصد حصہ صرف معاشی و سماجی عوامل سے منسلک پایا گیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ دماغی کارکردگی سے سب سے زیادہ تعلق رکھنے والے 40 اہم عوامل میں سے 37 براہ راست معاشی حالات سے متعلق تھے۔
اسی طرح دماغی ساخت پر اثر انداز ہونے والے 40 نمایاں عوامل میں سے 35 کا تعلق بھی معاشی حالات سے تھا۔
یہ اعدادوشمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بچے کس محلے میں رہتے ہیں، گھر کا مالی استحکام کیسا ہے اور ان کے اردگرد وسائل کتنے دستیاب ہیں، یہ سب ان کے دماغی ارتقاء میں انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اگرچہ معاشی عوامل سب سے زیادہ طاقتور ثابت ہوئے، تاہم نیند، مسلسل ذہنی دباؤ (Stress) اور ضرورت سے زیادہ اسکرین ٹائم بھی دماغی نشوونما سے منسلک پائے گئے۔
محققین کے مطابق دماغ کے وہ حصے جو حرکت (Movement) اور حسی معلومات (Sensory Processing) کو کنٹرول کرتے ہیں، نیند اور ذہنی دباؤ کے اثرات کے لیے خاص طور پر حساس ہوتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف ذہانت یا والدین کی تربیت ہی کافی نہیں بلکہ محفوظ ماحول، معاشی استحکام اور بہتر زندگی کے مواقع بچوں کے روشن مستقبل کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
دنیا بھر میں والدین برسوں سے یہ سمجھتے آئے ہیں کہ بچوں کی ذہانت، والدین کی تربیت یا موروثی عوامل ہی ان کے دماغی ارتقاء کے بنیادی محرک ہوتے ہیں۔ تاہم امریکہ میں ہونے والی ایک بڑی سائنسی تحقیق نے اس تصور کو جزوی طور پر چیلنج کرتے ہوئے ایک نئی حقیقت سامنے رکھی ہے۔
نیورولوجی کے پروفیسر ڈاکٹر نیکو ڈوزن باخ کے مطابق اگر کسی فرد کی نیند پوری نہ ہو تو دماغ کے بنیادی حسی اور حرکتی حصوں میں واضح تبدیلیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔”
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ کیفین یا بعض محرک ادویات انہی دماغی حصوں میں مخالف نوعیت کے اثرات پیدا کرتی ہیں۔
اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ غربت، غیر یقینی حالات اور دائمی ذہنی دباؤ بالواسطہ طور پر نیند کو متاثر کرکے بچوں کے دماغی ارتقاء پر اثر ڈال سکتے ہیں۔
کئی دہائیوں سے یہ تصور موجود رہا ہے کہ انسان کی ذہانت کو دماغی ساخت سے براہ راست سمجھا جا سکتا ہے۔ تاہم اس تحقیق نے اس نظریے پر بھی سوال اٹھا دیا۔
جب محققین نے معاشی حالات کو تحقیق میں شامل کرکے تجزیہ کیا تو IQ اور دماغی ساخت کے درمیان پائے جانے والے تقریباً 70 فیصد تعلقات شماریاتی طور پر غیر مؤثر ثابت ہوئے۔
مزید حیران کن بات یہ تھی کہ جب صرف خوشحال اور متوسط طبقے کے بچوں کا جائزہ لیا گیا تو IQ اور دماغی ساخت کے درمیان تقریباً کوئی تعلق باقی نہیں رہا۔
یہ تحقیق اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ بچوں کی ذہنی نشوونما صرف اسکول، ٹیوشن یا تعلیمی کارکردگی تک محدود نہیں۔
ایک محفوظ گھر، معیاری نیند، کم ذہنی دباؤ، بہتر رہائشی ماحول اور معاشی استحکام بچوں کے دماغ کو پروان چڑھانے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر حکومتیں اور معاشرے بچوں کی ترقی چاہتے ہیں تو انہیں صرف تعلیمی اصلاحات پر نہیں بلکہ غربت میں کمی، بہتر رہائش، صحت مند ماحول اور خاندانی استحکام پر بھی توجہ دینی ہوگی۔
اس تحقیق کا سب سے بڑا پیغام یہ ہے کہ بچوں کا دماغ صرف پیدائشی ذہانت یا تعلیمی کارکردگی سے تشکیل نہیں پاتا بلکہ روزمرہ زندگی کا ماحول، گھر کا سکون، مالی استحکام اور معاشرتی حالات ان کے دماغ کے بنیادی ڈھانچے کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔
شاید یہی وجہ ہے کہ جدید سائنس اب تعلیم کے ساتھ ساتھ سماجی انصاف، غربت کے خاتمے اور بہتر معاشی مواقع کو بھی بچوں کے روشن مستقبل سے جوڑ کر دیکھ رہی ہے۔
اس تحقیق سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ بچوں کا مستقبل صرف کتابوں سے نہیں بنتا اور یہ تحقیق ہمیں یاد دلاتی ہے کہ بچوں کے دماغ کی تعمیر صرف پیدائشی ذہانت یا نصابی کامیابی کا نتیجہ نہیں ہوتی۔
گھر کا سکون، مالی تحفظ، رہائشی ماحول اور سماجی انصاف—یہ سب مل کر آنے والی نسل کے ذہن اور مستقبل کی بنیاد رکھتے ہیں۔
شاید اسی لیے جدید سائنس اب تعلیم کے ساتھ ساتھ غربت کے خاتمے، بہتر رہائش اور معاشی مواقع کو بھی بچوں کی کامیابی کا بنیادی ستون قرار دے رہی ہے۔
