تجارتی تعلقات کا نیا موڑ! امریکہ نے CUSMA کی توسیع سے انکار کیا، کینیڈا اور میکسیکو مذاکرات کی میز پر

Spread the love

معاہدہ ختم نہیں، شمالی امریکہ کے تجارتی مستقبل کا فیصلہ اب مذاکرات سے ہوگا! 

رپورٹ : محبوب علی شیخ 

امریکہ نے کینیڈا، امریکہ اور میکسیکو کے درمیان موجود CUSMA تجارتی معاہدے کی موجودہ شکل میں تجدید سے انکار کر دیا ہے، تاہم معاہدہ فوری طور پر ختم نہیں ہوا بلکہ اب سالانہ نظرثانی کے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ کینیڈا اور میکسیکو نے مذاکرات جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے جبکہ امریکہ معاہدے کی بعض خامیوں اور تجارتی خسارے پر مزید بات چیت چاہتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے فوری طور پر تجارت متاثر نہیں ہوگی، لیکن آنے والے مہینوں میں ہونے والے مذاکرات شمالی امریکہ کی معیشت، سرمایہ کاری اور روزگار کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوں گے۔

امریکہ نے کینیڈا، امریکہ اور میکسیکو کے درمیان موجود سہ فریقی تجارتی معاہدے CUSMA (Canada–United States–Mexico Agreement) کی موجودہ شکل میں تجدید سے انکار کر دیا ہے، جس کے بعد معاہدہ اب خودکار طور پر سالانہ نظرثانی (Annual Review Process) کے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔

امریکی تجارتی نمائندے جمیسن گریئر نے واضح کیا کہ امریکہ موجودہ معاہدے کی خامیوں اور کینیڈا و میکسیکو کے ساتھ اپنے تجارتی خسارے پر مزید مذاکرات چاہتا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ معاہدہ فوری طور پر ختم نہیں ہوا بلکہ بدستور نافذ العمل رہے گا، جب تک کہ کوئی نیا فیصلہ یا باضابطہ خاتمہ نہ ہو۔

بدھ کے روز کینیڈا، امریکہ اور میکسیکو کے اعلیٰ تجارتی نمائندوں کے درمیان ورچوئل اجلاس منعقد ہوا۔

کینیڈا کی نمائندگی ڈومینک لی بلانک اور چیف مذاکرات کار جینس شاریٹ نے کی، جبکہ میکسیکو نے بھی معاہدے کی تجدید کی حمایت کا اعادہ کیا۔

کینیڈا نے ایک مرتبہ پھر اس خواہش کا اظہار کیا کہ CUSMA کی تجدید کی جائے تاکہ شمالی امریکہ میں سرمایہ کاری، روزگار اور تجارتی استحکام برقرار رہے۔

کینیڈا کے وزیر تجارت نے کہا کہ آئندہ مذاکرات میں صرف CUSMA ہی نہیں بلکہ امریکی ٹیرف بھی اہم موضوع ہوں گے۔

ان مذاکرات میں خصوصا اسٹیل، ایلومینیم، گاڑیوں اور لکڑی پر بھی شامل ہیں اور کینیڈین اسٹیل،  ایلومینیم ، آٹوموبائل اور لکڑی (Lumber) پر عائد امریکی محصولات کو بھی زیر بحث لایا جائے گا۔

اصل معاہدہ سولہ سال کے لیے تجدید ہونا تھا، لیکن امریکہ کی جانب سے منظوری نہ ملنے کے باعث اب اگلے تقریباً دس برس تک ہر سال اس کا جائزہ لیا جائے گا۔

ماہرین کے مطابق اس کا مطلب یہ نہیں کہ تجارت رک جائے گی بلکہ ہر سال معاہدے کی کارکردگی، تنازعات اور ممکنہ تبدیلیوں پر مذاکرات جاری رہیں 

میکسیکو کے وزیر اقتصادیات مارسیلو ایبرارڈ نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ معاہدہ بدستور برقرار ہے اور گھبرانے کی ضرورت نہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ اسی ماہ امریکی حکام سے دوطرفہ ملاقاتیں ہوں گی تاکہ صنعتوں میں موجود بے یقینی کم کی جا سکے۔

کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ انہیں اس ڈیڈ لائن پر کسی بڑی پیش رفت یا ڈرامائی اعلان کی توقع نہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل CUSMA پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ اگرچہ انہوں نے ماضی میں معاہدہ ختم کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی، لیکن موجودہ فیصلے میں امریکہ نے صرف تجدید سے انکار کیا ہے، معاہدہ ختم کرنے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا۔

تجارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں اور صنعتوں میں غیر یقینی ضرور بڑھے گی، لیکن چونکہ معاہدہ ابھی بھی نافذ ہے، اس لیے فوری تجارتی بحران پیدا ہونے کا امکان کم ہے۔

سابق کینیڈین چیف مذاکرات کار اسٹیو ورہیول کے مطابق آئندہ مذاکرات زیادہ تر دوطرفہ تجارتی اختلافات پر مرکوز رہیں گے جبکہ CUSMA کے بنیادی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔

اگر مستقبل میں مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو اس کے ممکنہ اثرات پڑ سکتے ہیں جنمیں  گاڑیوں کی قیمتیں،  صنعتی مصنوعات ، اسٹیل اور ایلومینیم کی صنعت ،  سرحد پار تجارت،  سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع شامل ہیں فی الحال روزمرہ زندگی میں فوری تبدیلی کا امکان نہیں، لیکن کاروباری ادارے مستقبل کی حکمت عملی پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور یہ  فیصلہ شمالی امریکہ کی تجارت کے خاتمے کا اعلان نہیں بلکہ ایک نئے مذاکراتی دور کا آغاز ہے۔

امریکہ معاہدہ مکمل ختم کرنے کے بجائے اپنی شرائط مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ کینیڈا اور میکسیکو استحکام اور طویل المدتی تجارتی یقین دہانی چاہتے ہیں۔

آنے والے مہینوں میں ہونے والے مذاکرات اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا شمالی امریکہ کا سب سے اہم تجارتی معاہدہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہوگا یا مزید پیچیدہ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے