کینیڈا میں نسل پرستی کے خلاف 25ویں سالانہ دوڑ کا انعقاد — ہزاروں دل، ایک پیغام: اتحاد، احترام اور مساوات

Spread the love

پیل پولیس کی جانب سے نسل پرستی کے خلاف 25ویں سالانہ دوڑ میں پاکستانی کمیونٹی کے رہنما پرویز اختر کی جانب سے 25 ہزار ڈالرکا عطیہ ، جمع ہونے والی رقم کو نوجوانوں کے تعلیمی وظائف (اسکالرشپس) کے لیے مختص کیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنی مکمل صلاحیتوں تک پہنچ سکیں

کینیڈا | رپورٹ: محبوب علی شیخ

کینیڈا کے صوبہ اونٹاریو میں پیل پولیس کی جانب سے نسل پرستی کے خاتمے، تنوع کے فروغ اور مختلف ثقافتوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کے مقصد سے “نسل پرستی کے خلاف 25ویں سالانہ دوڑ (Race Against Racism)” کا شاندار انعقاد کیا گیا۔ یہ تقریب نہ صرف کھیل اور صحت کے فروغ کا ذریعہ بنی بلکہ اتحاد، مساوات، شمولیت اور باہمی احترام کے پیغام کو عام کرنے کا ایک مؤثر پلیٹ فارم بھی ثابت ہوئی۔

اس سالانہ تقریب میں مختلف کمیونٹیز سے تعلق رکھنے والے افراد، پولیس افسران، سماجی رہنماؤں، نوجوانوں، بزرگوں اور خاندانوں نے بھرپور شرکت کی۔ ریس میں شرکت کرنے والے افراد کے لیے پیل پولیس کی جانب سے خصوصی جرسیوں کا انتظام کیا گیا، جس نے تقریب کو مزید منظم اور پرجوش بنا دیا۔

تقریب کا مرکزی حصہ پانچ کلومیٹر دوڑ تھی، جس میں نوجوانوں اور بزرگوں نے جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا۔ ریس کے اختتام پر مختلف کیٹیگریز میں پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے شرکاء میں تمغے تقسیم کیے گئے، جبکہ حاضرین نے کامیاب شرکاء کو بھرپور انداز میں سراہا۔

تقریب کے دوران پاکستانی کمیونٹی کے ممتاز رہنما پرویز اختر نے نوجوانوں کی تعلیم اور ترقی کے لیے 25 ہزار ڈالر کے عطیے کا اعلان کیا۔ ریس سے جمع ہونے والی رقم نوجوانوں کے تعلیمی وظائف (اسکالرشپس) کے لیے مختص کی جاتی ہے تاکہ وہ اپنی مکمل صلاحیتوں تک پہنچ سکیں اور مستقبل میں مثبت کردار ادا کریں۔

اس تقریب کا ایک نمایاں اور منفرد پہلو کمیونٹی کی جانب سے مہمان نوازی بھی تھی۔ پاکستانی کمیونٹی کی اہم شخصیت اورنگزیب، جو بلیک اسٹون ریسٹورنٹ کے مالک بھی ہیں، اپنی اہلیہ اور پرویز اختر کی پوری فیملی کے ہمراہ تقریب میں شریک ہوئے اور انہوں نے ریس میں شرکت کرنے والے پانچ سو سے زائد افراد کے لیے اپنے ہاتھوں سے مزیدار چکن اور بیف کے مفت برگرز تیار کرکے پیش کیے، جسے شرکاء نے بے حد سراہا۔

دوسری جانب پیل پولیس نے بھی شرکاء کے لیے بہترین انتظامات کیے۔ ٹھنڈے مشروبات، پھل، فروٹ، بچوں کے لیے پاپ کارن، سموسے اور ڈونٹس بڑی مقدار میں فراہم کیے گئے، جس سے تقریب خاندانی اور دوستانہ ماحول کا خوبصورت نمونہ بن گئی۔

تقریب کے مقام پر 20 سے زائد معلوماتی اسٹالز بھی قائم کیے گئے، جہاں مختلف اداروں اور تنظیموں نے اپنی خدمات اور کمیونٹی پروگرامز کے بارے میں آگاہی فراہم کی۔ ان میں خاص طور پر ریفیوجی گرلز کے ادارے کے رہنما فیصل یوسف اور ان کی ٹیم نے بھی بھرپور شرکت کرتے ہوئے اپنی سماجی خدمات اور اقدامات سے شرکاء کو آگاہ کیا۔

تقریب میں پیل ریجنل پولیس کے چیف نشان درائی اپاہ، ڈپٹی چیفس، بڑی تعداد میں پولیس افسران، کینیڈین رکن پارلیمنٹ فارس السعود سمیت مختلف شہری نمائندوں اور کونسلرز نے بھی شرکت کی اور نسل پرستی کے خلاف اجتماعی جدوجہد کے عزم کا اعادہ کیا۔

مقررین نے اس موقع پر زور دیا کہ نسل پرستی اور امتیازی سلوک کے خلاف جدوجہد صرف ایک دن یا ایک تقریب تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ یہ ایک مسلسل سماجی ذمہ داری ہے، جس میں معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

تقریب کے اختتام پر شرکاء نے امید ظاہر کی کہ ایسے اقدامات ایک زیادہ منصفانہ، محفوظ، متنوع اور مساوی معاشرے کے قیام میں اہم کردار ادا کرتے رہیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے