ماہرہ خان کی شاہِ معظم کنگ چارلس سوم سے ملاقات — فن، سماجی خدمت اور عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کا ایک یادگار لمحہ

Spread the love

کینیڈا | رپورٹ: محبوب علی شیخ

پاکستانی فلم اور ٹی وی انڈسٹری کی عالمی شہرت یافتہ اداکارہ ماہرہ خان نے لندن میں منعقدہ برٹش ایشین ٹرسٹ کی ایک خصوصی تقریب کے دوران برطانیہ کے بادشاہ شاہِ معظم کنگ چارلس سوم سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات نہ صرف ماہرہ خان کے لیے بلکہ پاکستانی فن و ثقافت کی عالمی نمائندگی کے تناظر میں بھی ایک اہم اور قابلِ ذکر لمحہ قرار دی جا رہی ہے۔

کنگ چارلس سوم، جو ملکہ الزبتھ دوم اور پرنس فلپ، ڈیوک آف ایڈنبرا کے سب سے بڑے صاحبزادے ہیں، طویل عرصے سے سماجی فلاح، ماحولیاتی تحفظ، ذہنی صحت اور کمیونٹی ویلفیئر جیسے شعبوں میں دلچسپی رکھتے رہے ہیں۔ اسی پس منظر میں منعقد ہونے والی اس تقریب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ نمایاں شخصیات نے شرکت کی۔

ایک ملاقات، کئی اہم موضوعات

تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ماہرہ خان نے بتایا کہ کنگ چارلس کے ساتھ ان کی ملاقات نہایت خوشگوار، بامقصد اور متاثر کن رہی۔

ان کے مطابق گفتگو کے دوران برٹش ایشین ٹرسٹ کے تحت جاری سماجی، فلاحی اور انسانی ترقی کے منصوبوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا، جبکہ ذہنی صحت، سماجی بہبود اور نوجوانوں کی بہتری جیسے موضوعات بھی زیرِ گفتگو آئے۔

ماہرہ خان نے کہا کہ کنگ چارلس نے ان کے سماجی کاموں اور انسانی خدمت سے متعلق سرگرمیوں میں خصوصی دلچسپی ظاہر کی اور ان کی کاوشوں کو سراہا۔

اداکارہ ماہرہ خان کے مطابق شاہ چارلس نہایت خوش اخلاق، باوقار اور سماجی بہتری کے لیے سنجیدہ سوچ رکھنے والی شخصیت ہیں۔ انہوں نے مختلف سماجی منصوبوں اور ان کے اثرات کے بارے میں تفصیل سے سوالات کیے۔”

ذہنی صحت اور سماجی شعور پر زور

ماہرہ خان نے اس موقع پر ذہنی صحت کے موضوع کو خصوصی اہمیت دیتے ہوئے کہا کہ ذہنی امراض کو بھی جسمانی بیماریوں کی طرح سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ دور میں ہراسانی، تشدد اور سماجی دباؤ جیسے مسائل معاشرے کے لیے سنگین چیلنج بن چکے ہیں اور ان سے نمٹنے کے لیے صرف قوانین کافی نہیں بلکہ اجتماعی شعور، سماجی تربیت اور انسانی رویوں میں مثبت تبدیلی بھی ضروری ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ قانون شکنی اور تشدد میں ملوث افراد کے خلاف مؤثر اور مثال قائم کرنے والی کارروائی ہونی چاہیے تاکہ معاشرے میں مثبت پیغام جا سکے۔

ماہرہ خان پاکستان کی عالمی شناخت بننے والا نام

ماہرہ خان آج پاکستان کی اُن چند فنکار شخصیات میں شمار ہوتی ہیں جنہوں نے ملکی سرحدوں سے باہر بھی اپنی شناخت قائم کی۔

انہوں نے اپنے فنی سفر کا آغاز فلم بول اور ڈرامہ ہمسفر سے کیا، جنہوں نے انہیں غیر معمولی شہرت دلائی۔ بعد ازاں انہوں نے بھارتی فلم انڈسٹری میں بھی قدم رکھا اور بالی ووڈ سپر اسٹار شاہ رخ خان کے ساتھ فلم رئیس میں اداکاری کرکے عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

تاہم ماہرہ خان کی شخصیت صرف اداکاری تک محدود نہیں رہی بلکہ وہ سماجی آگاہی، خواتین کے مسائل، ذہنی صحت اور انسانی ہمدردی جیسے موضوعات پر بھی فعال آواز سمجھی جاتی ہیں۔

ایک صحافی کی نظر سے

مجھے بطور صحافی مختلف پروگراموں اور مواقع پر ماہرہ خان سے ملاقات اور مشاہدے کے دوران یہ بات نمایاں محسوس ہوئی کہ شہرت کی بلندیاں حاصل کرنے کے باوجود وہ عاجزی، محبت، ملنساری اور انسانی ہمدردی کی اقدار کو اپنی شخصیت کا حصہ بنائے ہوئے ہیں۔

ان کی شخصیت اس بات کی مثال دکھائی دیتی ہے کہ عالمی شہرت اور سماجی ذمہ داری ایک ساتھ چل سکتی ہیں۔

یہ ملاقات صرف ایک رسمی شاہی ملاقات نہیں بلکہ فن، سماجی خدمت اور عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت تشخص کی نمائندگی کا ایک اہم اور یادگار لمحہ بھی سمجھی جا رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے