جی ٹی اے میں نوجوانوں کی خفیہ ایپس کے ذریعے مبینہ بھرتی نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
پولیس کا بڑا دعویٰ نوجوانوں کو خفیہ پیغامات، فوری رقم اور مجرمانہ نیٹ ورکس کے ذریعے استعمال کیا جا رہا ہے
خصوصی رپورٹ: محبوب علی شیخ
کیا جدید دور کا جرائم اب سڑکوں سے نکل کر موبائل اسکرینوں میں منتقل ہو چکا ہے؟ ٹورنٹو پولیس کی جاری تحقیقات نے ایک ایسا تشویشناک رجحان سامنے لانے کا دعویٰ کیا ہے جس نے گریٹر ٹورنٹو ایریا (GTA) میں شہری سلامتی، نوجوانوں کے مستقبل اور قومی تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ٹورنٹو پولیس نے انکشاف کیا ہے کہ جی ٹی اے میں ہونے والی متعدد فائرنگوں کے پیچھے ایک منظم “گن فار ہائر” نیٹ ورک کام کر رہا ہے جہاں نوجوانوں کو واٹس ایپ، ٹیلیگرام اور سگنل جیسی خفیہ ایپس کے ذریعے بھرتی کیا جاتا ہے۔ پولیس کے مطابق دو ضبط شدہ ہتھیار کم از کم 28 فائرنگ کے واقعات سے منسلک پائے گئے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ بعض حملوں کا مقصد مخصوص کمیونٹیز میں خوف پیدا کرنا تھا جبکہ تحقیقات اب ان افراد تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں جو پس پردہ بیٹھ کر ان کارروائیوں کی مالی معاونت اور منصوبہ بندی کر رہے ہیں
منگل کو منعقدہ پریس کانفرنس میں ٹورنٹو پولیس نے انکشاف کیا کہ دو ضبط شدہ پستول کم از کم 28 مختلف فائرنگ کے واقعات سے منسلک پائے گئے ہیں۔
تحقیقات کے مطابق ایک .45 کیلیبر اور ایک 9 ملی میٹر ہینڈ گن مختلف افراد کے درمیان گردش کرتی رہیں اور متعدد حملوں میں استعمال ہوئیں۔
پولیس کا ماننا ہے کہ ایک ہی ہتھیار مختلف نوجوان شوٹرز کو مخصوص کارروائیوں کے لیے فراہم کیا جاتا تھا، جس سے اس نیٹ ورک کی منظم نوعیت واضح ہوتی ہے۔
پولیس نے تین نوجوان افراد کی شناخت کی ہے جن کا تعلق ان ہتھیاروں سے جوڑا گیا ہے
پولیس کے مطابق شیldon ٹریسی-اسٹیورٹ اور زارا جبی پر 10 مارچ کو امریکی قونصل خانے پر فائرنگ میں ملوث ہونے کا شبہ ہے جبکہ جے آن برگر کو ایٹوبیکوک میں ہونے والی ایک علیحدہ فائرنگ کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق حالیہ متعدد فائرنگ کے واقعات کے پیچھے ایک مبینہ منظم “Gun-for-Hire” ماڈل کام کر رہا تھا، جہاں نوجوانوں تک رسائی خفیہ اور انکرپٹڈ میسجنگ ایپس کے ذریعے کی جاتی تھی۔ تحقیقات میں یہ مؤقف سامنے آیا کہ بعض افراد کو مخصوص کارروائیوں کے لیے مالی ترغیب دے کر استعمال کیا جا رہا تھا۔
حکام کے مطابق ضبط کیے گئے دو ہتھیار کم از کم 28 مختلف فائرنگ کے واقعات سے منسلک پائے گئے۔ تحقیقات میں یہ امکان بھی زیر غور ہے کہ ایک ہی ہتھیار مختلف افراد کے درمیان گردش کرتا رہا اور مختلف کارروائیوں میں استعمال ہوا۔
تحقیقات سے وابستہ اداروں کے مطابق بعض رابطے WhatsApp، Telegram اور Signal جیسے انکرپٹڈ پلیٹ فارمز پر ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے، جس کے باعث قانون نافذ کرنے والے اداروں کو شواہد تک پہنچنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
پولیس کے مطابق کچھ حملوں کا مقصد صرف مجرمانہ کارروائی نہیں بلکہ مخصوص کمیونٹیز میں خوف اور عدم تحفظ کا ماحول پیدا کرنا بھی ہو سکتا ہے۔ اسی تناظر میں بعض واقعات میں قومی سلامتی کے ادارے بھی معاونت فراہم کر رہے ہیں۔
اس کیس کا ایک اور چونکا دینے والا پہلو یہ ہے کہ تحقیقات کے مطابق بعض حملہ آوروں سے مبینہ طور پر کارروائی کے ثبوت بھی طلب کیے جاتے تھے تاکہ ادائیگی یا تصدیق ممکن بنائی جا سکے۔ اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ روایتی جرائم سے آگے بڑھ کر ڈیجیٹل رابطوں، خفیہ نیٹ ورکس اور کرائے پر تشدد کے ایک نئے ماڈل کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ یہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی چیلنج بھی بن سکتا ہے۔ جب نوجوان فوری پیسے، آن لائن اثر و رسوخ یا دباؤ کے تحت خطرناک نیٹ ورکس کا حصہ بننے لگیں تو پورا معاشرہ متاثر ہوتا ہے۔
عوام کے لیے اہم پیغام:
• نوجوانوں کی آن لائن سرگرمیوں پر مثبت نگرانی رکھیں
• مشکوک بھرتی، فوری رقم یا خفیہ “جاب آفرز” سے محتاط رہیں
• کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع متعلقہ حکام کو دیں
• کمیونٹی، خاندان اور تعلیمی ادارے نوجوانوں کو محفوظ ڈیجیٹل رویوں سے آگاہ کریں
بطور صحافتی میرا زاتی تجزیہ یہ ہے کہ اگر یہ الزامات تحقیقات میں ثابت ہوتے ہیں تو یہ صرف فائرنگ کے واقعات کی کہانی نہیں ہوگی بلکہ اس حقیقت کی علامت ہوگی کہ جدید جرائم تیزی سے ڈیجیٹل ہوتے جا رہے ہیں—جہاں اسلحہ گردش کرتا ہے، احکامات اسکرینوں پر آتے ہیں، اور بعض نوجوان خود مجرم نہیں بلکہ استعمال ہونے والے مہرے بن جاتے ہیں۔
تحقیقات جاری ہیں، اور حتمی نتائج متعلقہ اداروں کی جانب سے سامنے آئیں گے۔
کینیڈین حکام کے سامنے اب اصل چیلنج صرف شوٹرز کو پکڑنا نہیں بلکہ ان پردہ نشین عناصر تک پہنچنا ہے جو ان حملوں کی منصوبہ بندی اور مالی معاونت کر رہے ہیں۔
