G7 اجلاس ایران-امریکا جنگ بندی پر پیش رفت، توانائی اور مشرق وسطیٰ میں بڑی تبدیلیوں کے اشارے

Spread the love

عالمی رہنماؤں کے اجلاس میں ڈونلڈ ٹرمپ کو خراج تحسین

امریکہ ایران جنگ بندی معاہدے کا خیرمقدم 

رپورٹ : محبوب علی شیخ 

G7 کے رہنماؤں نے فرانس کے شہر ایویان-لے-بین میں ہونے والے اجلاس کے دوران لبنان میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے اور ایران-امریکا تنازع میں عارضی امن معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔

اجلاس کے دوران رہنماؤں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ توانائی کے عالمی نظام کو متنوع بنایا جائے تاکہ آبنائے ہرمز پر انحصار کم کیا جا سکے، جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے۔

ذرائع کے مطابق Iran اور United States کے درمیان ایک عبوری جنگ بندی معاہدہ طے پا رہا ہے، جو مستقل امن کی طرف مذاکرات کی راہ ہموار کرے گا۔

جی7 رہنماؤں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام سمیت خطے میں خطرات کو کم کرنا ضروری ہے، اور اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے۔

معاہدے کے تحت ایک عبوری 60 روزہ جنگ بندی کی توسیع بھی زیر غور ہے، جبکہ لبنان میں صورتحال بدستور کشیدہ ہے جہاں اسرائیلی افواج اور حزب اللہ کے درمیان تناؤ برقرار ہے۔

توانائی منڈیوں میں اس پیش رفت کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ہے، اور ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے سے عالمی سپلائی میں اضافہ ممکن ہے۔

جی7 نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ توانائی کی سپلائی چین کو متبادل راستوں کی طرف منتقل کیا جائے گا تاکہ مستقبل میں اس خطے پر انحصار کم کیا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے