خصوصی رپورٹ : محبوب علی شیخ
فرانس میں جی-7 سربراہی اجلاس کے دوران ایک غیر متوقع لمحہ اُس وقت عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گیا جب کینیڈا کے وزیرِ اعظم Mark Carney اور امریکی صدر Donald Trump کے درمیان ہونے والی گفتگو مائیکروفون میں ریکارڈ ہوگئی۔ یہ گفتگو بظاہر چینی ساختہ الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کے بارے میں تھی، جس نے نہ صرف کینیڈا بلکہ امریکہ، چین اور عالمی تجارتی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی۔
کیمروں اور مائیکروفونز میں ریکارڈ ہونے والی گفتگو میں وزیرِ اعظم مارک کارنی کو صدر ٹرمپ سے کہتے سنا گیا یہ ہمارے مارکیٹ کا تین فیصد سے بھی کم حصہ ہے، تقریباً 49 ہزار گاڑیاں۔ بعد ازاں مارک کارنی نے ہاتھ کے اشارے سے واضح کیا کہ یہ تعداد ایک “کیپ” یا حد کے تحت مقرر کی گئی ہے۔ ان کے مطابق کینیڈا ہر سال زیادہ سے زیادہ 49,000 چینی ساختہ الیکٹرک گاڑیوں کو ملک میں آنے کی اجازت دے گا۔
صدر ٹرمپ نے اس پر مثبت ردِعمل دیتے ہوئے کہا یہ اچھا ہے، مجھے پسند آیا۔
یہ مختصر مکالمہ عالمی تجارتی پالیسیوں کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا۔
جنوری 2026 میں چین کے دورے کے دوران وزیر اعظم مارک کارنی نے ایک ایسا تجارتی معاہدہ کیا جس نے سابقہ پالیسیوں میں نمایاں تبدیلی پیدا کی۔
اس معاہدے کے تحت چینی EVs پر کینیڈا کا ٹیرف 100 فیصد سے کم ہو کر 6.1 فیصد ہوگیا۔ محدود تعداد میں چینی گاڑیوں کو کینیڈین مارکیٹ تک رسائی دی گئی۔ چین نے کینیڈین زرعی اور سمندری مصنوعات پر محصولات میں نمایاں کمی کردی اور خصوصاً کینیڈین کینولا (Canola) کے برآمد کنندگان کو بڑا ریلیف ملا۔ مارک کارنی حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ معاہدہ کینیڈین کسانوں، برآمد کنندگان اور صارفین کے مفاد میں ہے۔
امریکہ اب بھی چینی الیکٹرک گاڑیوں پر بھاری محصولات نافذ کیے ہوئے ہے۔ سابق وزیرِ اعظم Justin Trudeau کے دور میں کینیڈا نے بھی امریکی مؤقف کے مطابق سخت پابندیاں عائد کی تھیں۔
تاہم مارک کارنی نے اقتدار سنبھالنے کے بعد چین کے ساتھ تعلقات میں نئی گرمجوشی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے کینیڈا اور امریکہ کے درمیان تجارتی تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں۔
امریکی وزیرِ تجارت Howard Lutnick نے رواں سال خبردار کیا تھا کہ کینیڈا چین کے ساتھ تعلقات بڑھا کر ایسے اصولوں پر کھیل رہا ہے جن کے طویل المدتی نتائج پر مکمل غور نہیں کیا گیا۔
انہوں نے بالواسطہ اشارہ دیا تھا کہ اگر کینیڈا چین کے ساتھ تجارتی روابط میں مزید وسعت لاتا ہے تو مستقبل میں کینیڈا-امریکہ-میکسیکو تجارتی معاہدہ (CUSMA) بھی دباؤ کا شکار ہوسکتا ہے۔
جی-7 اجلاس روایتی طور پر عالمی معیشت، سلامتی، توانائی اور تجارت جیسے موضوعات پر مرکوز ہوتا ہے۔
اس مرتبہ امریکہ اور چین کے درمیان کشیدگی، سپلائی چینز کا مستقبل، الیکٹرک گاڑیوں کی عالمی منڈی اور شمالی امریکہ میں صنعتی مسابقت اہم موضوعات میں شامل ہیں۔
مارک کارنی اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والی مختصر گفتگو دراصل انہی وسیع تر اقتصادی مباحث کا حصہ سمجھی جا رہی ہے۔
کینیڈا کے وزیر برائے کینیڈا-امریکہ تجارت Dominic LeBlanc نے بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نے صدر ٹرمپ کو کوئی نئی بات نہیں بتائی۔
ان کے مطابق وزیر اعظم نے صرف صدر ٹرمپ کو ایک ایسے معاہدے کی تفصیلات یاد دلائیں جو کئی ماہ سے عوامی سطح پر موجود ہے۔ لی بلانک کا کہنا تھا کہ یہ گفتگو دراصل متعدد تجارتی موضوعات میں سے صرف ایک موضوع تھی۔
معاشی ماہرین کے مطابق اگر یہ پالیسی کامیاب رہتی ہے تو
کینیڈا کی گرین اکانومی کو فروغ مل سکتا ہے۔ صارفین کو نسبتاً سستی الیکٹرک گاڑیاں دستیاب ہوں گی۔ کسانوں اور برآمد کنندگان کو چینی منڈی تک بہتر رسائی حاصل ہوگی اور چین اور کینیڈا کے تعلقات میں بہتری آسکتی ہے۔
دوسری جانب ناقدین کا خیال ہے کہ امریکی حکومت ناراضی کا اظہار کرسکتی ہے۔ کینیڈین آٹو انڈسٹری کو مسابقتی دباؤ کا سامنا ہوسکتا ہے۔ قومی سلامتی کے بعض حلقے چین کے بڑھتے اثرورسوخ پر تشویش رکھتے ہیں اور مستقبل میں تجارتی مذاکرات مزید پیچیدہ ہوسکتے ہیں۔
جی-7 اجلاس میں ریکارڈ ہونے والی چند سیکنڈ کی یہ گفتگو دراصل عالمی معیشت میں جاری بڑی تبدیلیوں کی عکاس ہے۔ مارک کارنی کی چین کے ساتھ تجارتی کھڑکی کھولنے کی حکمتِ عملی اور ڈونلڈ ٹرمپ کا نسبتاً مثبت ردِعمل اس بات کا اشارہ دیتا ہے کہ مستقبل میں شمالی امریکہ، چین اور عالمی EV مارکیٹ کے درمیان تعلقات ایک نئے مرحلے میں داخل ہوسکتے ہیں۔
یہ گفتگو اس وقت سامنے آئی ہے جب کارنی حکومت چین کے ساتھ تجارتی تعلقات بہتر بنانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس پالیسی سے صارفین اور برآمد کنندگان کو فائدہ ہوسکتا ہے، تاہم امریکہ کے ساتھ تجارتی تعلقات پر اس کے اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
