وزیراعظم کینیڈا مارک کارنی نے معاہدے کو خطے کے لیے ایک “گیم چینجر” قرار دیا ہے
جمعہ کو Geneva میں معاہدے کی باضابطہ دستخطی تقریب متوقع ہے، جس کے بعد مستقل امن معاہدے پر مذاکرات جاری رہیں گے۔
خصوصی رپورٹ : محبوب شیخ
ایران اور امریکہ کے درمیان ایک عارضی امن معاہدے کے بعد کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ اگر اس معاہدے کے نتیجے میں ایران کا جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا امکان ختم ہو جاتا ہے تو یہ تنازع “قابلِ قدر” تھا۔ انہوں نے معاہدے کو خطے کے لیے ایک “گیم چینجر” قرار دیا ہے۔
معاہدے کے تحت 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع کی جائے گی جبکہ مستقل امن کے لیے مذاکرات جاری رہیں گے۔ آبنائے ہرمز کی بحالی، علاقائی استحکام اور اقتصادی تعاون کو اس معاہدے کے اہم فوائد قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس پر عمل درآمد ہی اس کی کامیابی کا اصل پیمانہ ہوگا۔
ایران اور امریکہ کے درمیان طویل کشیدگی، فوجی کارروائیوں اور علاقائی عدم استحکام کے بعد ایک عارضی امن معاہدے کے اعلان نے عالمی سفارتی حلقوں میں نئی امید پیدا کر دی ہے۔ کینیڈا کے وزیرِ اعظم Mark Carney نے اس پیش رفت کو نہ صرف “گیم چینجر” قرار دیا بلکہ یہ بھی کہا کہ اگر اس معاہدے کے نتیجے میں ایران کا جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا امکان ختم ہو جاتا ہے تو یہ تنازع “قابلِ قدر” تھا۔
فرانس کے شہر Évian-les-Bains میں منعقدہ G7 سربراہی اجلاس کے دوران امریکی نشریاتی ادارے CNN کو دیے گئے انٹرویو میں وزیرِ اعظم مارک کارنی نے کہا کہ ان کے نزدیک ایران دنیا میں دہشت گردی کے سب سے بڑے برآمد کنندگان میں شمار ہوتا ہے اور جوہری ہتھیار حاصل کرنا خطے اور دنیا کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتا تھا۔
کارنی کے مطابق اگر موجودہ معاہدہ اس خطرے کو ختم کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کے لیے کی گئی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔
گزشتہ کئی برسوں سے ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی خدشات موجود رہے ہیں۔ امریکہ، اسرائیل اور متعدد مغربی ممالک یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ایران جوہری صلاحیت کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کر سکتا ہے، جبکہ ایران مسلسل اس الزام کی تردید کرتا رہا ہے۔
اسی پس منظر میں فروری 2026 میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں نے ایک وسیع جنگی بحران کو جنم دیا جس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی معیشت پر محسوس کیے گئے۔
امریکہ اور ایران کی جانب سے اعلان کردہ ابتدائی معاہدے کے مطابق 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع کی جائے گی، جبکہ اس دوران مستقل امن معاہدے کی تفصیلات پر مذاکرات جاری رہیں گے۔
اگرچہ مکمل دستاویز ابھی عوامی سطح پر جاری نہیں کی گئی، تاہم امریکی نائب صدر J. D. Vance کے مطابق یہ ایک مختصر مگر اہم فریم ورک پر مشتمل معاہدہ ہے۔
مارک کارنی کا کہنا ہے کہ انہوں نے معاہدے کا مسودہ دیکھا ہے اور ان کے مطابق یہ معاہدہ منظم اور مرحلہ وار ہے، اس میں مالی مراعات شامل ہیں، خطے کے کئی ممالک اس کی حمایت کر رہے ہیں اور ایران کے جوہری عزائم کو محدود کرنے کے لیے مؤثر بنیاد فراہم کی گئی ہے۔
مارک کارنی نے معاہدے کو صرف ایران تک محدود نہیں رکھا بلکہ کہا کہ یہ لبنان سمیت پورے خطے میں استحکام کے لیے راہ ہموار کر سکتا ہے۔
ان کے مطابق یہ معاہدہ صرف جنگ کے خاتمے کی دستاویز نہیں بلکہ علاقائی اقتصادی بحالی اور سفارتی استحکام کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔
تاہم ایران کے اعلیٰ سفارتکاروں نے واضح کیا ہے کہ مستقل امن کے لیے اسرائیل کو لبنان سے متعلق بعض اقدامات کرنا ہوں گے، جن پر اختلافات ابھی باقی ہیں۔
یہ تنازع صرف فوجی محاذ تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے نتیجے میں دنیا بھر میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا۔
بالخصوص Strait of Hormuz کی بندش نے عالمی توانائی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ آبنائے ہرمز دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل اور گیس ترسیل کا راستہ ہے، اور اس کی بندش نے عالمی تجارت کو شدید متاثر کیا۔
امریکی صدر Donald Trump نے کہا ہے کہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا عمل شروع ہوگا۔ اس سوال پر کہ کیا کینیڈا بحری نگرانی یا تجارتی بحالی میں حصہ لے گا، مارک کارنی نے جواب دیا کینیڈا خطے کی بڑی بحری طاقت نہیں، لیکن جہاں ممکن ہوا ہم نگرانی، مالی تعاون اور دیگر معاونت فراہم کریں گے۔
جمعہ کو Geneva میں معاہدے کی باضابطہ دستخطی تقریب متوقع ہے، جس کے بعد مستقل امن معاہدے پر مذاکرات جاری رہیں گے۔
عالمی مبصرین کے مطابق اصل امتحان معاہدے پر عمل درآمد ہوگا، کیونکہ خطے میں اب بھی کئی حساس تنازعات موجود ہیں۔
ایران اور امریکہ کے درمیان یہ فریم ورک معاہدہ بلاشبہ مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ تاریخ کی اہم ترین سفارتی پیش رفتوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
تاہم سوال اب بھی برقرار ہے کیا یہ واقعی مستقل امن کی بنیاد بنے گا یا صرف ایک عارضی جنگ بندی ثابت ہوگا؟
اس کا جواب آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں سامنے آئے گا، لیکن فی الحال عالمی قیادت اس معاہدے کو امید کی ایک نئی کرن کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
