“فٹبال نفرت نہیں، اتحاد کا نام ہے” — ایمباپے کا نسل پرستی کے خلاف تاریخی مؤقف
رپورٹ: محبوب علی شیخ
فیفا ورلڈ کپ 2026 کے میدان سے اٹھنے والا ایک تنازع اب عالمی بحث بن چکا ہے۔ فرانس کے کپتان اور عالمی فٹبال اسٹار کیلیان ایمباپے نے پیراگوئے کی ایک سینیٹر کے مبینہ نسل پرستانہ اور توہین آمیز بیانات پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ نفرت، تعصب اور نسل پرستی کے لیے دنیا میں کوئی جگہ نہیں۔
فرانسیسی فٹبال فیڈریشن نے معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے قانونی کارروائی کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ پیراگوئے کی حکومت اور پارلیمنٹ نے بھی ان متنازع بیانات سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی مذمت کی ہے۔
ورلڈ کپ 2026 کے ناک آؤٹ مرحلے میں فرانس نے پیراگوئے کو سخت مقابلے کے بعد 0-1 سے شکست دے کر کوارٹر فائنل میں جگہ بنالی۔
میچ کا فیصلہ کن لمحہ اس وقت آیا جب فرانس کے کپتان کیلیان ایمباپے نے پنالٹی پر گول کر کے اپنی ٹیم کو کامیابی دلائی۔
لیکن میچ ختم ہونے کے بعد سب سے بڑا تنازع میدان میں نہیں بلکہ سوشل میڈیا پر شروع ہوا، جہاں پیراگوئے کی ایک سیاسی شخصیت کے تبصروں نے عالمی سطح پر شدید ردِعمل پیدا کر دیا
پیراگوئے کی سینیٹر Celeste Amarilla کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر ایمباپے کے خلاف کیے گئے تبصرے شدید تنقید کی زد میں آ گئے۔
ان بیانات کو فٹبال کی اقدار، انسانی احترام اور مساوات کے اصولوں کے خلاف قرار دیا گیا۔ دنیا بھر کے شائقین، کھلاڑیوں اور فٹبال حلقوں نے سوال اٹھایا کہ کیا کھیل کے میدان میں کامیابی یا شکست کو نسل اور شناخت سے جوڑنا قابل قبول ہے؟
کیلیان ایمباپے نے خاموشی اختیار کرنے کے بجائے واضح مؤقف اپنایا۔ انہوں نے کہا کہ ایسی زبان استعمال کرنے والے افراد کو سمجھنا چاہیے کہ وہ صرف ایک کھلاڑی کو نہیں بلکہ احترام، برابری اور کھیل کے بنیادی اصولوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
ایمباپے نے پیراگوئے کی ٹیم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ کھلاڑیوں نے ٹورنامنٹ میں عزت، محنت اور جذبے کے ساتھ کھیل پیش کیا، لیکن چند غیر ذمہ دارانہ بیانات نے کھیل کی خوبصورتی کو متاثر کیا۔
فرانسیسی فٹبال فیڈریشن (FFF) نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر قانونی کارروائی کرے گی۔
فیڈریشن کے مطابق قومی ٹیم کے کپتان یا کسی بھی کھلاڑی کے خلاف نسل پرستانہ یا توہین آمیز زبان ناقابل قبول ہے، اور ایسے معاملات کو صرف اخلاقی نہیں بلکہ قانونی مسئلہ سمجھا جائے گا۔
تنازع بڑھنے کے بعد پیراگوئے کی حکومت نے فوری وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹر کے بیانات ان کی ذاتی رائے ہیں اور یہ ریاستی مؤقف کی نمائندگی نہیں کرتے۔
حکومت نے انسانی وقار، باہمی احترام اور امن کے اصولوں کے خلاف کسی بھی زبان کی مذمت کی۔
اطلاعات کے مطابق پیراگوئے کے صدر نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کو بھی پیغام بھیج کر ان بیانات سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔
پیراگوئے کی پارلیمنٹ کے سربراہ Basilio Núñez نے بھی واضح کیا کہ نسل پرستی، نفرت اور تشدد پر اکسانے والے الفاظ پیراگوئے کی حقیقی اقدار نہیں ہیں۔
ورلڈ کپ صرف ٹرافی، گول اور کامیابی کا نام نہیں بلکہ یہ دنیا کی مختلف قوموں، ثقافتوں اور لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے کا ذریعہ ہے۔
ماہرین کے مطابق جدید کھیلوں کی بنیاد مساوات، احترام، میرٹ اور فیئر پلے پر ہے، جہاں کسی انسان کی قدر اس کے رنگ، نسل یا پس منظر سے نہیں بلکہ اس کے کردار اور صلاحیت سے ہوتی ہے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر یاد دلاتا ہے کہ:“فٹبال دلوں کو جوڑنے کے لیے ہے، نفرت پھیلانے کے لیے نہیں۔”
