فیفا ورلڈ کپ 2026 فٹبال کی تاریخ اور کامیابی کا جشن
48 ٹیمیں 104 میچز میں 68 لاکھ 10 ہزار 966 شائقین کی شرکت نے فیفا ورلڈ کپ 2026 کو ناقابلِ فراموش فیفا ورلڈ کپ بنا دیا ۔ فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو نے فیفا ورلڈ کپ 2026 کو ناقابلِ فراموش فیفا ورلڈ کپ بنا دیا
خصوصی رپورٹ : محبوب علی شیخ
فیفا ورلڈ کپ 2026 نے دنیا میں ایک نئی تاریخ رقم کردی – امریکہ ، کینیڈا اور میکسیکو کے 16 میزبان شہروں میں منعقد کیا گیا فیفا ورلڈ کپ 2026 ہر میدان میں اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑ چکا ہے
۔ فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو نے فیفا ورلڈ کپ 2026 کو ناقابلِ فراموش فیفا ورلڈ کپ بنا دیا ہے جسے مدتوں یاد رکھا جائیگا کیونکہ فٹبال کے عالمی کپ کی تاریخ کا فیفا ورلڈ کپ 2026 سب سے بڑا اور سنسنی خیز ایڈیشن بن گیا ہے
فٹبال کی دنیا کا سب سے بڑا اور تاریخ کا سب سے وسیع فیفا ورلڈ کپ 2026 اسپین اور ارجنٹینا کے درمیان سنسنی خیز میچ کے بعد اختتام پذیر ہوچکا ہے امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی میں منعقد ہونے والے اس غیر معمولی عالمی فٹبال ٹورنامنٹ کے آغاز سے قبل مہنگے ٹکٹ، شدید گرمی، جغرافیائی سیاسی کشیدگی، سکیورٹی خدشات اور 48 ٹیموں تک توسیع جیسے عوامل پر دنیا بھر میں سوالات اٹھائے جا رہے تھے، مگر عملی طور پر یہ تمام خدشات شاندار مقابلوں، بھرپور عوامی شرکت اور اعلیٰ معیار کے کھیل کے سامنے ماند پڑ گئے۔
11 جون کو ٹورنامنٹ کی پہلی سیٹی سے لے کر 19 جولائی تک فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فائنل کی آخری کِک تک اس عظیم عالمی مقابلے تک سنسنی خیز میچوں اور کھلاڑیوں سے لیکر تماشائیوں کے مابین جوش وخروش قابل دید رہا
فیفا ورلڈ کپ 2026 کے دوران فیفا ورلڈ کپ 2026 کی آمدنی کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے اور آمدنی کے جو اہداف 11 ارب ڈالر تقریبا محتاط اندازے کے تحت 15 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئے جوکہ فیفا ورلڈ کپ 2026، فٹبال کی تاریخ کا جشن اور کامیابی کی ضمانت ہے جسمیں 48 ٹیمیں کے درمیان 104 میچز منعقد ہوئے جسمیں تقریبا 68 لاکھ 10 ہزار 966 شائقین کی شرکت کرتے ہوئے فیفا ورلڈ کپ 2026 کو ناقابلِ فراموش فیفا ورلڈ کپ بنا دیا، فیفا ورلڈ کپ 2026 کے دوران اسٹیڈیمز تقریباً 99.7 فیصد تک بھرے رہے یہ اعدادوشمار اس ورلڈ کپ کو جدید تاریخ کے کامیاب ترین عالمی کھیلوں کے مقابلوں میں شامل کرتے ہیں۔
جس کا سہرا فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو کو جاتا ہے جنہوں نے انتھک محنت اور لگن کے ساتھ فیفا ورلڈ کپ 2026 کو کامیاب بنانے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کیا
فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو نے گزشتہ ہفتے فیفا کی رکن تنظیموں کو اس غیرمعمولی مالی اضافے سے آگاہ کیا۔ اس سے قبل فیفا نے ٹورنامنٹ سے 11 ارب امریکی ڈالر آمدنی کا تخمینہ لگایا تھا۔
ذرائع کے مطابق آمدنی میں اس نمایاں اضافے کی بڑی وجوہات ہاسپیٹیلٹی پیکجز اور ٹکٹوں کی فروخت ہیں، خصوصاً ثانوی (ری سیل) مارکیٹ میں انتہائی بلند قیمتوں پر فروخت ہونے والے ٹکٹ۔ فیفا اس ثانوی مارکیٹ میں ہر ٹکٹ کی خریداری پر 15 فیصد اور فروخت پر بھی 15 فیصد فیس وصول کرتا ہے، جس سے مجموعی آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوا۔
فیفا ورلڈ کپ 2026 کے بارے میں چند ماہرین کا خیال تھا کہ 48 ٹیموں کی شمولیت سے ورلڈ کپ کا معیار متاثر ہوگا، لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس سامنے آئی۔ پہلی مرتبہ شریک ہونے والی نسبتاً چھوٹی ٹیموں نے عالمی طاقتوں کو سخت مقابلہ دیا۔ کیپ وردے نے اسپین کو بغیر کسی گول کے برابر رکھا بعد ازاں ارجنٹینا کو بھی آخری 32 کے مرحلے میں اضافی وقت تک سخت ٹکر دی۔ اسی طرح کیوراساؤ نے ایکواڈور کو گول سے محروم رکھا اور مصر پہلی مرتبہ ناک آؤٹ مرحلے تک پہنچا اور ارجنٹینا کو تقریباً شکست دے دیتا مگر لیونل میسی کی شاندار کارکردگی نے میچ کا رخ بدل دیا۔ افریقی فٹبال نے بھی نئی تاریخ رقم کی، جہاں ریکارڈ نو افریقی ٹیمیں ناک آؤٹ مرحلے تک پہنچیں۔
فیفا ورلڈ کپ 2026 کے اس عالمی میلے میں فٹبال کے بڑے نام بھی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ سامنے آئے۔ لیونل میسی نے اپنے ریکارڈ چھٹے ورلڈ کپ میں شاندار آغاز کرتے ہوئے الجزائر کے خلاف ہیٹ ٹرک مکمل کی اور فائنل تک میسی نے آٹھ گول کیے جبکہ فرانس کے کپتان کائلیان ایمباپے دس گولوں کے ساتھ ٹاپ اسکورر ہیں اور مجموعی طور پر ورلڈ کپ تاریخ کے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی بن چکے ہیں۔ ناروے کے ایرلنگ ہالینڈ نے سات گول کیے جبکہ برازیل کے خلاف دو گول کر کے شائقین کے دل جیت لیے اسی طرح انگلینڈ کے جوڈ بیلنگھم نے سات جبکہ ہیری کین نے چھ گول کیے اور انگلینڈ نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔
تینوں میزبان ممالک یعنی کینیڈا، امریکہ اور میکسیکو ناک آؤٹ مرحلے تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔
کینیڈا میں منعقد ہونے والے فیفا فین فیسٹس، ٹورنٹو سمیت مختلف شہروں میں ہزاروں شائقین کی شرکت اور ملک بھر میں فٹبال کے بڑھتے ہوئے رجحان نے اس عالمی ایونٹ کو ایک یادگار عوامی جشن میں تبدیل کر دیا۔
فیفا ورلڈ کپ 2026 صرف میدانوں تک محدود نہیں رہا بلکہ میزبان شہروں کی سڑکیں، کیفے، پبلک اسکوائرز اور فین زونز بھی دنیا بھر کے شائقین سے بھر گئے۔
بوسٹن میں اسکاٹ لینڈ کے شائقین، نیویارک کے ٹائمز اسکوائر میں ناروے کے مداح اور امریکہ کے مختلف شہروں میں دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں نے سوشل میڈیا پر امریکی ثقافت، بڑے سپر مارکیٹس، باربی کیو اور دیگر تجربات کو بھرپور انداز میں شیئر کیا۔
اگرچہ فیفا ورلڈ کپ 2026 کے دوران تمام میچز شاندار رہے تاہم کچھ تنازعات نے بھی عالمی توجہ حاصل کی جیسے صومالی ریفری عمر آرتان کو امریکی امیگریشن پالیسی کے باعث امریکہ میں داخلے کی اجازت نہ مل سکی۔ ایرانی ٹیم کو ویزا پابندیوں کی وجہ سے اپنے ہر میچ کے فوراً بعد امریکہ چھوڑنے کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ ایران کے کوچ امیر قلعہ نویی نے اپنی ٹیم کو “ورلڈ کپ کی سب سے زیادہ متاثرہ ٹیم قرار دیا۔ سب سے بڑا تنازع مصر اور ارجنٹینا کے میچ کے دوران ریفری کی جانب سے مصر کے کھلاڑیوں کے خلاف چند فیصلے اور جانبداری کے الزمات سمیت امریکی فارورڈ فولارن بالاگون کی ایک میچ کی معطلی مؤخر کروانے کے فیصلے کو عالمی سطح پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا
فیفا ورلڈ کپ 2026 نے یہ ثابت کر دیا کہ اگرچہ دنیا سیاسی اختلافات، معاشی دباؤ اور سکیورٹی خدشات سے دوچار ہے، لیکن کھیل اب بھی اقوام کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔
48 ٹیموں کا تجربہ کامیاب رہا، نئے ممالک ابھر کر سامنے آئے، افریقی فٹبال مزید مضبوط ہوئی، ریکارڈ تماشائی آئے اور کھیل کا معیار بھی بلند رہا۔ مجموعی طور پر یہ ورلڈ کپ فیفا کی تاریخ کے کامیاب ترین عالمی مقابلوں میں شمار ہوچکا ہے اور فیفا ورلڈ کپ 2026 کھیل، ثقافت اور عالمی یکجہتی کی ایک کامیاب مثال کے طور پر تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔
فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو کی قیادت کو اس کامیاب ٹورنامنٹ سے مزید تقویت ملی ہے۔افریقہ، ایشیا اور جنوبی امریکہ کی علاقائی تنظیمیں پہلے ہی 2027 کے صدارتی انتخاب میں ان کی حمایت کر چکی ہیں۔ اب 2030 کے ورلڈ کپ کو 64 ٹیموں تک توسیع دینے کی تجویز بھی سنجیدگی سے زیر غور ہے جس پر آئندہ برسوں میں اہم فیصلے متوقع ہیں۔
فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو نے فیفا ورلڈ کپ کی شاندار کامیابی پر کہا کہ میں ہر اُس مداح کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں جس نے اپنے جذبے، محبت اور جوش سے ہمارے اسٹیڈیمز کو رونق بخشی اور ایسے یادگار لمحات تخلیق کیے جو فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ آپ سب نے اس عالمی جشن کو واقعی منفرد اور یادگار بنا دیا اور ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ فٹبال میں پوری دنیا کو ایک خاندان کی طرح جوڑنے کی جادوئی طاقت موجود ہے۔
