امریکہ میں اسرائیلی لابی

Spread the love

1948ء میںجب فلسطین میں جنگ بھڑک رہی تھی، امریکی صدر ہیری ٹرومین نے خود کو ایک مشکل اور ناہموار صورتِ حال میں گھرا پایا۔ایک طرف صیہونی لابی کے ارکان اور صدر کے داخلی سیاسی مشیر تھے۔وہ اُن پر زور دے رہے تھے کہ فلسطین کے زیادہ سے زیادہ حصّے پر ایک یہودی ریاست کے قیام کی حمایت کریں۔ دوسری طرف خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے اعلیٰ ترین حکام تھے جن کی قیادت وزیرِ خارجہ جارج سی مارشل کر رہے تھے۔ ان کا متفقہ مشورہ یہ تھا کہ یہودی ریاست کا قیام روکا جائے کیونکہ اس سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ چھڑنے اور عرب و مسلم دنیا کے ساتھ امریکی تعلقات کا مستقبل خطرے میں پڑنے کا خدشہ تھا۔ 

امریکہ کے بانی سمجھے جانے والے جارج واشنگٹن کے علاوہ امریکی تاریخ میں کسی بھی سفارتی یا فوجی رہنما کو حب الوطنی کی پاسداری اور فرائض کی انجام دہی میں جارج مارشل جیسی شہرت اور قابلیت حاصل نہیں تھی۔ ٹرومین خود اپنے اس وزیرِ خارجہ کی عظمت کے معترف تھے جنھیں دوسری جنگِ عظیم میں امریکی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف کے طور پر ونسٹن چرچل نے ’’فتح کا اصل منتظم‘‘ قرار دیا تھا۔ جنگ کے بعد یہ مارشل ہی تھے جنہوں نے یورپ کی دوبارہ تعمیر کے لیے وہ منصوبہ شروع کیا جو انہی کے نام سے موسوم ہوا۔

https://googleads.g.doubleclick.net/pagead/ads?gdpr=0&us_privacy=1—&gpp_sid=-1&client=ca-pub-2620341023138785&output=html&h=280&num_ads=1&adk=3277488918&adf=2758244793&abgtt=6&w=728&fwrn=4&fwrnh=100&lmt=1787146965&rafmt=1&armr=3&sem=mc&pwprc=4626286274&ad_type=text_image&format=728×280&url=https%3A%2F%2Fwww.express.pk%2Fstory%2F2827626%2Famerica-main-israeli-lobby-2827626&fwr=0&pra=3&rh=182&rw=728&rpe=1&resp_fmts=3&asro=0&aimartd=4&aieuf=1&aicrs=1&fa=27&uach=WyJXaW5kb3dzIiwiMTAuMC4wIiwieDg2IiwiIiwiMTUxLjAuNzkyMi4xMzgiLG51bGwsMCxudWxsLCI2NCIsW1siTm90PUE_QnJhbmQiLCI5OS4wLjAuMCJdLFsiR29vZ2xlIENocm9tZSIsIjE1MS4wLjc5MjIuMTM4Il0sWyJDaHJvbWl1bSIsIjE1MS4wLjc5MjIuMTM4Il1dLDBd&dt=1787146966439&bpp=4&bdt=1121&idt=4&shv=r20260818&mjsv=m202608140101&ptt=9&saldr=aa&abxe=1&cookie=ID%3De7290b29c898dbfd%3AT%3D1782220089%3ART%3D1787146943%3AS%3DALNI_Maw-dyxDDM_Jp1Md6OujXUuzHUu0A&gpic=UID%3D0000142b841b7577%3AT%3D1782220089%3ART%3D1787146943%3AS%3DALNI_MZGICxFo7bM6tLUEUJyt_X5aPsGBw&eo_id_str=ID%3D8ebb929b85d21ed7%3AT%3D1785216382%3ART%3D1787146943%3AS%3DAA-AfjZZtC0Z-9LomTIpifGnarnr&prev_fmts=0x0%2C728x280&nras=3&correlator=7818640352485&frm=20&pv=1&u_tz=300&u_his=1&u_h=768&u_w=1366&u_ah=728&u_aw=1366&u_cd=24&u_sd=1&dmc=8&adx=551&ady=2126&biw=1351&bih=641&scr_x=0&scr_y=0&eid=95397679%2C122880367%2C42533293%2C122880472&oid=2&pvsid=1681642628659075&tmod=1221660258&uas=0&nvt=1&ref=https%3A%2F%2Fwww.express.pk%2Fmagazine&fc=1408&brdim=0%2C0%2C0%2C0%2C1366%2C0%2C0%2C0%2C1366%2C641&vis=1&rsz=%7C%7Cs%7C&abl=NS&fu=128&bc=31&bz=0&ifi=7&uci=a!7&btvi=2&fsb=1&dtd=9085

1940ء کی دہائی کے وسط سے مارشل خاموشی لیکن مضبوطی کے ساتھ فلسطین میں یہودی ریاست کا قیام یقینی بناتی صیہونی تحریک کی تجاویز کی مخالفت کرنے لگے ۔ انھیں خدشہ تھا کہ امریکی حمایت سے سوویت یونین کو عربوں کے غصّے سے فائدہ اٹھانے کا موقع مل جائے گا، سوویت یونین اور امریکہ کے درمیان جنگ کی صورت مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی فراہمی خطرے میں پڑ جائے گی اور فلسطین میں خون خرابا اور بے امنی روکنے کے لیے اتنی بڑی امریکی فوج بھیجنی پڑے گی جو فی الوقت دستیاب نہیں ۔ درحقیقت یہ ٹرومین کے تمام اہم ترین فوجی اور خارجہ پالیسی کے مشیروں کی بھی پختہ رائے تھی۔ 

ٹرومین ذاتی طور پر جرمن نازیوں کے ’’حتمی حل‘‘ سے بچ جانے والے یہودکی تکلیف سے شدید متاثر تھے۔ لیکن وہ اُن مہم جوؤں کے مسلسل دباؤ اور تکرار سے سخت بیزار اور بعض اوقات غضبناک بھی ہو جاتے جو فلسطین میں یہودی ریاست کے اعتراف کے لیے کوشاں تھے اور جن میں عالمی صیہونی تنظیم اور دیگر کئی یہودی وفود، اُن کے دوست اور سیاست دان شامل تھے۔ اپنی ذاتی بیزاری کے باوجود وہ انہیں نظر انداز نہیں کر سکتے تھے۔ انتخابی سال ہونے کی وجہ سے جس میں ان کا مقابلہ نیویارک کے گورنر تھامس ڈیوی سے تھا،صیہونی لابی کے دباؤ نے انہیں ایک انتہائی دردناک اور شرمندہ کر دینے والی پوزیشن میں دھکیل دیا۔

جب فلسطین خانہ جنگی کی لپیٹ میں آیا، عرب ریاستیں حملے کی دھمکی دینے لگیں اور آخری برطانوی فوجی بھی فلسطین سے نکل گئے تو ٹرومین نے 12 مئی 1948ء کو اپنے اعلیٰ مشیروں کا ایک اجلاس طلب کیا۔ اِس اجلاس سے قبل مارشل کے اپنے بیان کے مطابق انہوں نے ٹرومین کو خبردار کیا کہ وہ ان کے اہم سیاسی مشیر، کلارک کلفورڈ کی اُس پالیسی کو قبول نہ کریں جس میں اسرائیل کے قیام سے پہلے ہی اسے تسلیم کرنے پر شدید زور دیا جا رہا تھا۔

مارشل کے مطابق ایسا قدم ’’کچھ ووٹ حاصل کرنے کے لیے ایک شفاف چال‘‘ ہوگا جس سے ’’صدر کے عہدے کا عظیم وقار شدید متاثر ہوگا۔‘‘مارشل نے یہاں تک اعلان کر دیا کہ اگر ٹرومین اس معاملے پر سیاسی دباؤ کے آگے جھک گئے، تو وہ ذاتی طور پر الیکشن میں ٹرومین کو ووٹ نہیں دے سکیں گے۔ اس بات سے شدید دہل جانے کے بعد ٹرومین نے یہ کہتے ہوئے اجلاس ختم کر دیا کہ وہ مارشل سے اتفاق کرتے ہیں۔تاہم صرف دو دن کے اندر اپنی صدارت کی ڈگمگاتی گرفت اور صیہونی ہمدردوں کی اِس طاقت کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ وہ نیویارک کے الیکٹورل ووٹ ریپبلکن پارٹی کے حق میں ڈال سکتے ہیں،انہوں نے حکم دیا کہ اسرائیل کو تسلیم کر لیا جائے۔ 

یہ واقعہ امریکی ماہر سیاسیات، آئن لسٹک اور صحافی ایلی کلفٹن کی لکھی تازہ کتاب’’اسرائیلی لابی: امریکہ غیرملکی قوت کی گرفت میں‘‘(Israel’s Lobby: America in the Grip of a Foreign Power )سے لیا گیا ہے۔ کتاب یہ تلخ حقیقت آشکارا کرتی ہے کہ آج امریکہ میں اُن گروہوں کا اثر و رسوخ جنہیں مجموعی طور پر ’’اسرائیلی لابی‘‘کے نام سے جانا جاتا ہے، پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور ہو چکا ۔ ٹرومین کی وہ مشکل حالت جس میں وہ اپنے قومی مفاد کے احساس اور ایک طاقتور لابی کی مخالفت کی صورت میں چکانی پڑنے والی سیاسی قیمت کے درمیان پھنسے ہوئے تھے…یہ ایک ایسا معاملہ تھا جسے آنے والی دہائیوں میں ہر امریکی صدر نے محسوس کیا۔کتاب سے مذید مندجات درج ذیل پیش ہیں۔

معمول کی بات

مثال کے طور پر سال رواں کے شروع میں امریکی صدر ،ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ کرنے کا فیصلہ اسرائیل کی اُس مسلسل مہم کے بعد کیا جس کا مقصد امریکہ کو اِس تباہ کن کارروائی میں شامل ہونے پر آمادہ کرنا تھا۔ یہ فیصلہ ان کے کئی اعلیٰ مشیروں اور 45 فیصد ریپبلکنز کی خواہشات کے خلاف بھی تھا جو اسرائیل کے بارے میں ناپسندیدہ رائے رکھتے ہیں۔ یہ فیصلہ شاید اُس غیر مستحکم پالیسی سازی کی ایک اور مثال کہہ کر حل کر لیا جائے جو بطور صدر ٹرمپ کے دونوں ادوار کی صدارت کی علامت رہی ہے۔ لیکن اُن کے چند پیشروؤں کے تجربات کا باریک بینی سے جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ صدر کا یہ فیصلہ مستثنیٰ ہونے کے بجائے ’’ عام معمول کی بات‘‘ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹرومین سے لے کر ٹرمپ تک زیادہ تر امریکی صدور نے اسرائیل اور اس کے حامیوں کے مطالبات کے آگے گھٹنے ٹیکے ہیں۔ سیاسی شکستوں کے خوف کی وجہ سے صدور نے باقاعدگی سے اُن خارجہ پالیسیوں کو رد یا ترک کیا ہے جن کے بارے میں ان کا اور سینئر ترین مشیروں کا ماننا تھا کہ وہ امریکہ کے بہترین مفاد میں ہیں… اور ایسا اسرائیلی ۔فلسطینی تنازع کا پُرامن حل نکالنے میں کسی معنی خیز پیشرفت کی قیمت پر کیا گیا۔

آئن لسٹک اور ایلی کلفٹن کی تحقیقی نئی کتاب امریکی تاریخ کی سب سے طاقتور خارجہ پالیسی لابی کی دہائیوں پر محیط ترقی و بڑھوتری کا جائزہ لیتی ہے۔ تحقیق آشکارا کرتی ہے، متعدد تنظیموں، گروہوں اور افراد پر مشتمل لابی کو اسرائیلی حکومتوں نے پروان چڑھایا جو صریحاً اسرائیل کے مفادات کے حق میں امریکی پالیسیوں کی وکالت کرتی ہے ۔اسرائیل مسلسل اس کی حوصلہ افزائی و رہنمائی کرتا ہے۔ اس سچائی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کہ اکثر امریکی ووٹر معاملے سے ناواقف یا بے پروا تھے، لابی نے بے پناہ وسائل اور بھرپور توجہ کا استعمال کرتے ہوئے ہر سطح کے سیاست دانوں کو ان کی اِس آمادگی کی بنیاد پر سزا دی یا نوازا کہ وہ لابی کی ہدایات پر کس حد تک عمل کرتے ہیں۔

جیرالڈ فورڈ کی شکست

   مثال کے طور پر ٹرومین کے واقعے کے بیس سال بعد صدر جیرالڈ فورڈ نے مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکی پالیسی کے ایک ایسے عمل کا آغاز کیا جسے انہوں نے ’’دوبارہ جائزہ‘‘ (Reassessment) کا نام دیا۔ اس پیشرفت کو فورڈ اور ان کے وزیرِ خارجہ، ہنری کسنجر نے جامع عرب-اسرائیل امن معاہدے کی طرف بڑھنے میں دو سال کی شرم ناک ناکامیوں سے بچنے کے ایک راستے کے طور پر آگے بڑھایا تھا۔ فورڈ اور کسنجر، دونوں ہی اسرائیل کے ہٹ دھرم رویّے اور رکاوٹیں ڈالنے سے شدید نالاں ہو چکے تھے۔ 

یہ دوبارہ جائزہ کسنجر کی طرف سے بلائی گئی ’’دانشوروں‘‘ کی کمیٹی نے مرتب کیا تھا: یہ حکومت کے سابق حکام تھے جنھیں جنگ کے بعد قائم ہونے والی امریکی خارجہ پالیسی کی بنیاد سمجھا جاتا تھا۔ اس کمیٹی کی متفقہ سفارش یہ تھی کہ سوویت یونین کے تعاون سے ایک جامع امن حاصل کرنے کے لیے اسرائیل پر مغربی کنارے (ویسٹ بینک) اور غزہ کی پٹی سے پیچھے ہٹنے کے لیے دباؤ ڈالا جائے۔

اس بات کے واضح اشارے تھے کہ فورڈ یہ سفارش قبول کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔چناں چہ اسرائیل نے اپنی لابی کی تنظیموں کو متحرک کر دیا، جیسے کہ ’’کانفرنس آف پریذیڈنٹس آف میجر جیوش آرگنائزیشنز‘‘ اور ’’اے پیک‘‘ ( امریکن اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی)۔ اس لابی کی سب سے بڑی اور فیصلہ کن کامیابی ایک خط تھا جسے ’’اے پیک‘‘ نے تیار کیا اور فورڈ کو بھیجا۔اس میں صدر سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ ’’وہ یہ واضح کریں ، ریاستہائے متحدہ اپنے قومی مفادات کے تحت کام کرتے ہوئے آئندہ کے مذاکرات میں امن کی تلاش کے لیے اسرائیل کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔‘‘اس خط پر 76 امریکی سینیٹرز کے دستخط تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے