کینیڈا کا کاروبار اور ملازمین کے لیے 7.5 ارب ڈالر کا امدادی پیکیج

Spread the love

 ٹرمپ کے ٹیرف وار کا جواب، اوٹاوا کا کاروبار اور کارکنوں کو سہارا دینے کا فیصلہ

 اقرا خالد کا دوٹوک مؤقف لیک اونٹاریو ہمیشہ لیک انٹاریو ہی رہے گا 

رپورٹ: محبوب علی شیخ

مسی ساگا: کینیڈا اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی کے دوران وفاقی حکومت نے کینیڈین کاروباری اداروں، ملازمین اور برآمدی شعبوں کو ممکنہ معاشی نقصان سے بچانے کے لیے 7.5 ارب کینیڈین ڈالر کے نئے اور توسیع شدہ امدادی اقدامات کا اعلان کردیا ہے۔

وزیراعظم مارک کارنی کی حکومت کے مطابق اس پیکیج کا مقصد امریکی محصولات سے متاثر ہونے والے کاروباروں، کارکنوں اور معیشت کے اہم شعبوں کو فوری سہارا فراہم کرنا ہے۔

مسی ساگا میں منعقدہ اہم اجلاس کے دوران کینیڈا اور امریکا کے درمیان موجودہ تجارتی کشیدگی، کاروباری اداروں کو درپیش مشکلات اور متاثرہ کارکنوں کے لیے دستیاب حکومتی معاونت پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

اس موقع پر وفاقی وزیر ریچی والڈیز، رکنِ پارلیمنٹ اقرا خالد، رکنِ پارلیمنٹ پیٹر فونسیکا، میئر مسی ساگا کیرولین پیریش، رکنِ صوبائی پارلیمنٹ شریف سباوی اور دیگر رہنماؤں نے کینیڈین کاروبار اور کارکنوں کے ساتھ حکومت کے عزم کا اظہار کیا۔

حکومت کے مطابق 7.5 ارب ڈالر کا امدادی پیکیج بالخصوص متاثرہ ملازمین، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں اور برآمدی شعبوں کو سہارا دینے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

 محبوب شیخ سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر ریچی والڈیز نے کہا کہ کینیڈا نے امریکا کے ساتھ تجارتی محاذ آرائی سے بچنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سخت بیانات اور اقدامات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

ریچی والڈیز کے مطابق امریکا کے ساتھ ایک جامع تجارتی سمجھوتے کے لیے شدید مذاکرات کیے گئے، تاہم امریکی جانب سے آخری مرحلے میں پیش کی جانے والی بعض نئی شرائط کینیڈا کے لیے قابلِ قبول نہیں تھیں۔

دوسری جانب ایم پی اقرا خالد نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے Lake Ontario کا نام تبدیل کرکے Lake America کرنے کے احکامات کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ کینیڈین شہری اسے بدستور Lake Ontario ہی کہیں گے۔

اقرا خالد نے کہا کہ میں نے ٹیم مسی ساگا کے ساتھ مل کر ہمارے موجودہ ٹیرف سپورٹ پلان کا اعلان کیا۔ ٹیم مسی ساگا کینیڈینز کے ساتھ کھڑی ہے۔ ہم کبھی کسی کو پیچھے نہیں چھوڑیں گے۔

انہوں نے کہا کہ تمام کینیڈین رہائشیوں، کاروباری اداروں اور کارکنوں کو یقین دلایا گیا ہے کہ حکومت ہر ممکن طریقے سے ان کی مدد کرے گی۔

اقرا خالد کے مطابق غیر یقینی صورتحال کے اس دور میں کینیڈا اپنے وقار کا دفاع کرتے ہوئے مضبوطی سے کھڑا ہے اور اپنی کمیونٹیز، خاندانوں اور ملک کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔

کینیڈین حکومت نے واضح کردیا ہے کہ امریکی محصولات کا جواب صرف سیاسی بیانات تک محدود نہیں رہے گا۔

حکومت کے اعلان کے مطابق امریکی درآمدات پر 15، 25 اور 50 فیصد تک جوابی محصولات نافذ کیے جائیں گے۔

سرکاری فہرست میں 700 سے زائد امریکی مصنوعات شامل ہیں۔ نئے محصولات کا دائرہ اسٹیل، ایلومینیم، ڈیری مصنوعات، گھریلو برقی آلات، زرعی مشینری، پلپ اینڈ پیپر اور الیکٹرانکس سمیت مختلف شعبوں تک پھیلا ہوا ہے۔

کچھ امریکی مصنوعات پر 50 فیصد، بعض پر 25 فیصد جبکہ منتخب اشیا پر 15 فیصد محصولات عائد کیے جائیں گے۔

امریکا اور کینیڈا کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط قریبی تجارتی شراکت داری ایک بار پھر شدید بحران کا شکار ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت بیانات اور نئے محصولات کے بعد کینیڈا نے بھی بھرپور جوابی کارروائی کا اعلان کردیا ہے، جس سے شمالی امریکا میں تجارتی جنگ مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔اب سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا دونوں ممالک دوبارہ مذاکرات کی میز پر واپس آتے ہیں؟

یا پھر دنیا کے دو قریبی تجارتی شراکت دار ایک ایسی طویل اور مہنگی معاشی جنگ میں داخل ہوجائیں گے جس کے اثرات کاروبار، ملازمین اور عام صارفین تک پہنچ سکتے ہیں؟

کینیڈا نے فی الحال واضح پیغام دے دیا ہے کہ تجارتی دباؤ کے باوجود کینیڈا اپنے کاروبار، اپنے کارکنوں اور اپنی معاشی خودمختاری کے دفاع کے لیے تیار ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے