ضلعی حکومتوں کا نظام فعال ہوتا تو نئے صوبوں کی ضرورت ہی نہ پڑتی

Spread the love

پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی جانب سے ملک کا نظام غیر موثرہو جانے کے اعلان اور نئے صوبوں کے قیام کے مشورے کے بعد یہ بحث زور پکڑتی جا رہی ہے کہ آیا ملک کو بہتر انتظامی نظام کے لیے واقعی نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی ضرورت ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ دنوں اسلام ٓ آباد میں معاشی سمٹ سے خطاب میں محسن نقوی نے یہ کہا تھا کہ جس نظام کے اندر ہم رہ رہے ہیں یہ گر چکا ہے اور مسائل کے حل کے لیے پاکستان میں نئے صوبے بنانا ہوں گے۔ 

اس خطاب کے اگلے ہی روز پاکستانی فوج کے ترجمان نے پریس بریفنگ کے دوران ملک میں گڈ گورننس کے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان کو بہتر انتظامی نظام کی جانب بڑھنا ہوگا اور اس حوالے سے ضروری اصلاحات پر غور کیا جانا چاہیے۔ جبکہ مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی محسن نقوی کے اس بیان پر ردعمل آرہا ہے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایکس پر پیغام میں محسن نقوی کو پارلیمان اور کابینہ کا فورم استعمال کرنے کا مشورہ دیا اور طنزاً لکھا کہ سسٹم میں تبدیلی کا آغاز اپنی وزارت سے کریں۔ مسلم لیگ ن کی جانب سے ایکس پر ری ٹویٹ کیے گئے اس پیغام میں مزید کہا گیا کہ محسن نقوی اس نظام کے انتہائی طاقتور عہدے پر ساڑھے تین سال سے فائز ہیں، اگر وہ چاہتے تو نظام کی تبدیلی کی بات یا پیش رفت اس عرصے میں کر سکتے تھے۔ چلیں دیر آید درست آید!‘ 

تو ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ محسن نقوی جیسے با اثر وزیر کو نئے صوبوں کا مشورہ ایک معاشی سمٹ میں سامنے رکھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اور ان کی جانب سے یہ مشورہ دیا جانا کتنا معنی خیز ہے؟اس پس منظر میں یہ دیکھنا اہم ہے کہ انہوں نے کیا کہا تھا؟اسلام آباد میں معاشی سمٹ سے خطاب کرنے آئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے ابتدائی کلمات یہ تھے۔آج مجھے تھوڑی سی سیاسی تقریر کرنا پڑے گی۔ اس کے بعد انھوں نے کہا کہ جس نظام کے اندر ہم رہ رہے ہیں یہ کولیپس کر چکا ہے اور ساتھ ہی بظاہر اس کے حل کے طور پر پاکستان میں نئے صوبے بنانے کا مشورہ دے دیا۔ ان کے الفاظ تھے کہ انتظامی یونٹس یا صوبے، اس کو جو مرضی نام دے لیں، اس کو عوام کی سطح پر لے کر جانا پڑے گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت جب اپنا بجٹ بناتی ہے تو خسارے کا بناتی ہے تو اس میں یہ بات کی جاتی ہے کہ اس سال کتنا قرضہ لینا ہے۔ تو کیا یہ ہمارا فرض نہیں ہے کہ اس کو ٹھیک کیا جائے۔ 

محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ملک کا قرض ہر سال بڑھتا جا رہا ہے جب تک اس سسٹم کو ری سیٹ نہیں کریں گے تب تک مسائل حل نہیں ہوں گے۔ وفاقی وزیر داخلہ نے تجویز دی کہ اس کے لیے پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو ایک کمرے میں بیٹھنا پڑے گا۔ چاہے وہ ایک دن بیٹھیں، ایک مہینہ بیٹھیں یا ایک سال بیٹھیں۔ محسن نقوی کے مطابق پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو صوبوں کے نئے یونٹس سے لے کر اپنے ملک کا ایک ایک مسئلہ بیٹھ کر حل کرنا پڑے گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ جب تک ایسا نہیں کیا جاتا اس وقت تک ملک کے حالات تبدیل نہیں ہو سکتے چاہے آپ جتنے مرضی سیمینار کر لیں یا جتنی مرضی تقریبات کر لیں۔

اس کے بعد اگلے ہی دن ڈی جی آئی ائی ایس پی آرسے نے اپنی پریس بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا کہ گڈ گورننس پاکستان کے لیے ایک انتہائی اہم اور سنجیدہ موضوع ہے اور ملک کو درپیش متعدد مسائل کا حل مؤثر حکمرانی اور بہتر انتظامی نظام سے جڑا ہوا ہے۔ ان کے بقول گورننس کا عمل جمود کا شکار نہیں رہ سکتا کیونکہ وقت کے ساتھ ٹیکنالوجی، آبادی اور ریاستی ضروریات میں تبدیلی آتی رہتی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ عوام کی خواہشات ہی سب سے اہم ہیں اور گڈ گورننس یا انتظامی اصلاحات سے متعلق کوئی بھی فیصلہ عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کی رائے کے مطابق ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق پاکستان کے تمام سیاسی اور انتظامی معاملات کا راستہ آئین، قانون اور جمہوری عمل سے ہو کر گزرتا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے 14 نکات پر حکومت اور اپوزیشن سمیت تمام سیاسی قوتوں کے درمیان اتفاق رائے موجود ہے، جبکہ انسداد دہشت گردی، مدارس سے متعلق اصلاحات اور افغان پناہ گزینوں کی واپسی جیسے معاملات بھی بہتر حکمرانی کا حصہ ہیں۔ تاہم گڈ گورننس کیسے لانی ہے، کون سی اصلاحات کرنی ہیں اور کس سمت جانا ہے، یہ فیصلہ سیاسی جماعتوں اور سیاست دانوں نے کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو بہتر انتظامی نظام کی جانب بڑھنا ہوگا اور اس حوالے سے ضروری اصلاحات پر غور کیا جانا چاہیے۔ انھوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ 1972 میں ملک کی آبادی تقریباً چار سے پانچ کروڑ تھی اور چار صوبے تھے، جبکہ آج آبادی کئی گنا بڑھ چکی ہے، اس لیے یہ بحث جائز ہے کہ آیا موجودہ انتظامی ڈھانچہ گڈ گورننس کی ضروریات پوری کر رہا ہے یا نہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام یا دیگر انتظامی تبدیلیوں سے متعلق فیصلے سیاسی جماعتوں، منتخب قیادت اور جمہوری عمل کے ذریعے ہونے چاہییں۔ ان کے بقول یہ طے کرنا سیاست دانوں کی ذمہ داری ہے کہ ملک میں بہتر حکمرانی کے لیے کس نوعیت کی تبدیلیاں درکار ہیں۔ 

اس کے ردعمل میں وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ایکس پر لکھا کہ وہ ذاتی طور پر ان کی آرا سے بڑی حد تک اتفاق کرتے ہیں، تاہم نظام میں بنیادی تبدیلی کے لیے آئینی اداروں کو مرکزی کردار دیا جانا چاہیے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ نظام کا ارتقائی عمل کئی دہائیوں سے گروہی اور ذاتی مفادات کے زیرِ اثر رہا ہے اور اسے ان اثرات سے آزاد کرنے کی ضرورت ہے۔ پارلیمان اور کابینہ جیسے آئینی اداروں کو پسِ منظر میں رکھ کر کاروباری برادری کے سامنے اس نوعیت کے خیالات کا اظہار اتنا مؤثر نہیں جتنا متعلقہ آئینی فورمز پر گفتگو ہو سکتی ہے اورمیں سمجھتا ہوں کہ ہائبرڈ نظام کی کامیابی میں ہی ہماری موجودہ حالتِ نجات ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ لیکن اگر ایک مثالی (یوٹوپین) نظریہ یا مقصد کو حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اسے ہائبرد نظام کے راستے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ جب ان سے وزیرِ داخلہ کے اس بیان کے متعلق سوال کیا گیا کہ موجودہ نظام اگلے دس برس میں بھی نتائج نہیں دے سکتا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ محسن نقوی کی ذاتی رائے ہے۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے محسن نقوی کے نئے صوبوں کے مشورے یا مطالبے سے تو اتفاق کیا لیکن وہ اس بیان سے متفق نہیں کہ نظام ڈھے چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے نزدیک سسٹم کولیپس کہنا مناسب نہیں۔ سسٹم صوبائی مرکزیت، این ایف سی ایوارڈ کی کمزوریوں اور بیوروکریسی کے شکنجے سے جام ہو گیا ہے۔ احسن اقبال نے وہ وجوہات بیان کیں جن کی بنیاد پر ان کا خیال ہے کہ ملک میں نئے صوبے یا انتظامی یونٹس بنانے کی اشد ضرورت ہے۔

انھوں نے بتایا کہ 18ویں ترمیم کا مقصد یہ تھا کہ اختیارات کو وفاق سے صوبوں تک اور صوبوں سے ضلعی حکومتوں تک منتقل کیا جائے، تاہم آئینی ترمیم کے بعد ’صوبوں کو تو اختیارات منتقل ہو گئے، لیکن انھوں نے وہ تمام اختیارات اپنے پاس ہی رکھ لیے۔ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ اس وقت صوبے مرکزیت کے ساتھ ایک انتظامی یونٹ کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جس کی وجہ سے تعلیم اور صحت سمیت تمام شعبہ جات ابتری کا شکار ہوئے ہیں۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی کا کہنا تھا کہ یا تو صوبوں کے اختیارات ضلعی حکومتوں کو دے دیے جائیں، یا پھر پاکستان کے 160 اضلاع میں با اختیار مقامی حکومتیں قائم کی جائیں۔ احسن اقبال کے بقول اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو ملک کو زیادہ مؤثر انداز میں چلانے کے لیے نئے اور قابلِ انتظام انتظامی یونٹس قائم کرنا ناگزیر ہو جائے گا۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی آبادی بڑھ چکی ہے، اب صوبائی دار الحکومتوں میں بیٹھ کر صوبے چلانا نا ممکن ہو چکا ہے، اس کا حل یہ ہے کہ یا تو تمام اضلاع میں با اختیار مقامی حکومتیں بنا دی جائیں یا ملک میں 15 سے 18 صوبے بنا دیے جائیں۔ 

احسن اقبال نے دلیل میں انڈیا سمیت دیگر ممالک کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ ’ترکی میں 81 صوبے ہیں، یہاں تک کہ افغانستان میں بھی 30 سے زیادہ صوبے ہیں۔

سوال یہ بھی ہے کہ اگر وفاق نئے صوبوں بنانے کی کوشش کرتا ہے تو کیا اتحادی جماعت پیپلز پارٹی اس کی حمایت کرے گی؟

اس سوال کا جواب دیتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا کہ ان کی جماعت کا اس حوالے سے موقف بہت واضح ہے کہ نئے صوبے بنانے کا طریقہ کار آئین میں موجود ہے۔ اور وہ اسی طریقہ کار کے تحت ہی بنائے جا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جس صوبے کو تقسیم کرنے کی ضرورت ہو گی، وہی صوبہ اس پر بحث کرے گا، آئین میں ترمیم کی جائے گی، اور نیا صوبہ صرف اسی صورت میں بن سکتا ہے۔ قمر زمان کائرہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی نئے صوبوں کی مخالفت نہیں کرتی جہاں نئے صوبوں کی ضرورت محسوس کی جائے گی وہاں آئینی طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے بنا لیے جائیں تو ہمیں کوئی مسئلہ نہیں۔

 اس صورتحال میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ پاکستان میں نئے صوبے بنانے کا کیا طریقہ کار ہے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے