ٹرمپ کا سخت پیغام اب کینیڈا کو سکھانے کا وقت آگیا ہے کہ ایسا نہیں چل سکتا دوسری جانب کینیڈا بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں
27.6 ارب کینیڈین ڈالر کی امریکی مصنوعات پر جوابی ٹیرف، 8 ستمبر سے 700 سے زائد اشیا مہنگی ہونے کا خدشہ؛ کینیڈا نے 7.5 ارب ڈالر کا امدادی پیکیج بھی پیش کردیا
رپورٹ: محبوب علی شیخ
امریکا اور کینیڈا کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط قریبی تجارتی شراکت داری ایک بار پھر شدید بحران کا شکار ہوگئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت بیانات اور نئے امریکی محصولات کے بعد کینیڈا نے بھی بھرپور جوابی کارروائی کا اعلان کردیا ہے، جس سے شمالی امریکا میں تجارتی جنگ کے مزید پھیلنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں
امریکا اور کینیڈا کی تجارتی جنگ مزید شدت اختیار کرگئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اب کینیڈا کو یہ “سکھانے کا وقت ہے کہ ایسا مزید نہیں چل سکتا”، جبکہ اوٹاوا نے امریکی محصولات کے جواب میں 27.6 ارب کینیڈین ڈالر مالیت کی 700 سے زائد امریکی مصنوعات پر 15 سے 50 فیصد تک ڈالر کے بدلے ڈالر جوابی ٹیرف نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے، جو 8 ستمبر سے مؤثر ہوں گے۔
کینیڈا نے متاثرہ ملازمین اور کاروباروں کے لیے 7.5 ارب ڈالر کا امدادی پیکیج بھی متعارف کرایا ہے۔ اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آیا 8 ستمبر سے پہلے دونوں ممالک مذاکرات کی میز پر واپس آتے ہیں یا دنیا کے دو سب سے قریبی تجارتی شراکت دار ایک زیادہ مہنگی اور طویل معاشی جنگ میں داخل ہوجاتے ہیں۔
کینیڈین حکومت کے مطابق امریکا کے ساتھ ایک جامع تجارتی سمجھوتے کیلئے شدید مذاکرات کیے گئے، لیکن امریکی جانب سے پیش کی جانے والی حالیہ شرائط کینیڈا کیلئے قابلِ قبول نہیں تھیں۔
وفاقی وزیر خزانہ François-Philippe Champagne کے مطابق امریکا کینیڈا سے بہت زیادہ مانگ رہا تھا اور بدلے میں بہت کم پیش کررہا تھا؛ حکومت کا مؤقف ہے کہ مجوزہ شرائط کینیڈین کارکنوں، کاروباروں اور اہم صنعتوں کیلئے نقصان دہ ہوسکتی تھیں۔
اسی بنا پر کینیڈا نے ناموافق معاہدہ قبول کرنے کے بجائے مذاکرات معطل کرکے جوابی تجارتی اقدامات کا راستہ اختیار کیا
امریکا اور کینیڈا کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط دنیا کے سب سے بڑے اور گہرے تجارتی تعلقات میں ایک نئی اور غیر معمولی کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ 26 اگست کو ریڈیو میزبان گلین بیک کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ کینیڈا کو بتایا جائے کہ وہ “ایسا مزید نہیں کرسکتا
ٹرمپ نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکا اپنی ضروریات کا بیشتر سامان کینیڈا کے علاوہ دیگر ممالک سے بھی حاصل کرسکتا ہے اور کینیڈا کے بغیر امریکی معیشت کو زیادہ سے زیادہ کچھ عارضی “زحمت” کا سامنا ہوگا۔
اس تازہ مرحلے کا آغاز اس وقت ہوا جب واشنگٹن نے 22 اگست سے تقریباً 27.6 ارب کینیڈین ڈالر مالیت کی کینیڈین اشیا پر 50 فیصد تک نئے محصولات نافذ کردیے۔ امریکی ڈالر میں یہ رقم تقریباً 20 ارب ڈالر بنتی ہے۔
کینیڈا کی وزارتِ خزانہ کے مطابق اوٹاوا اور واشنگٹن کئی ماہ سے ایک جامع تجارتی سمجھوتے پر مذاکرات کررہے تھے، تاہم آخری مرحلے پر امریکا کی جانب سے نئی شرائط سامنے آنے کے بعد کینیڈا نے معاہدے کو ملکی اقتصادی مفاد اور خودمختاری کے لیے غیر موزوں قرار دیتے ہوئے مذاکرات معطل کردیے۔
کینیڈا نے واضح کردیا ہے کہ امریکی محصولات کا جواب محض سیاسی بیان بازی تک محدود نہیں رہے گا۔ وفاقی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ 8 ستمبر 2026 سے 27.6 ارب کینیڈین ڈالر مالیت کی امریکی درآمدات پر 15، 25 اور 50 فیصد کے جوابی محصولات نافذ کیے جائیں گے۔
سرکاری فہرست میں 700 سے زائد امریکی مصنوعات شامل ہیں اور ہر متعلقہ شے پر شرح اس امریکی شرح کے مطابق رکھی گئی ہے جو اسی نوعیت کی کینیڈین مصنوعات پر عائد کی گئی ہے۔
کینیڈین حکومت کی جاری کردہ فہرست کے مطابق نئے محصولات کا دائرہ اسٹیل، ایلومینیم، ڈیری مصنوعات، گھریلو برقی آلات، زرعی مشینری، پلپ اینڈ پیپر اور الیکٹرانکس سمیت کئی شعبوں تک پھیلا ہوا ہے۔
کچھ مصنوعات پر 50 فیصد، بعض پر 25 فیصد اور دیگر منتخب اشیا پر 15 فیصد محصولات لاگو ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر درآمد کنندگان یہ اضافی لاگت خود برداشت نہ کریں تو اس کا کچھ حصہ بالآخر کینیڈین صارفین کو زیادہ قیمتوں کی شکل میں منتقل ہوسکتا ہے
وفاق کی جانب سے کینیڈا کے کاروبار اور ملازمین کے لیے 7.5 ارب ڈالر کا امدادی پیکیج کا اعلان سامنے آیا ہے۔ تجارتی جنگ کے ممکنہ معاشی اثرات کم کرنے کے لیے اوٹاوا نے 7.5 ارب کینیڈین ڈالر کے نئے اور توسیع شدہ امدادی اقدامات بھی متعارف کرائے ہیں۔ حکومت کے مطابق یہ رقم بالخصوص متاثرہ ملازمین، چھوٹے اور درمیانے کاروباروں اور برآمدی شعبوں کو سہارا دینے کے لیے استعمال ہوگی۔
اقدامات میں کاروباری قرضوں اور لیکویڈیٹی سپورٹ، برآمدی منڈیوں میں تنوع پیدا کرنے کے لیے Canada Strong Diversification Fund اور کارکنوں و آجروں کے لیے اربوں ڈالر کے Rapid Response پروگرام شامل ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ پیکیج پہلے سے فراہم کردہ تقریباً 25 ارب ڈالر کی ٹیرف سپورٹ کے علاوہ ہے۔
وائٹ ہاؤس نے 25 اگست کو “President Trump Is Finally Ending Canada’s Free Ride” کے عنوان سے ایک سخت بیان جاری کیا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ کینیڈا کئی دہائیوں سے امریکی کاروبار اور مصنوعات کے خلاف غیر منصفانہ تجارتی رکاوٹیں قائم کیے ہوئے ہے۔
امریکی انتظامیہ نے شراب، ڈیری، ہوا بازی اور بعض دیگر شعبوں کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی دعویٰ کیا کہ واشنگٹن نے کینیڈا کو خصوصی مارکیٹ رسائی اور اسٹیل، ایلومینیم، گاڑیوں اور لکڑی سمیت مختلف شعبوں میں رعایتیں پیش کی تھیں مگر اوٹاوا نے انہیں قبول نہیں کیا۔ یہ وائٹ ہاؤس کا مؤقف ہے، جس سے کینیڈین حکومت اختلاف کرتی ہے۔
یہی سوال موجودہ تنازعے کا سب سے متنازع حصہ بن چکا ہے۔ امریکی حکام پہلے یہ مؤقف دیتے رہے کہ کینیڈا نے مذاکرات کے آخری مرحلے میں وعدوں سے پیچھے ہٹ کر نئی شرائط عائد کیں۔
دوسری جانب وزیراعظم مارک کارنی کا کہنا ہے کہ آخری لمحے پر نئی اور “غیر منصفانہ” تجاویز امریکا کی جانب سے آئیں، خصوصاً گاڑیوں کے شعبے اور کینیڈا کے تیسرے ممالک کے ساتھ مستقبل کے تجارتی معاہدوں کی آزادی کے حوالے سے۔
مزید اہم بات یہ ہے کہ ٹرمپ نے CNN سے گفتگو میں جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا امریکا نے آخری وقت پر نئی شرائط شامل کی تھیں تو انہوں نے اس امکان کو مسترد نہیں کیا۔ یہی معاملہ اب اس بحث کو مزید اہم بنا رہا ہے کہ مذاکراتی میز پر اصل میں آخری لمحے میں کیا تبدیل ہوا۔
کینیڈا اور امریکا کا آٹو سیکٹر روایتی برآمد و درآمد کے بجائے ایک مشترکہ شمالی امریکی سپلائی چین کی طرح کام کرتا ہے۔ ایک گاڑی کے پرزے مکمل تیاری سے پہلے کئی مرتبہ سرحد پار کرسکتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ بھاری ٹیرف صرف کینیڈین فیکٹریوں پر نہیں بلکہ مشی گن اور دیگر امریکی ریاستوں میں واقع اسمبلی پلانٹس پر بھی لاگت بڑھا سکتے ہیں۔ Reuters نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ کینیڈین آٹو پارٹس، اسٹیل اور دیگر مصنوعات پر محصولات دونوں ممالک میں پیداواری لاگت اور سپلائی چین کو متاثر کرسکتے ہیں۔
عام صارف پر بھی اسکے اثرات نمودار ہوسکتے ہیں جوابی ٹیرف سیاسی دباؤ پیدا کرنے کے لیے ہوتے ہیں، لیکن درآمدی محصول دراصل درآمد کنندہ ادا کرتا ہے۔ اگر کاروبار اس اضافی قیمت کو اپنے منافع سے جذب نہ کرے تو اس کا کچھ حصہ صارفین تک پہنچتا ہے۔
اسی لیے کینیڈا کا چیلنج دوہرا ہے: امریکا پر اتنا دباؤ ڈالا جائے کہ مذاکرات دوبارہ شروع ہوں، مگر ایسی امریکی مصنوعات پر محصولات لگانے سے گریز کیا جائے جن کے مہنگا ہونے کا زیادہ نقصان خود کینیڈین خاندانوں یا صنعتوں کو پہنچے۔
اصل سوال یہ ہے کہ دنیا کے سب سے زیادہ مربوط تجارتی تعلقات میں شمار ہونے والی کینیڈا–امریکا اقتصادی شراکت داری کس سمت جارہی ہے؟
اگر تجارتی کشیدگی طویل ہوتی ہے تو کمپنیوں کیلئے سرمایہ کاری، سپلائی چین، نئی بھرتیوں اور پیداواری فیصلوں میں غیر یقینی بڑھ سکتی ہے۔ دوسری جانب کینیڈا کی حکمتِ عملی امریکی درآمدات پر انحصار کم کرنے، ملکی پیداوار کی حوصلہ افزائی اور دیگر عالمی منڈیوں کی جانب تجارت کو diversify کرنے کی کوشش کو بھی تیز کرسکتی ہے۔
اسی لیے Canada Strong Diversification Fund جیسے اقدامات محض فوری امداد نہیں بلکہ طویل مدتی اقتصادی سمت کا اشارہ بھی ہیں۔
آنے والے دنوں میں سب سے اہم سوال یہ ہوگا کہ آیا واشنگٹن اور اوٹاوا دوبارہ مذاکرات کی میز پر واپس آتے ہیں یا شمالی امریکا کی یہ تجارتی کشیدگی مزید بڑھتی ہے
کینیڈا نے امریکا کی جانب سے 27.6 ارب ڈالر مالیت کی کینیڈین مصنوعات پر نئے ٹیرف کے جواب میں اتنی ہی مالیت کی امریکی درآمدات پر 15، 25 اور 50 فیصد جوابی ٹیرف لگانے کا اعلان کردیا ہے۔ نئے اقدامات 8 ستمبر سے نافذ ہوں گے اور الیکٹرانکس، اسٹیل، ڈیری، گھریلو آلات، فرنیچر، ملبوسات اور دیگر متعدد مصنوعات کو متاثر کریں گے۔
اسی کے ساتھ وفاقی حکومت نے تجارتی جنگ سے متاثر ہونے والے کینیڈین کارکنوں اور کاروباروں کیلئے 7.5 ارب ڈالر کا امدادی پیکیج بھی متعارف کرایا ہے، جس میں EI کی عارضی سہولتیں، کاروباری liquidity، retraining اور diversification کیلئے اربوں ڈالر کی مدد شامل ہے۔ اب نظریں 8 ستمبر اور اس سوال پر مرکوز ہیں کہ آیا امریکا اور کینیڈا مذاکرات کی میز پر واپس آئیں گے یا تجارتی محاذ مزید گرم ہوگا۔
کینیڈا، امریکا اور میکسیکو کا آزاد تجارتی معاہدہ CUSMA/USMCA طویل عرصے سے شمالی امریکی تجارت کی بنیاد ہے۔ موجودہ ٹیرف تنازع اس معاہدے کی عملی حیثیت اور آئندہ جائزے پر سنجیدہ سوالات کھڑے کررہا ہے۔
بعض تجارتی ماہرین کا خیال ہے کہ اگر بڑے پیمانے کے یکطرفہ اور جوابی محصولات طویل مدت تک برقرار رہے تو آزاد تجارت کے بنیادی تصور کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ تاہم فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ CUSMA قانونی طور پر “ختم” ہوگیا ہے۔
سیاسی طور پر وزیراعظم مارک کارنی کو کئی صوبائی رہنماؤں کی جانب سے امریکی دباؤ کے مقابلے میں حمایت مل رہی ہے، مگر اس بات پر مکمل اتفاق نہیں کہ کینیڈا کو کس حد تک جانا چاہیے۔
اونٹاریو کے پریمیئر ڈگ فورڈ زیادہ سخت اقدامات اور امریکی معیشت پر براہ راست دباؤ کے حامی رہے ہیں، جبکہ بعض دیگر رہنما توانائی یا بجلی جیسی بنیادی برآمدات کو تجارتی ہتھیار بنانے میں احتیاط کی بات کررہے ہیں۔
یہ اختلاف ایک اہم سوال پیدا کرتا ہے: کینیڈا امریکا کو کہاں تک نقصان پہنچا سکتا ہے بغیر اس کے کہ اس نقصان کا بڑا حصہ واپس کینیڈین معیشت کو ہی برداشت کرنا پڑے؟
پوئلیور کا سوال: کینیڈین عوام کو جوابی ٹیرف کی اصل قیمت بتائی جائے
وفاقی کنزرویٹو قیادت مجموعی طور پر امریکی 50 فیصد محصولات کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے حکومت سے ایک مضبوط ردعمل کا مطالبہ کررہی ہے، لیکن ساتھ ہی وزیراعظم مارک کارنی پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے کہ مسترد کیے گئے امریکی معاہدے کی تفصیلات اور کینیڈین جوابی محصولات سے صارفین پر پڑنے والی ممکنہ لاگت عوام کے سامنے رکھی جائے۔
یہ سیاسی بحث آنے والے ہفتوں میں اہم ہوگی، کیونکہ قومی اتحاد کے ساتھ ساتھ affordability بھی کینیڈین حکومت کے لیے بنیادی سیاسی امتحان بن سکتی ہے۔
یہ تصور درست نہیں کہ امریکا کے اندر اس تجارتی حکمتِ عملی پر مکمل اتفاق موجود ہے۔ سرحدی ریاستوں، چھوٹے کاروباروں اور ایسی صنعتوں میں تشویش بڑھ رہی ہے جن کا کینیڈین خام مال، صارفین یا سپلائی چین سے براہ راست تعلق ہے۔
کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوزم نے پیش گوئی کی ہے کہ بڑھتا ہوا داخلی سیاسی اور معاشی دباؤ بالآخر ٹرمپ کو کینیڈا کے خلاف تازہ ٹیرف پر اپنا مؤقف تبدیل کرنے پر مجبور کرسکتا ہے۔ تاہم فی الحال یہ نیوزم کی سیاسی پیش گوئی ہے، کوئی طے شدہ امریکی پالیسی نہیں۔
اس تجارتی جنگ کا انسانی پہلو شاید سب سے زیادہ اہم ہے۔ کینیڈین برآمد کنندگان کو امریکی مارکیٹ کھونے کا خطرہ ہے جبکہ امریکی کاروباروں کو کینیڈین خام مال اور صارفین کی کمی کا سامنا ہوسکتا ہے۔
خاص طور پر چھوٹے کاروباروں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ صرف موجودہ ٹیرف نہیں بلکہ یہ ہے کہ وہ اگلے چھ ماہ یا ایک سال کی قیمتیں، سرمایہ کاری اور ملازمتوں کی منصوبہ بندی کس بنیاد پر کریں جبکہ تجارتی پالیسیاں چند دنوں میں بدل سکتی ہیں۔
موجودہ بحران کینیڈا کی ایک طویل المدتی کمزوری بھی نمایاں کررہا ہے: امریکی منڈی پر غیر معمولی انحصار۔
کچھ کینیڈین کاروباری ادارے پہلے ہی ایشیا، یورپ اور دیگر خطوں میں نئے خریدار تلاش کررہے ہیں۔ یہ تبدیلی فوری طور پر امریکا کی جگہ نہیں لے سکتی، مگر اگر موجودہ تنازع طویل ہوا تو کینیڈا کی تجارتی حکمتِ عملی بنیادی طور پر زیادہ متنوع عالمی منڈیوں کی طرف منتقل ہوسکتی ہے۔
یہ معاملہ اب محض چند مصنوعات پر 25 یا 50 فیصد ڈیوٹی لگانے تک محدود نہیں رہا۔ اصل سوال شمالی امریکا کے معاشی نظام کے مستقبل کا ہے۔
کئی دہائیوں تک کینیڈا اور امریکا نے اپنی صنعتوں کو اس مفروضے پر تعمیر کیا کہ سرحد تجارت کی رکاوٹ نہیں بلکہ سپلائی چین کا حصہ ہے۔ اگر دونوں ممالک مستقل طور پر ایک دوسرے کی مصنوعات کو معاشی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا شروع کردیں تو کاروباری ادارے اپنی فیکٹریاں، سپلائرز، سرمایہ کاری اور منڈیاں دوبارہ ترتیب دینا شروع کردیں گے۔
اس تبدیلی کو واپس پلٹانا کسی ایک نئے تجارتی معاہدے سے بھی آسان نہیں ہوگا۔
8 ستمبر وہ دن ہے جب کینیڈا کے تازہ جوابی محصولات نافذ ہونے ہیں۔ یہی تقریباً دو ہفتوں کا وقفہ دونوں حکومتوں کے پاس ایک ممکنہ سفارتی “آف ریمپ” بھی فراہم کرتا ہے۔
اگر اس عرصے میں مذاکرات دوبارہ شروع ہوتے ہیں اور کوئی قابلِ قبول سمجھوتا سامنے آتا ہے تو کشیدگی کم ہوسکتی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو 700 سے زائد امریکی مصنوعات نئے ٹیرف نظام میں داخل ہوجائیں گی اور تجارتی جنگ کا اثر مزید براہ راست بازار، صنعت، روزگار اور صارفین تک پہنچنا شروع ہوجائے گا۔
