انقلاب کب آتے ہیں؟

Spread the love

آج کل سوشل میڈیا پر دو ویڈیو زکی بڑی دھوم مچی ہوئی ہے۔ایک ویڈیو میں دنیا کے ترقی یافتہ ترین ملک ناروے وزیر خارجہ آتے دکھائی دے رہیں۔ یہ عام سی کمرشل فلائٹ میں پاکستان پہنچے ہیں۔ اپنا سامان خود ہی اٹھائے ہوئے ہیں۔ ان کے ساتھ کوئی نوکر چاکر نہیں ہے۔ کوئی پروٹوکول نہیں۔ بالکل سادگی کے ساتھ آرہے ہیں۔ آنے کا مقصد بہت بڑا ہے۔ پاکستان میں تیل اور گیس کے ذخائر کو نکالنے کے لئے نارویجن کمپنیوں کے ساتھ اربوں ڈالر کا معاہدہ کرناہے۔ جبکہ دوسری ویڈیو میں ایک مقروض ملک پاکستان کےسرکاری افسران شاہانہ پروٹوکول اور لائولشکر کے ساتھ بھگی میں بیٹھ کر کرّو فر سے جارہے ہیں۔

قارئین! تاریخِ انسانی بتاتی ہے دنیا میں انقلابات ہمیشہ دو وجہ سے آئے ۔ ایک مذہب کے نام پردوسرا بھوک و افلاس کے سبب۔ ہر اہم انقلاب کے پیچھے ان دو میں سے کوئی نہ کوئی سبب ضرور نظر آتا ہے۔ سرِدست ہم غربت و افلاس کے سبب انقلابات کو تاریخ کے تناظر میں بیان کرتے ہیں۔ گیارہویں صدی عیسوی کی شروعات میں ہسپانیہ کا حکمران طبقہ بدستور عیش و عشرت میں مگن رہا کہ کوئی ان کی حکمرانی کو چیلنج نہیں کرسکتا۔ دوسری طرف غریب اور مفلوک الحال عوام تھے۔ حکمرانوں نے عوام کا جینا دوبھر کررکھا تھا۔ پھر کیا ہوا؟ عوام کے مشتعل ہجوم نے شاہی محلات کو تہس نہس اور تباہ کرکے رکھ دیا۔ آپ صرف 19ویں صدی کے دو عشروں پر نظر ڈالیں۔ روس کے لوگ الیگزنڈر دوم کی عیاشیوں کو اپنی غربت کا مذاق سمجھتے تھے۔ حکمران طبقے نے عوام کو دبانے کے ہزار جتن کئے۔ سیکڑوں لوگ گرفتار ہوئے۔ سینٹ پیٹرز برگ کے قلعوںمیں تشدد اور پھانسیاں دی گئیں۔ ہر نیا آنے والا زار تاریخ کا پہیہ واپس موڑنا چاہتا مگر وہ آخری زار ثابت ہوتا اور عوام کا غصہ انقلاب کا بے خوف لاوا بن گیا۔ پھر راستے کی ہر عمارت اور رکاوٹ خس وخاشاک ہوگئی۔

حکمرانوں کے عشرت کدے، ماتم خانوں میں تبدیل ہوگئے۔ 19ویں صدی میں ہی امریکا کے شہرشکاگومیں مزدوروں کی المناک زندگیاں اپنے مالکان کے تعیش کو دیکھ کر کڑھتی تھیں اور پھر تین مئی کی وہ صبح طلوع ہوئی جب حکمرانوںکا عوام سے مقابلہ ہوا اور آخر کار فتح عوام ہی کی ہوئی۔ انیسویں صدی کی آخری دہائی میں فرانس کے غریب عوام میں قوتِ برداشت جب ختم ہوئی۔ بے روزگاری سے تنگ آئے ایک 12 سالہ بچے نے دسمبر میں پارلیمنٹ میں بم پھینکا۔ ایک اور بھوک سے سڑکوں پرروٹی کے ٹکڑے چن کر کھانے والے بچے نے ایک ریستوران پر بم دے مارا۔ جب اسے پکڑکر عدالت میں لایا گیا تو جج نے پوچھا: ”تم نے اس جگہ بم کیوں پھینکا؟“ اس نے کہا: ”اس لیے کہ وہاں لوگ بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں اورمجھے کئی کئی میل پیدل چل کر زمین سے پھینکے ہوئے روٹی کے ٹکڑے اٹھاکر پیٹ بھرنا پڑتا ہے۔“ انیسویں صدی میں ہی اسپین کے شہر ”بارسلونا“ میں عوام آتش فشاں بن کر پھٹ رہے تھے۔ اس کی وجہ بھی ناانصافی تھی۔ ایران میں بھی یہی کچھ ہوا۔آج کل پاکستان میں بھی ایسے ہی حالات ہیں۔ اس وقت پاکستان میںچار کروڑ افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ پانچ کروڑ اسّی لاکھ افراد کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں۔چار کروڑ نوے لاکھ افراد صرف ایک کمرے کے گھر میں رہائش پذیر ہیں۔ 31 فیصد اسکولوں میں بنیادی ضروریات نہیں ہیں۔ آئے دن غربت میں اضافہ ہورہا ہے۔ گزشتہ سال پاکستان میں 24 فیصد آبادی غربت کی نچلی سطح پر زندگی گزارنے پر مجبور تھی جبکہ اس سال غربت کی شرح بڑھ کر 28 فیصد ہوگئی ہے۔ وطن عزیز کی 73 فیصد آبادی روزانہ 2 ڈالر سے کم کماتی ہے۔ عوام کو آنسو بہاتے، پیٹ پر پتھر باندھتے اور جسم پر پتے لپیٹتے 89سال گزرگئے ہیں۔ ہر آنے والے حکمران نے عوام کو ”سبز باغ“ دکھائے۔ لیکن بے چارے عوام کے مسائل جوں کے توں ہی رہے۔ جس کا باپ مزدور تھا اس کا بیٹا آج ڈبل مزدوری کررہا ہے۔ جس کا دادا کسان تھا اس کے پوتے سے آج جاگیردار بیگار کروارہے ہیں۔ جس کا نانا موچی تھا وہ آج ٹھیلے پر لنڈے کے جوتے بیچ رہا ہے۔ ان تمام مناظر کو دیکھنے کے لیے کسی اور دنیا میں جانا نہیں پڑتا آپ اپنے اردگرد نظر دوڑائیں اپنی قومی زندگی میں معاشرتی بے حسی اور سنگدلی کے یہ خوفناک مناظر جگہ جگہ بکھرے نظر آئیں گے۔کہیں ایسا دل خراش منظر بھی نظر آتا ہے کہ والدین کے پاس اپنی مردہ بچی کے لیے کفن دفن کی رقم نہیں۔

جس معاشرے میں مائیں غربت کی بنا پر اپنے بچے فروخت کرنے لگیں وہاں انقلاب کے دستک سننے میں دیر نہیں لگتی۔ستم ظریفی تو ملاحظہ کیجئے! ایک طرف بھوکے، ننگے اور خستہ حال عوام ہیں دوسری طرف وزرا کی فوج ظفر موج ہے۔ غربت کے خاتمے کی بجائے صوبوں اور شہروں کے نام تبدیل کرنے میں مصروف ہیں۔ایک ایک وزیر کے ساتھ ملازموں کا لشکر، گاڑیوں کا بیڑا، وسیع و عریض بنگلے، شاہانہ طرزِ زندگی ہے۔ ایک ایک وزیر پر چھ چھ کروڑ سر کاری خزانے سے خرچ کیے جارہے ہیں۔ بھارت کے وزیراعظم من موہن سنگھ کی بیٹی اپنی ہم جماعت لڑکی کی اس درخواست پر کہ ”مجھے فلاں سوال کا جواب فیکس کردو۔“ یہ کہہ کر معذرت کرلیتی ہے: ”وزیراعظم ہاؤس میں فیکس مشین سرکاری ہے، اس کا پرائیویٹ استعمال امانت میں خیانت ہوگا۔“ ایک ہم ہیں کہ سرکاری خزانے کو ”خالہ جی کا باڑا“ سمجھ رکھا ہے۔ قومی املاک کا اندھا استعمال ہے حالانکہ ہمارے حکمران اس عمر بن خطاب کے نام لیوا ہیں جن کے پاس بسا اوقات دو کپڑے بھی نہیں ہوتے تھے۔ ایک دفعہ نماز میں دیر ہوگئی۔ آپ نے پیغام بھجوایا: ”میرے پاس اس وقت ایک ہی جوڑا ہے اور وہ سوکھ رہا ہے۔ کچھ دیر میں خشک ہوجائے گا تو پھر آکر امامت کراؤں گا۔ کچھ دیر انتظار کریں۔“ دنیا کی سب سے بڑی سلطنت میں عدل وانصاف کا بہترین نظام قائم کرنے کے باوجود آپ خوفِ خدا سے لرزتے رہتے اور کہتے:”اگر دریائے فرات کے کنارے کوئی بکری کا بچہ بھی بھوک سے مرجاتا ہے تو قیامت کے دن عمر سے سوال ہوگا۔“

ہم اس عمر بن عبدالعزیز کی حکمرانی اپنے لیے آئیڈیل کیوں نہیں بناتے جن کے دورِ حکومت میں کوئی غریب نہیں تھا۔ کوئی صدقہ کا مال لینے والا تلاش کرنے سے بھی نہیں ملتا تھا۔ اس کے باوجود سرکاری خزانے سے اپنے لئے کوئی سہولت نہ لی۔ وطن عزیز میں سرکاری سطح پر اقربا پروری ہے۔ بے ضابطگی ہے۔ بے جا اخراجات ہیں۔ بدترین خیانت ہے۔ کام چوری ہے۔ کرپشن ہے۔ بدعنوانی ہے۔ گویا ملک میں اندھیر نگری چوپٹ راج ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے