کیا ایران راکٹوں سے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھا سکتا ہے؟

Spread the love

امریکا نے ایران کے خلاف ایک ماہ کے وقفے کے بعد دوبارہ کارروائی کرتے ہوئے آبنائے ہرمز میں واقع لارک جزیرے پر ایرانی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق حملے کا مقصد ایران کو راکٹوں کے ذریعے آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھانے سے روکنا تھا۔

کیا راکٹوں کے ذریعے سمندری بارودی سرنگیں بچھانا ممکن ہے؟

امریکی دعوے پر بعض ماہرین نے سوالات اٹھائے ہیں، ریٹائرڈ امریکی بحری افسر ہارلن اولمین نے عرب میڈیا سے گفتگو میں راکٹوں کے ذریعے بارودی سرنگیں بچھانے کے امریکی دعوے کو ’ناقابلِ یقین‘ قرار دے دیا۔

ان کا کہنا ہے کہ پانی سے ٹکراتے وقت راکٹ کا شدید اثر بارودی سرنگوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے، البتہ ایران کے پاس سمندری بارودی سرنگیں بچھانے کے کئی دیگر طریقے بھی موجود ہیں۔

دوسری جانب ایران خود ماضی میں راکٹوں کے ذریعے سمندری بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیت کا مظاہرہ کر چکا ہے۔

جنوری 2025ء میں ایرانی سرکاری ٹی وی پر ایک ویڈیو نشر کی گئی تھی جس میں پاسدارانِ انقلاب کو بحری مشقوں کے دوران فجر-5 ملٹی پل لانچ راکٹ سسٹم (MLRS) کے ذریعے سمندر میں بارودی سرنگیں بچھاتے دکھایا گیا تھا۔

سمندری بارودی سرنگیں عام طور پر کیسے بچھائی جاتی ہیں؟

عام طور پر سمندری بارودی سرنگیں خصوصی جنگی بحری جہازوں، آبدوزوں یا طیاروں کے ذریعے سمندر میں پہنچائی جاتی ہیں، انہیں سمندر کی تہہ میں رکھا جاتا ہے یا تہہ سے کچھ اوپر معلق کیا جاتا ہے، جہاں وہ گزرنے والے جہازوں کے مقناطیسی اثر یا ارتعاش کا پتہ لگانے کے بعد دھماکے سے پھٹ سکتی ہیں۔

کچھ بارودی سرنگیں پانی کی سطح کے بالکل نیچے بھی رکھی جاتی ہیں جو جہاز سے ٹکرانے پر دھماکے سے پھٹ جاتی ہیں۔

خیال کیا جاتا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی مواد پہنچانے کے لیے تیز رفتار چھوٹی جنگی کشتیوں کا بھی استعمال کیا ہے، امریکی فوج نے ان میں سے متعدد کشتیوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے