آج کل پاکستان کے چاروں صوبوں میں بڑی گہماگہمی دکھائی دے رہی ہے ۔گھاگ سیاستدان بڑھ چڑھ کر بحث مباحثوں میں حصہ لےرہے ہیں ۔محسوس کریں تو لگتا ہے جیسے شادی بیاہوں کا تانتا لگ گیا ہو ایک کے بعد ایک کارندہ اپنا گھر بسانے کیلئے مارا مارا پھر رہا ہے مگر اصل میں ایسا کچھ نہیں ہے پاکستان کی نئی تاریخ لکھنے کی تیاری ہورہی ہے چار بڑے صوبوں کو توڑ مروڑ کر کاٹ کوٹ کر چھوٹے چھوٹے صوبے بنانےکی تیاریاں عروج پر ہیں۔ صوبوں میں آج کل دکھائی دینے والی مسرت اور خوش دلی ، رنگ رلیاں اسی سلسلے کی کڑی ہیں آپ براہ کرم مسکرائیں مت ،یہ کوئی مذاق کی بات نہیں ہے۔ تاریخ کے نئے باب لکھنے کی تیاریاں ہورہی ہیں ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑا دکھانے والے اپنا الگ تھلگ صوبہ بنائیں گے ،ڈھول کی تھاپ پر جھمر ڈالنے والے اپنا الگ صوبہ بنائیں گے اور دائیں کان پر ہاتھ رکھ کر الاپ لگانے والے اپنا الگ صوبہ بنائیں گے، بائیں کان پر ہاتھ رکھ کر الاپ لگانے والے اپنا الگ صوبہ بنائیں گے۔
قدرت کے قوانین کے مطابق لوگوں کی زبانیں الگ ،رہن سہن الگ، اٹھنا بیٹھنا الگ، تہذیب و تمدن الگ ،رسم و رواج الگ تھلگ ہوتے ہیں ۔ اس میں اگر ریت پریت میں تفریق کو شامل کرلیں تو سماجی معاملہ کچھ اور ہی دکھائی دے گا ۔ الگ ہونے کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں بننے والے چھوٹے چھوٹے صوبوں کو وزیراعلاؤں یعنی وزرائے اعلیٰ کی اشد ضرورت ہے تلاش جاری ہے دس پندرہ اعلیٰ نسل کے وزرائے اعلیٰ کی ضرورت پڑنے والی ہے۔ مجموعی طور پر ان کی کیبنٹ کیلئے ڈیڑھ دو سو اعلیٰ نسل کے وزیروں اور مشیروں کی ضرورت پڑنے والی ہے۔ دس بارہ نئی صوبائی اسمبلیاں بننے والی ہیں ۔ نئی صوبائی اسمبلیوں کو آباد رکھنے کیلئے ہزار ڈیڑھ ہزار اسمبلی مبصروں کی ضرورت ابھی سے محسوس کی جارہی ہے۔ دادا دادی،ماں باپ، بیٹے اور بیٹیاں، بھانجے ، بھتیجے ،بھتیجیاں داماد اور ہم زلف ابھی سے اسمبلیوں میں جاکر بیٹھنے کی تیاریاں مکمل کرچکے ہیں ۔ بس اب آخری مرحلہ الیکشن کا عبور کرنا ہے ۔ جو اپنی خاندانی رشتہ داریوں کی وجہ سے وہ مرحلہ عبور کرچکے ہیں اب صرف انہیں نئے نئے صوبوں اور صوبوں میں اعلیٰ اسمبلیوں کے اجرا کا انتظار ہے ۔
یہ ساری باتیں اہم ہیں مگر سب سے اہم ہے نئے صوبے کا نام رکھنا۔ بچہ پیدا ہونے سے پہلے بچے کےماں باپ بچے کےنام پر آپس میں الجھ پڑتے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ نئے متوقع صوبوں کے نام ابھی سے رکھ لئے جائیں مثلاً سندھ کی کوکھ سے جنم لینے والے چھوٹے چھوٹے صوبوں کو آپ جدید سندھ ، ترقی یافتہ سندھ ،گنگا جمنا سندھ کا نام دے سکتے ہیں اس سے پرانے صوبہ سندھ میں بدمزگی نہیں ہوگی حالات آپ کے ہاتھ سے نکل نہیں جائیں گے سندھ کے وجود سے جنم لینے والے چھوٹے چھوٹے صوبوں کو آپ بنت سندھ اور ابن سندھ نام دے سکتے ہیں سندھ کے لوگ بڑے دیندار ہیں وہ سندھ کی کوکھ سے پیدا ہونے والے نئے چھوٹے چھوٹے صوبوں کو نئے ناموں سے قبول کرلیں گے۔ سردست پرانے صوبے پیدا ہونے والے چھوٹے چھوٹے صوبوں کے نئے نام تلاش کرنے میں لگے ہوئے ہیں کئی برسوں تک پاکستان کےایک صوبہ کا نام سرحد تھا۔ یہ نئے صوبوں کے وجود عالم میں آنے سے پہلے کی بات ہے ۔ صوبہ سرحد کےسیانوں نے سوچا کہ ان کے صوبہ کا کوئی نام ہے دس ممالک سے پاکستان کی سرحدیں ملتی ہیں دس بارہ صوبہ سرحد کہلوانے میں نہیں آسکتے ۔ لہذا انہوں نے اپنے صوبہ کا نام رکھا ، پختون خوا،کوئی دنگا فساد کوئی لڑائی جھگڑا نہیں ہوا۔ اب سنا ہے کہ صوبہ پختون خوا کی کوکھ سے بھی دوچار ننھے منے صوبے جنم لیں گے۔نئے صوبوں کے بچوں کےلئے وزیراعلیٰ ،وزرا، مشیر صاحبان چیف جسٹس صاحبان کی تلاش ہے چیف سیکرٹریوں کی بھی تلاش میں لگے ہوئے ہیں کچھ سیاستدان بلکہ ضرورت سے زیادہ سیانے سیاستدان ننھے منے پیدا ہونے والے صوبوں کے لئے چیف سیکرٹریوں کی تلاش میں سرگرداں ہیں ۔ وہ جانتے ہیں کہ صوبوں کا کاروبار ہنرمندی سے صرف چیف سیکریٹری صاحبان چلاسکتے ہیں ۔سی ایس ایس چیف سیکرٹری سیاستدانوں کو گھاس نہیں ڈالتے صوبوں کے چیف سیکرٹریوں کا آپس میں گٹھ جوڑ چلتا رہتا ہے ۔ نام آپ نے چاہے انسان کو دیا ہو یا کسی پرند اور چرند کو دیا ہو ، نام بڑے کام کی چیز ثابت ہوتا ہے اس بات کی تصدیق نجومی بھی کرتے ہیں کسی دبلےپتلے ناٹے سے چھوٹے سے شخص کو آپ شہہ زور خلجی نام دے دیں ۔ وہ دبلا پتلا مریل سا شخص تاریخ میں نئے ابواب کا اضافہ کرکے دم لے گا۔ سیاستدان جانتے ہیں کہ ناموں میں کچھ غیرمعمولی ہوتا ہے ۔ اس لئے وہ لوگ آج کل پیدا ہونے والے ننھے منے صوبوں کے نت نئے نام تلاش کرنے میں سرگرداں ہیں ۔ سنا ہے کہ بڑے دبنگ قسم کے نام صوبوں کےپیدا ہونے والےبچوں کے تجویز کئے جارہے ہیں ایک نئے صوبے کے لئے چنگیز خان آباد نام تجویز کیا جارہا ہے ایک صوبہ کا نام ہلاکو خان آباد رکھنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں سنا ہے کہ ایک نئے چھوٹے موٹے ناٹے صوبے میں پڑھے لکھے لوگوں کی تعداد کچھ ضرورت سے زیادہ ہےانہوں نے اپنے چھوٹے سے صوبے کیلئے ہٹلری صوبہ نام تجویز کیا ہے ایک جری صوبے کے لوگوں نے اپنے نئے چھوٹے سے صوبے کا نام ایٹم بم آباد رکھا ہے ۔
