کیا امریکہ کی اقتصادی پابندیاں ایران کو جھکا پائیں گی؟

Spread the love

امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران پر مسلط کی جانے والی جنگ اور مزاکرات کے کئی ادوار سے مطلوبہ مقاصد حاصل نہ ہونے کے بعد ٹرمپ نے ایران پر ‘اکنامک ڈی ڈے’ عائد کرنے کا اعلان کیا تھا. ڈی ڈے کی اصطلاح دوسری جنگ عظیم میں اتحادی کی طرف سے جرمن افواج پر شدید ترین حملوں کیلئے استعمال کی گئی تھی۔اسی اعلان کے بعد گزشتہ دنوں امریکا نے ایران سے منسلک کمپنیوں اور شخصیات پر نئی پابندیاں عائد کر دیں ہیں۔ ڈیجیٹل اثاثے، ٹیکنالوجی، سونا، ہوا بازی اور بحری شعبوں کو ثانوی پابندیوں کا ہدف بنایا جائے گا.امریکی وزیر خزانہ نے ایران سے منسلک کمپنیوں اور شخصیات پر نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایران سے منسلک 60 اداروں، افراد اور جہازوں پر پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ امریکی وزیر خزانہ نے کہا کہ ان کمپنیوں اور شخصیات کا تعلق جوہری، میزائل، سائبر اور تیل کے نیٹ ورکس سے ہے جبکہ ایران کو بعض ترسیلاتِ زر کی اجازت دینے والے عمومی لائسنس معطل کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امارات، ہانگ کانگ، چین، سنگاپور، سوئٹزرلینڈ اور یورپ میں بروکر کمپنیاں پابندیوں کی زد میں آئیں ہیں اور روسی خفیہ بحری بیڑے کے جہازوں کے نیٹ ورک پر بھی پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔
ان پابندیوں میں ڈیجیٹل اثاثے ٹیکنالوجی، سونا، ہوا بازی اور بحری شعبوں کو ثانوی پابندیوں کا ہدف بنایا جائے گا جبکہ ٹرمپ نے عالمی رہنماؤں سے ایران کے ساتھ معاشی تعلقات ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر ملک کو ہماری نشاندہی کردہ سرگرمیاں بند کرنے کیلئے واضح ڈیڈ لائن دی گئی۔اگر وہ کارروائی نہیں کرتے تو ہم یک طرفہ طور پر کارروائی کریں گے۔ایران سے تعاون کرنے والے ممالک ہمارے مخالف ملک تصور کئے جائیں گے۔ چین نے ان پابندیوں کو غیر ضروری اقدام قرار دیتے ہوئے تنازعے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
دوسری طرف اسی دوران غیر ملکی خبررساں ایجنسی رائٹرز نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ٹیلی فون پر گفتگو کی تھی۔ رائٹرز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے بنیادی طور پر یہ درخواست کی گئی تھی کہ پاکستان اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لائے۔ خبررساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ معتبر پاکستانی ذرائع کے مطابق گزشتہ ہفتے ہونے والا یہ رابطہ صدر ٹرمپ کی جانب سے کیا گیا تھا۔ رائٹرز کے مطابق وائٹ ہاؤس کے پریس سیکرٹری کے دفتر نے اس خبر پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا گیا اور فی الحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور صدر ٹرمپ کے درمیان کن امور پر بات چیت ہوئی۔ یاد رہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر سوموار کو دورہ ایران پر تہران پہنچے تھے جہاں تہران میں ان کی ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی اور وزیر خارجہ سے ملاقات بھی ہوئی۔

ملاقات میں وزیر داخلہ محسن نقوی بھی موجود تھے۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر علاقائی امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کی کوششوں کے سلسلے میں ایران گئے تھے۔اس دورے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ دیگر چینلز کے ساتھ ایران سے مذاکرات کے چینل کوبھی متحرک رکھنا چاہتا ہے اور دیکھا جائے تو یہ ایک مثبت سفارتی حکمت عملی ہے۔ جہاں تک امریکی اقتصادی پابندیوں کا تعلق ہے تو اس میں یہ دیکھنا اہم ہے کہ ٹرمپ کا ’اقتصادی ڈی ڈے‘ کیا ہے اور کیا برسوں سے پابندیاں جھیلنے والا ایران ان کے سامنے جھک جائے گا؟

جنگ شروع ہونے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے خلاف جنگ میں فوری فتح ملے گی۔ اس دعوے کو چھ ماہ گزر چکے ہیں اور تنازع تاحال تعطل کا شکار ہے جبکہ فوجی کامیابی یا مذاکرات کے ذریعے تصفیے کے امکانات بھی مزید کم ہوتے جا رہے ہیں۔

اس تعطل کو توڑنے کے لیے ٹرمپ نے ایک ’اقتصادی ڈی ڈے‘ کا اعلان کیا جس کے تحت ایران پر نئی اقتصادی پابندیاں لگا کر اسے معاہدے پر مجبور کیا جائے گا اور اس کے ساتھ کاروبار کرنے والے کسی ملک کو بھی سخت معاشی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تاہم ہم نے دیکھا ہے کہ ایران طویل عرصے سے پابندیوں کا سامنا کرتا آ رہا ہے اور اب تک اس نے مشکلات برداشت کرنے اور تنازع طول پکڑنے کے ساتھ ساتھ شدید اقتصادی اور فوجی دباؤ کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ لہٰذا امریکہ کے لیے بنیادی سوال یہ بنتا ہے کہ جہاں دیگر حکمت عملیاں ناکام رہی ہیں کیا مزید اقتصادی پابندیاں وہاں کامیاب ہو سکتی ہیں؟ امریکی اقتصادی دباؤ کا طریقہ کار کیا ہو گا اس کا مستقبل میں عملدرآمد سے معلوم ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے