کینسر کا کاروبار

Spread the love

کینسر۔۔۔۔ایک موذی مرض ہی نہیں اور بھی بہت کچھ ہے۔۔۔تکلیف۔۔۔شدید ہوتی تکلیف۔۔۔بڑھتا درد۔۔۔رفتہ رفتہ بڑھتی اذیت۔۔۔موت کے بڑھتے قدموں کی دھمک۔۔۔مایوسی کے اندھیرے۔۔۔پھر کسی نئے ڈاکٹر یا حکیم کے دعوؤوں سے بجھ کر روشن ہوتی امید کی لو۔۔۔اس امید سے بندھا فیسوں اور دواؤں کا نیا سلسلہ۔۔۔اور پھر۔۔۔۔۔ ایک ایسی قیامت جسے متاثرہ شخص ہی نہیں اس کے سب پیارے اور پورا گھر جھیلتا ہے۔ لیکن یہ درد اور تکلیف دواسازوں سے ڈاکٹروں تک کتنوں کے لیے دولت کی راحت لے کر آتی ہے۔ سرطان کی دوا کا ہر ہر نسخہ وہ ’’چیک‘‘ ہے جو جانے کہاں کہاں کیش ہوتا ہے۔ جب یہ درد کسی کم آمدنی والے کے گھر میں نازل ہوجائے تو مریض کی تکلیف کے ساتھ مہنگے علاج کا فکر بلا کی صورت ساتھ اترتی ہے۔

کینسر کے جان لیوا مرض سے جُڑا مسئلہ اس کا مہنگا علاج ہے، جو دنیا بھر میں نچلے متوسط اور مفلس طبقے کے گھر، زمینیں اور زیورات بکوادیتا ہے، انھیں قرض کے بھنور میں دھکیل دیتا ہے اور ان کی کتنی ہی ضرورت، خواہشات، خوابوں کو نگل جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کینسر سمیت جان لیوا امراض کی ادویات کے بھاری دام واقعی جائز ہیں؟

کینسر کی ادویات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کا عالمی رجحان کافی عرصے سے جاری ہے۔ امریکی ’’نیشنل بیورو آف اکنامک ریسرچ‘‘ کے 2015 کے ایک مطالعے کے مطابق، 1995 اور 2013 کے درمیان کینسر کی ادویات کی قیمتوں میں ہر سال 10 فی صد اضافہ ہوا، اور گزرتے برسوں کے ساتھ سرطان کا علاج عام آدمی کی سکت سے باہر ہوچکا ہے۔ ادویہ کے مہنگا ہونے کے عمل میں ان کی اصل ذمے دار فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے ساتھ مختلف ممالک کے سرکاری اور نیم سرکاری ادارے بھی شریک ہیں۔ برطانیہ کے ’’ڈیپارٹمینٹ آف ہیلتھ اینڈ سوشل کیئر‘‘ سے ملحق ادویہ سے متعلق ادارے ’’نائس‘‘ (NICE ، نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ہیلتھ اینڈ کیئر ایکسی لینس) کو مریضوں کی تنظیموں کی طرف سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، کیوںکہ اس نے کینسر کی متعدد ادویات کو استعمال کرنے سے صرف اس لیے روک دیا کیوںکہ وہ لاگت کے لحاظ سے فائدہ مند (cost effective) نہیں سمجھی گئیں۔ درحقیقت دنیا بھر کے ہیلتھ کیئر سسٹمز، بشمول کینسر کی ادویات کا خرچ اٹھانے کے تصور سے بھی ہانپ جاتے ہیں۔ اس بات کے کوئی آثار نظر نہیں آتے کہ ان بھاری قیمتوں کا یہ رجحان جلد ختم ہوجائے گا یا ان قیمتوں کو آسانی سے لگام دی جاسکے گی۔ دواؤں کی بڑھتی قیمتوں کی بابت کنگز کالج لندن کے انسٹی ٹیوٹ آف کینسر پالیسی کے ڈائریکٹر پروفیسر رچرڈ سلیوان کہتے ہیں، ’’قیمتیں آپے سے باہر ہوچکی ہیں۔ ادویات کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے اس کی لاگت کی بنیاد بہت لچک دار (Elastic) ہے، قیمتیں بس اوپر ہی جا رہی ہیں۔ یہ دوا کی اصل قدر یا افادیت کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ دیکھا جا رہا ہے کہ مارکیٹ کتنا بوجھ برداشت کرسکتی ہے۔‘‘ گویا معاملہ زیادہ سے زیادہ منافع کی سرمایہ دارانہ سوچ کا ہے۔ امریکن انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ریسرچ کے مطابق، کینسر پر دنیا کی کسی بھی دوسری بیماری کے مقابلے میں سب سے زیادہ پیسہ خرچ ہوتا ہے، جو کہ سالانہ تقریباً 895 ارب ڈالر ہے۔ واضح رہے کہ یہ تخمینہ 2016 میں شایع ہوا تھا۔ ادویات کے ساتھ اس میں تشخیص، ریڈیو تھراپی، امیجنگ، پیتھالوجی، سرجری اور زندگی کے آخری ایام کی دیکھ بھال کے اخراجات بھی شامل ہیں۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ رچرڈ سلیوان کہتے ہیں کہ مریضوں کی حالت بہتر بنانے میں ادویات کا حصہ صرف 4 سے 5 فی صد ہے، جب کہ زیادہ تر کنٹرول اور علاج سرجری اور ریڈیو تھراپی کے ذریعے ہوتا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کی 2018 میں شایع شدہ رپورٹ میں جس کا عنوان ’’ادویات، ویکسینز اور طبی مصنوعات؛ کینسر کی ادویات‘‘ تھا، میں واضح کیا گیا ہے کہ کینسر کی ادویات کی قیمتیں دیگر تمام بڑی بیماریوں کے علاج میں استعمال ہونے والی ادویات سے کہیں زیادہ ہیں، اور ان کی قیمتوں میں اضافے کی رفتار بھی سب سے تیز ہے۔ اس رپورٹ کے خلاصے سے معلوم ہوتا ہے کہ مناسب انشورنس کوریج نہ ہونے کے باعث دنیا بھر میں کینسر کا شکار لاکھوں مریض اس مہنگے علاج کا خرچ اٹھانے سے بالکل قاصر ہیں۔ مثال کے طور پر، چھاتی کے کینسر کی ایک ابتدائی اور مخصوص قسم (HER2) کے علاج کا پورا کورس خریدنے کے لیے بھارت اور جنوبی افریقہ جیسے ممالک میں ایک عام شہری کو اپنی اوسطاً 10 سال کی پوری کمائی داؤ پر لگانی پڑتی ہے، جب کہ امریکا جیسے امیر ملک میں بھی یہ لاگت انسان کی پونے دو سال (1.7 سال) کی اوسط آمدنی کے برابر ہے۔ زندگی بچانے والے ان اہم علاجوں تک رسائی نہ ہونے کا ہول ناک نتیجہ دنیا کے مختلف حصوں میں کینسر سے شفایابی کی شرح میں واضح فرق کی صورت میں نظر آتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، جہاں امیر اور اعلیٰ آمدنی والے ممالک میں کینسر کا شکار ہونے والے 80 فی صد سے زائد بچے اس مرض سے مکمل طور پر صحت یاب ہوجاتے ہیں، وہیں غریب اور متوسط آمدنی والے بعض ممالک میں کینسر سے بچوں کے بچنے کی یہ شرح مایوس کن حد تک کم یعنی صرف 10 فی صد ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی تحقیق میں، جس کا نتیجہ اس رپورٹ کی صورت میں سامنے آیا، ابتدائی ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ (R&D) سے لے کر دوا کی تیاری، مارکیٹنگ اور پیٹنٹ کی مدت ختم ہونے کے بعد سستی جینرک ادویات کے مارکیٹ میں آنے تک کے پورے تجارتی سلسلے کا تفصیلی موازنہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کا حتمی نتیجہ چونکا دینے والا ہے،’’مجموعی تجزیہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ادویات پر آنے والے ریسرچ، ڈیولپمنٹ اور پروڈکشن (تیاری) کے اخراجات کا اس بات سے کوئی تعلق نہیں ہوتا کہ دوا ساز کمپنیاں کینسر کی ادویات کی قیمتیں کیا طے کرتی ہیں۔‘‘ رپورٹ کے مطابق، ’’دوا ساز کمپنیاں قیمتوں کا تعین صرف اپنے تجارتی مفادات اور کاروباری اہداف کو سامنے رکھ کر کرتی ہیں، اور ان کا پورا زور اس بات پر ہوتا ہے کہ خریدار (یا حکومت) سے کسی دوا کی زیادہ سے زیادہ کتنی قیمت وصول کی جاسکتی ہے۔ قیمتوں کا یہی بے لگام طریقہ کار کینسر کی ادویات کو عام انسان کی پہنچ سے باہر کر دیتا ہے، جس کی وجہ سے ان ادویات کے اصل طبی فوائد سے محروم رہا جاتا ہے۔‘‘ اس تحقیق میں یہ بھی پایا گیا کہ جیسے ہی کسی دوا کے پیٹنٹ (حقوقِ ملکیت) کی مدت ختم ہونے کے دن قریب آتے ہیں، تو کمپنیاں مارکیٹ میں سستی جینرک ادویات کا راستہ روکنے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کرتی ہیں۔ ان میں سے ایک طریقہ ’’پروڈکٹ ہاپنگ‘‘ ( hopping Product) ہے، جس میں دوا کے بنیادی فارمولے میں معمولی اور برائے نام تبدیلی کرکے اسے ایک نئی پروڈکٹ کے طور پر پیش کردیا جاتا ہے، حالاںکہ اس کا کوئی اضافی طبی فائدہ نہیں ہوتا، لیکن اس کا واحد مقصد مارکیٹ پر اپنی اجارہ داری کو برقرار رکھنا ہوتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے