ایک گھنٹہ ورزش رعشہ کی بیماری کو 5 سال تک سست کر سکتی ہے، تحقیق میں انکشاف

Spread the love

ایک تحقیق کے مطابق روزانہ صرف ایک گھنٹہ ورزش کرنے سے پارکنسنز (رعشہ) کی بیماری کی زندگی کو متاثر کرنے والی علامات کی شدت میں اضافے کی رفتار سست کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ 

سائنسدانوں کے مطابق ٹینس کھیلنا، جاگنگ کرنا اور یہاں تک کہ باغبانی جیسی سرگرمیاں بھی اس بیماری کی بڑھتی ہوئی شدت کو 5 سال تک مؤخر کر سکتی ہیں۔

دنیا بھر میں لاکھوں افراد اعصابی تنزلی کی اس بیماری کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ اس مرض میں دماغ کے اندر موجود اعصابی خلیے ڈوپامین نامی کیمیائی مادہ بنانا بند کر دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں جسم میں کپکپی اور اکڑاؤ جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ 

وقت گزرنے کے ساتھ مریض حرکت کرنے، بولنے اور نگلنے کی صلاحیت سے محروم ہو سکتے ہیں، جبکہ ان کی ذہنی و علمی صلاحیتوں میں بھی کمی آنے کا خدشہ ہوتا ہے۔

امریکا کی یونیورسٹی آف سنسناٹی کے محققین نے پارکنسنز (رعشہ کی بیماری) کے 294 مریضوں کا سات سال تک جائزہ لیا۔ ان مریضوں کی اوسط عمر 66 سال تھی۔ محققین نے اس دوران ان کی جسمانی حرکت اور ذہنی و علمی صلاحیتوں میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے