وفاقی وزیر ریچی والڈیز کی خصوصی شرکت، کینیڈا اور امریکا سے 60 سے زائد شرکاء اور نمائش کنندگان کی شرکت؛ کاروباری ترقی، جدت، نیٹ ورکنگ اور ذائقوں سے بھرپور فوڈ ایکسپو توجہ کا مرکز
رپورٹ: محبوب علی شیخ
مارکھم، اونٹاریو: کینیڈا میں داؤدی بوہرہ کاروباری برادری کے لیے ایک اہم اور تاریخی پیش رفت کے طور پر سیفی کانفرنس اینڈ بزنس ایکسپو کا انعقاد کیا گیا، جس میں کینیڈا اور امریکا بھر سے کاروباری شخصیات، صنعت سے وابستہ رہنماؤں، پیشہ ور افراد اور کمیونٹی اراکین نے شرکت کی۔ اس تقریب نے کاروبار، جدت، باہمی تعاون اور نئے مواقع کی تلاش کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کیا۔
مارکھم میں واقع کورٹیارڈ بائی میریٹ، ووڈبائن میں منعقد ہونے والی اس کانفرنس کی مہمانِ خصوصی کینیڈا کی وفاقی وزیر برائے خواتین و صنفی مساوات اور سیکریٹری آف اسٹیٹ برائے سمال بزنس اینڈ ٹورازم، محترمہ ریچی والڈیز تھیں۔
کانفرنس میں 60 سے زائد شرکاء اور نمائش کنندگان کی شرکت نے اس اجتماع کو ایک اہم کاروباری پلیٹ فارم بنا دیا، جہاں کاروباری افراد کو اپنے اداروں اور مصنوعات کو متعارف کرانے، تجربات کا تبادلہ کرنے، نئی منڈیوں تک رسائی کے امکانات تلاش کرنے اور مستقبل میں کاروباری شراکت داریوں کے لیے روابط قائم کرنے کا موقع ملا۔
وفاقی حکومت کی نمائندگی، ماہرین کے پینل مباحثوں، کاروباری نمائش اور رنگا رنگ فوڈ ایکسپو پر مشتمل اس تقریب نے کاروباری ترقی، کمیونٹی کے باہمی تعاون اور معاشی مواقع کو نمایاں کیا۔
اس اجتماع کا بنیادی پیغام واضح تھا: جب کاروباری افراد اپنے علم اور تجربات کا تبادلہ کرتے، ایک دوسرے کے ساتھ روابط مضبوط بناتے اور باہمی تعاون کو فروغ دیتے ہیں تو ترقی اور کامیابی کے نئے راستے کھلتے ہیں۔
داؤدی بوہرہ کاروباری برادری کے لیے ایک اہم سنگِ میل
سیفی کانفرنس اینڈ بزنس ایکسپو خصوصی طور پر داؤدی بوہرہ کمیونٹی کے لیے منعقد کی گئی، جس میں مختلف کاروباری شعبوں اور پیشہ ورانہ پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد ایک چھت تلے جمع ہوئے۔
کینیڈا اور امریکا سے کاروباری افراد اور نمائش کنندگان کی شرکت نے اس تقریب کو بین الاقوامی نوعیت دی۔ شرکاء کو اپنی مصنوعات اور خدمات متعارف کرانے، ممکنہ گاہکوں سے روابط قائم کرنے اور پیشہ ورانہ تعاون کے نئے امکانات تلاش کرنے کا موقع ملا۔
پہلے سے قائم کاروباروں کے مالکان، نئے کاروبار شروع کرنے کے خواہش مند افراد اور کاروباری دنیا میں قدم رکھنے کی تیاری کرنے والوں کے لیے یہ کانفرنس سیکھنے، خیالات کے تبادلے اور کامیاب کاروبار چلانے کے تقاضوں کو سمجھنے کا ایک اہم موقع ثابت ہوئی۔
تقریب میں صرف کاروباری معاملات ہی نہیں بلکہ رہنمائی، تجربات کے تبادلے، باہمی تعاون اور کمیونٹی کی حمایت کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا، تاکہ کاروباری افراد اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ سکیں۔
وفاقی وزیر ریچی والڈیز کی شرکت، چھوٹے کاروباروں کی اہمیت پر زور
محترمہ ریچی والڈیز کی بطور مہمانِ خصوصی شرکت نے کانفرنس کو وفاقی حکومت کی کاروباری پالیسیوں اور چھوٹے کاروباروں کے لیے دستیاب مواقع کے حوالے سے ایک اہم پہلو فراہم کیا۔
وزیر ریچی والڈیز نے کینیڈا کی معیشت میں چھوٹے کاروباروں کی بنیادی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ کاروبار جدت کو فروغ دینے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور ملک بھر میں کمیونٹیز کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ان کی گفتگو کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ چھوٹے کاروبار کینیڈا کی معاشی ترقی کی بنیاد ہیں، اور کاروباری افراد کو کامیابی کے مناسب مواقع فراہم کرنا ایک مضبوط معیشت کی تعمیر کے لیے ضروری ہے۔
وفاقی حکومت چھوٹے کاروباروں کے لیے سرکاری خریداری کے مواقع تک رسائی بہتر بنانے کے اقدامات کر رہی ہے، تاکہ زیادہ سے زیادہ کینیڈین کمپنیاں سرکاری معاہدوں کے حصول کے لیے مقابلہ کر سکیں اور اپنے کاروبار کو وسعت دے سکیں۔
اسی سلسلے میں وفاقی حکومت نے انوویشن، سائنس اینڈ اکنامک ڈیولپمنٹ کینیڈا کے پروگرام انوویٹو سلوشنز کینیڈا کے ذریعے پانچ سال کے دوران 79.9 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ اس پروگرام کا مقصد کینیڈین چھوٹے کاروباروں کو جدید مصنوعات اور ٹیکنالوجیز تیار کرنے، ان کی آزمائش کرنے اور عملی طور پر ان کی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے، جس میں وفاقی حکومت کی خریداری کے مواقع بھی شامل ہیں۔
ان اقدامات کا مقصد کینیڈین کاروباروں کی مسابقتی صلاحیت بہتر بنانا، ان کی رسائی وسیع کرنا، جدید حل تیار کرنے کی حوصلہ افزائی کرنا اور معیاری روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔
وزیر ریچی والڈیز کی شرکت نے کمیونٹی کے کاروباری افراد کو چھوٹے کاروباروں کی ترقی، جدت اور معاشی مواقع تک رسائی سے متعلق وسیع تر قومی مباحثے سے جوڑنے کا موقع بھی فراہم کیا۔
داؤدی بوہرہ کمیونٹی کی نمایاں شخصیات اور کاروباری رہنماؤں کی شرکت
کانفرنس میں مسی ساگا، مارکھم، رچمنڈ ہل اور دیگر قریبی علاقوں سے تعلق رکھنے والی داؤدی بوہرہ کمیونٹی کی اہم شخصیات، کاروباری افراد اور پیشہ ور افراد نے شرکت کی۔
شرکاء میں شیخ حاتم لشکر والا، مصطفیٰ پشاور والا، شبیر گیتھم اور منصور کانچ والا سمیت کمیونٹی کی دیگر شخصیات بھی موجود تھیں۔
ان کی شرکت نے اس بات کو نمایاں کیا کہ کاروباری سوچ رکھنے والے افراد کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا، پیشہ ورانہ روابط کو فروغ دینا اور نئی نسل کے لیے مواقع پیدا کرنا کس قدر اہم ہے۔
یہ اجتماع مختلف تجربات، خیالات اور عزائم رکھنے والے افراد کے درمیان رابطے کا ذریعہ بنا، جس سے کاروباری تعلقات استوار کرنے اور مستقبل میں ترقی کے امکانات پیدا کرنے کی اہمیت مزید اجاگر ہوئی۔
ماہرین کے پینل مباحثے، کاروباری دنیا کے چیلنجز اور کامیابی کے راستوں پر گفتگو
کانفرنس کی اہم خصوصیات میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے تجربہ کار اور معروف ماہرین کے پینل مباحثے اور کلیدی خطابات شامل تھے۔
پہلے سیشن میں کاروباری دنیا میں قدم رکھنے، عام مشکلات پر قابو پانے، مؤثر حکمتِ عملی وضع کرنے اور پائیدار ترقی کے مواقع تلاش کرنے جیسے اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی۔
نئے کاروباری افراد کے لیے کسی خیال کو عملی کاروبار میں تبدیل کرنا اکثر ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ اس سیشن نے انہیں تجربہ کار پیشہ ور افراد سے سیکھنے اور کاروباری سفر میں پیش آنے والی مشکلات کو سمجھنے کا موقع فراہم کیا۔
دوسری جانب، پہلے سے کاروبار کرنے والے افراد کو بھی بدلتے ہوئے حالات میں مسابقت برقرار رکھنے، مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق خود کو ڈھالنے اور کاروبار کی توسیع کے نئے راستے تلاش کرنے کے حوالے سے اہم نکات جاننے کا موقع ملا۔
پروگرام کے دوسرے حصے میں پینل مباحثوں اور کلیدی خطابات کا سلسلہ جاری رہا، جس میں اپنے اپنے شعبوں میں نمایاں مقام رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔
ان سیشنز نے عملی معلومات، پیشہ ورانہ تربیت، تجربات کے تبادلے اور مسلسل سیکھنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
بزنس ایکسپو میں کاروباری صلاحیتوں اور مصنوعات کی بھرپور نمائش
تقریباً صبح 11 بجے بزنس ایکسپو کا آغاز ہوا، جس کے ذریعے کانفرنس کے کاروباری وژن کو عملی شکل دی گئی۔
مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے نمائش کنندگان نے اپنے کاروبار، مصنوعات اور خدمات متعارف کرائیں، جس سے انہیں نئے لوگوں تک رسائی حاصل کرنے اور اہم کاروباری روابط قائم کرنے کے مواقع ملے۔
اس نمائش نے کاروباری اداروں کو اپنی شناخت مضبوط بنانے، اپنی مصنوعات اور خدمات دوسرے کاروباری افراد اور ممکنہ گاہکوں کے سامنے پیش کرنے اور مستقبل میں شراکت داری کے امکانات تلاش کرنے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کیا۔
چھوٹے کاروباروں کی ترقی میں تشہیر، کاروباری روابط اور نئی منڈیوں تک رسائی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ ایسی تقریبات کاروباری افراد کے درمیان ایسے رابطوں کو فروغ دیتی ہیں جو مستقبل میں نئے گاہکوں، کاروباری حوالوں اور مشترکہ منصوبوں کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
کینیڈا اور امریکا سے نمائش کنندگان کی شرکت نے یہ بھی ظاہر کیا کہ کمیونٹی کے مضبوط کاروباری نیٹ ورکس مختلف علاقوں اور ممالک میں موجود کاروباری افراد کو ایک دوسرے سے جوڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
فوڈ ایکسپو: ذائقوں، ثقافت اور کاروباری مواقع کا حسین امتزاج
بزنس ایکسپو کے ساتھ فوڈ ایکسپو نے بھی تقریب کو ایک دلچسپ اور خوشگوار رنگ دیا، جہاں داؤدی بوہرہ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد نے مختلف کھانوں اور پکوانوں کو پیش کیا۔
شرکاء کو مختلف ذائقوں سے لطف اندوز ہونے اور فوڈ انڈسٹری سے وابستہ کاروباری افراد کی صلاحیتوں اور تخلیقی انداز کو دیکھنے کا موقع ملا۔
فوڈ ایکسپو نے کھانوں، ثقافت اور کاروبار کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع کیا اور یہ واضح کیا کہ غذائی کاروبار اپنی منفرد مصنوعات کے ذریعے گاہکوں تک رسائی حاصل کرنے، مارکیٹ میں اپنی شناخت بنانے اور کاروباری ترقی کے نئے امکانات پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
فوڈ بزنس سے وابستہ افراد کے لیے بھی یہ ایک بہترین موقع تھا کہ وہ اپنی مصنوعات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں کے سامنے پیش کریں اور کاروباری ترقی میں دلچسپی رکھنے والے دوسرے افراد سے رابطے قائم کریں۔
بزنس ایکسپو اور فوڈ ایکسپو کے امتزاج نے اس تقریب کو محض ایک روایتی کاروباری اجتماع تک محدود نہیں رہنے دیا بلکہ اسے کاروباری مواقع، سماجی میل جول اور ذائقوں کی دنیا سے روشناس ہونے کا ایک منفرد تجربہ بنا دیا۔
ایک کانفرنس سے آگے، مستقبل کی کاروباری ترقی کا وژن
سیفی کانفرنس اینڈ بزنس ایکسپو کی اہمیت صرف ایک دن کی سرگرمیوں تک محدود نہیں رہی۔
وفاقی حکومت کی نمائندگی، ماہرین کے مباحثوں، کلیدی خطابات، کاروباری نمائشوں اور فوڈ ایکسپو نے مل کر ایسا ماحول پیدا کیا جہاں کاروباری ترقی اور کمیونٹی کے باہمی تعاون کو ایک دوسرے سے جوڑنے کا موقع ملا۔
اس تقریب نے واضح کیا کہ کاروباری افراد کو تجربہ کار ماہرین سے سیکھنے، اپنی کامیابیوں کو دوسروں کے سامنے پیش کرنے اور مستقبل میں ترقی کے لیے مفید روابط قائم کرنے کے مواقع فراہم کرنا کتنا ضروری ہے۔
نئے کاروباری افراد کے لیے ایسے پلیٹ فارم حوصلہ افزائی اور عملی رہنمائی کا ذریعہ بن سکتے ہیں، جبکہ قائم شدہ کاروباروں کے لیے یہ نئے خیالات، نئے رابطوں اور ممکنہ شراکت داریوں کے دروازے کھول سکتے ہیں۔
وسیع تر کمیونٹی کے لیے یہ اجتماع مقامی کاروباروں کی حمایت اور مختلف نسلوں کے درمیان علم و تجربے کے تبادلے کی اہمیت کا پیغام بھی تھا۔
داؤدی بوہرہ کاروباری برادری کے لیے قابلِ فخر موقع
مارکھم میں منعقد ہونے والی سیفی کانفرنس اینڈ بزنس ایکسپو داؤدی بوہرہ کاروباری شخصیات اور پیشہ ور افراد کا ایک اہم اجتماع تھا، جہاں کاروبار، جدت اور ترقی کے مشترکہ جذبے نے شرکاء کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا۔
کینیڈا اور امریکا سے 60 سے زائد شرکاء اور نمائش کنندگان کی موجودگی نے کمیونٹی کی کاروباری سرگرمیوں، باہمی تعاون اور ایسے پلیٹ فارمز کی اہمیت کو اجاگر کیا جہاں کاروباری افراد ایک دوسرے سے رابطہ قائم کر سکیں، نئی معلومات حاصل کریں اور آگے بڑھنے کے مواقع تلاش کریں۔
وفاقی وزیر ریچی والڈیز، کمیونٹی رہنماؤں، تجربہ کار مقررین اور کاروباری افراد کی شرکت نے چھوٹے کاروباروں کی ترقی اور پیشہ ورانہ تعاون پر مرکوز اس تقریب کو مزید اہمیت دی۔
کانفرنس کا مرکزی پیغام نہایت واضح اور بروقت تھا: کاروبار اس وقت زیادہ مضبوط ہوتے ہیں جب علم کا تبادلہ کیا جائے، تعلقات استوار کیے جائیں اور ترقی کے مواقع زیادہ سے زیادہ افراد تک پہنچائے جائیں۔
کینیڈا کی معیشت میں چھوٹے کاروبار جدت، روزگار اور مقامی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایسے اجتماعات کاروباری افراد، کمیونٹیز اور وسیع تر کاروباری نظام کے درمیان بامعنی روابط پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
سیفی کانفرنس اینڈ بزنس ایکسپو کا یہ اجتماع کاروباری عزم، محنت، تعاون اور ترقی کے جذبے کا مظہر بنا، جس نے مستقبل کے کاروباری افراد کی حوصلہ افزائی اور مضبوط کاروباری نیٹ ورکس کی تشکیل کے امکانات کو نمایاں کیا۔
