عالمی سیاست کے لیے تاریخی موڑ امریکہ اور ایران امن معاہدے کے امکانات

Spread the love

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی 14 جون کو منعقد کی گئی سالگرہ تقریب میں دنیا کی معیشت کو ایکبار پھر سنبھلنے کا تحفہ امن معاہدے سے تشہبیر کیا جارہا ہے 

مشرقِ وسطیٰ میں نئی صبح کی نوید سنائی دے رہی ہے جسکے عالمی سطح پر مثبت اثرات نمودار ہونگے 

کینیڈا | رپورٹ: محبوب علی شیخ

تین ماہ سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی شدید کشیدگی اور جنگی ماحول کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان ایک اہم امن معاہدے پر اتفاق کی خبر سامنے آئی ہے۔ اس معاہدے کے نتیجے میں نہ صرف جنگ کے خاتمے کی امید پیدا ہوئی ہے بلکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا اعلان بھی عالمی معیشت کے لیے ایک بڑی خوشخبری قرار دیا جا رہا ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس راستے کی بندش نے عالمی منڈیوں کو شدید متاثر کیا تھا۔

امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک اہم امن معاہدے کی خبر سامنے آئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ پاکستان کو اس سفارتی پیش رفت کا اہم ثالث قرار دیا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس معاہدے سے عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں اور مشرقِ وسطیٰ کے استحکام پر مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، تاہم ایران کے جوہری پروگرام اور خطے کی سکیورٹی صورتحال اب بھی مستقبل کے مذاکرات کا اہم موضوع رہیں گے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ایرانی بندرگاہوں کے گرد امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھل جاتی ہے تو تیل کی قیمتوں میں استحکام، شپنگ لاگت میں کمی اور عالمی مہنگائی کے دباؤ میں کمی متوقع ہے۔

‏بین الاقوامی ذرائع کے مطابق اس معاہدے میں پاکستان نے ایک اہم ثالثی کردار ادا کیا۔ پاکستانی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں دونوں فریقوں کے درمیان رابطے بحال ہوئے اور مذاکرات حتمی مرحلے تک پہنچے۔

پاکستان کے مطابق تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں فوری اور مستقل طور پر ختم کرنے پر اتفاق ہوا ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ یہ پیش رفت پاکستان کے لیے سفارتی سطح پر ایک بڑی کامیابی کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔

ایران طویل عرصے سے اس بات پر زور دیتا رہا کہ جنگ بندی صرف ایران تک محدود نہ ہو بلکہ لبنان میں جاری تنازع بھی اس میں شامل کیا جائے۔

رپورٹس کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بیروت کے جنوبی مضافات میں کارروائیوں کے باوجود مذاکرات جاری رہے اور بالآخر معاہدے میں لبنان کو بھی شامل کیا گیا۔ اگرچہ جنگ بندی اور امن معاہدے کی خبر سامنے آ چکی ہے، لیکن اصل تنازع یعنی ایران کا جوہری پروگرام ابھی بھی حل طلب ہے۔

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے مطابق ایران کے پاس 60 فیصد تک افزودہ یورینیم کا بڑا ذخیرہ موجود ہے، جو تکنیکی اعتبار سے ہتھیاروں کے درجے کی افزودگی سے زیادہ دور نہیں۔ یہی مسئلہ آئندہ مذاکرات کا سب سے اہم اور حساس موضوع تصور کیا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکہ ایران پر عائد بعض معاشی پابندیوں میں نرمی پر بھی آمادہ ہو سکتا ہے تاکہ ایران اپنی تیل برآمدات میں اضافہ کر سکے۔

ایرانی معیشت گزشتہ کئی برسوں سے پابندیوں، مہنگائی اور مالی دباؤ کا شکار رہی ہے۔ اس لیے یہ معاہدہ ایرانی عوام کے لیے بھی معاشی ریلیف کی ایک امید بن کر سامنے آیا ہے۔

دوسری جانب اسرائیل اور امریکہ کے بعض سیاسی حلقوں نے اس معاہدے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر ایران کا میزائل پروگرام، خطے میں اس کے اتحادی گروہ اور جوہری سرگرمیاں برقرار رہتی ہیں تو یہ معاہدہ صرف عارضی سکون فراہم کرے گا، مستقل امن نہیں۔

مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ میں جنگ اور امن کے درمیان فاصلہ اکثر بہت مختصر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے مبصرین اس معاہدے کو محتاط امید کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔

اگر یہ معاہدہ کامیاب رہتا ہے تو نہ صرف خطے میں استحکام آسکتا ہے بلکہ عالمی توانائی منڈی، تجارت، سرمایہ کاری اور سفارتی تعلقات پر بھی اس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے