ٹورنٹو میں Surveillance Pricing کے خلاف کارروائی

Spread the love

 اب ہر کلک پر نظر نہیں! ٹورنٹو نے آن لائن قیمتوں کے خفیہ کھیل کے خلاف تاریخی اعلان کر دیا

  • 📱 صارفین کی جیبوں پر خاموش حملے روکنے کے لیے بڑا قدم۔
  • ⚖️ میئر اولیویا چاؤ نے ڈیجیٹل مارکیٹ میں شفافیت کی نئی مہم شروع کر دی۔
  • 💰 کیا اب آن لائن گروسری خریداری واقعی منصفانہ ہوگی

رپورٹ : محبوب علی شیخ 

کینیڈا کے سب سے بڑے شہر ٹورنٹو میں آن لائن گروسری کی خریداری سے متعلق ایک اہم عوامی مفاد کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ٹورنٹو کی میئر اولیویا چاؤ نے ایک ایسی تجویز پیش کرنے کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد “Surveillance Pricing” یعنی صارفین کے ذاتی ڈیٹا کی بنیاد پر مختلف قیمتیں وصول کرنے کے رجحان کو روکنا ہے۔

یہ قرارداد جلد ٹورنٹو کی ایگزیکٹو کمیٹی میں پیش کی جائے گی۔ اگر اسے منظوری ملتی ہے تو مستقبل میں آن لائن خریداری زیادہ شفاف، منصفانہ اور صارف دوست بن سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق Surveillance Pricing ایک ایسا آن لائن نظام ہے جس میں مصنوعی ذہانت (AI)، الگورتھمز اور صارفین کے ڈیجیٹل ڈیٹا کا تجزیہ کرکے یہ اندازہ لگایا جاتا ہے کہ کوئی مخصوص صارف کسی چیز کی زیادہ سے زیادہ کتنی قیمت ادا کرنے پر آمادہ ہوگا۔

اس کے بعد ممکنہ طور پر اسی صارف کو وہی چیز دوسرے صارف کے مقابلے میں زیادہ قیمت پر دکھائی جا سکتی ہے، حالانکہ دونوں ایک ہی وقت میں ایک ہی ویب سائٹ استعمال کر رہے ہوں۔

مثال کے طور پر اگر کسی خاندان کے بچوں کی تعداد زیادہ ہو اور وہ مستقل دودھ خریدتے ہوں، تو الگورتھم یہ اندازہ لگا سکتا ہے کہ وہ ہر صورت دودھ خریدیں گے، لہٰذا انہیں نسبتاً زیادہ قیمت دکھائی جائے۔

ٹورنٹو کی میئر اولیویا چاؤ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ریٹیلرز ہمارے ذاتی ڈیٹا کا تجزیہ کریں تو وہ تین بچوں کی مصروف ماں کو دودھ اسی لیے زیادہ قیمت پر فروخت کر سکتے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ وہ ہر ہفتے کئی کارٹن خریدتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہSurveillance Pricing کا مطلب یہ ہے کہ قیمت چیز کی نہیں بلکہ اس بات کی بنیاد پر طے ہوتی ہے کہ کون خرید رہا ہے اور کس وقت خرید رہا ہے۔

میئر کے مطابق اگر کسی صارف کو معلوم ہی نہ ہو کہ اسے دوسروں کے مقابلے میں زیادہ قیمت وصول کی جا رہی ہے تو یہ نہ صرف غیر شفاف بلکہ صارفین کے حقوق کے بھی خلاف ہے۔

میئر اولیویا چاؤ اور سٹی کونسلر الیخاندرا براوو اس قرارداد کو ٹورنٹو کی Executive Committee میں پیش کریں گے۔

قرارداد کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ایسے تمام ممکنہ طریقہ کار کی نشاندہی کی جائے جن کے ذریعے Surveillance Pricing پر پابندی عائد کی جا سکے یا اس کی روک تھام کے لیے قانونی اقدامات کیے جا سکیں۔

میئر چاؤ نے اسے Price Gouging یعنی ناجائز منافع خوری کی ایک جدید شکل قرار دیا۔

رواں سال مارچ میں صوبہ مانیٹوبا بھی اسی نوعیت کے آن لائن قیمتوں کے ماڈل کو “Predatory Pricing” یعنی استحصالی قیمتوں کا نظام قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف اقدامات کا اعلان کر چکا ہے۔ ٹورنٹو کی یہ تجویز اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی سمجھی جا رہی ہے۔

اگر یہ قرارداد آگے چل کر مؤثر قانون سازی کی صورت اختیار کرتی ہے تو اس کے ممکنہ فوائد میں چند اہم پیش رفت ہوسکتی ہے جسمیں تمام صارفین کے لیے زیادہ شفاف قیمتیں، ذاتی معلومات کی بنیاد پر قیمتوں میں امتیاز میں کمی، AI اور الگورتھمز کے استعمال پر زیادہ نگرانی، آن لائن خریداری میں صارفین کے اعتماد میں اضافہ اور ڈیجیٹل پرائیویسی کے تحفظ کو مزید مضبوط بنانا۔

دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت اور بڑے ڈیٹا (Big Data) کے بڑھتے استعمال کے ساتھ یہ سوال بھی اہم ہوتا جا رہا ہے کہ کیا کمپنیاں صارفین کی خریداری کی عادات، مقام، آمدنی، سرچ ہسٹری اور دیگر ذاتی معلومات استعمال کرکے مختلف افراد سے مختلف قیمتیں وصول کر سکتی ہیں اگرچہ کمپنیاں اسے جدید مارکیٹنگ کا حصہ قرار دیتی ہیں، لیکن ناقدین کے مطابق یہ طریقہ صارفین کے ساتھ غیر مساوی سلوک، پرائیویسی کی خلاف ورزی اور غیر شفاف کاروباری رویوں کو فروغ دے سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے